”پدر شاہی سماج“ کا گریبان اور حمیرا


کھوج اور تڑپ زندگی کا ایک ایسا جوالا ہے جس میں کچھ پانے کی ”ہوک“ ہمیشہ اتھل پتھل کرتی رہتی ہے اور یہی جوالا اپنے مکمل جوبن میں آنے سے ہمیشہ کتراتا ہے کہ اس کا جوبن کہیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہ بن جائے، انسانی وجود کو بچانے کا یہی لمحہ اسے پورے جوبن میں آنے سے روکے رکھتا ہے مگر سہما ہوا سا نظر آنے والا یہ شخص تلاش کی دھن اور کسک میں جستجو کے ہر در پر جاتا ہے اور کچھ نہ کچھ پانے کی کوشش میں جتا رہتا ہے، پدر شاہی سماج کے تھپیڑوں سے لڑنے کی یہی کوشش جب ”حمیرا اصغر“ کرتی ہے تو پدر شاہی سماج کی مختلف آوازیں اصل حقائق کو چبا جاتی ہیں۔ یہ پدر شاہی سماج کا وہ تعفن بھرا چہرہ ہے جس کے کروفر کی پوشاک کا میل اور تعفن ”حمیرا“ ایسی بیٹیاں زندگی دے کر چاک کر جاتی ہیں۔

کون کہتا ہے کہ وہ ہفتہ یا چھ سے سات ماہ قبل مر چکی تھی۔ یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں غلط کہہ رہے ہیں۔

مر تو وہ اسی دن گئی تھی جب اس گھن زدہ سماج کے رسم و روایت میں جکڑے فرسودہ خیالات کے گھرانے نے اس کے جینے کے حق کو چھین لیا تھا، گھر کے افراد مبینہ طور پر والد نے پدر شاہی کی گلی سڑی سوچ کے تحت اس کو اپنی آزادانہ سوچ میں جکڑنے کے تمام منفی جتن کیے تھے اور اسے فرسودہ رسم و رواج میں قید کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ تھی کہ اپنی فطری آزادی کے تمام خدو خال سے واقف ایک باشعور سماج کا فرد بننا چاہتی تھی، وہ فن و مصوری کی صحتمند آزادی کے طاقتور خیالات کو اس سماج کی ہر نسواں کی سوچ اور تندرست آواز بنانا چاہتی تھی، فیض نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ!

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

آج وہ مر کر بھی ”یادگار“ تھی اور اس کے خیالات کو قید کرنے والے آزاد اور زندہ رہ کر بھی سماج کا وہ طمانچہ بن چکے ہیں جس کی زناٹے دار آواز ان کے گال پر ہر لمحے پڑتی رہے گی اور انہیں زندہ رکھتے ہوئے بھی بے چین کیے رکھے گی، یہ اس سماج کی ”حمیرا اصغر“ ایسی کروڑوں بیٹیوں کا مسئلہ ہے جو اپنے تخلیقی جوہر کے ذریعے دنیا کو سنوارنا سجانا چاہتی ہیں مگر اس گلے سڑے تعفن زدہ سوچ کا سماج ایسی بیٹیوں کی تخلیق میں رکاوٹ بنتا ہے، بس نئے سماج قائم کرنے کی امید کی ”پو“ پھوٹنے کی راہیں اسی کشمکش سے نکلتی ہیں۔

اس سماج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جانے والے کے مضبوط ارادوں اور طاقتور پاؤں کا پیچھا کر کے جانے والے کی قدر و منزلت کے کھونے پر خود کو طمانچے مار مار کر ”دکھاوے“ کی دنیا کو خوش کرتا ہے اور کچھ عرصے بعد سب کچھ بھول کر دنیا کی رنگینی میں اپنے منفی خیالات کی سڑاند پھر سے سماج میں بھرنے کی تیاری کرتا ہے اور ایسے منفی خیالات کے لوگ اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب سماج کی کوئی اور ”بیٹی“ ان کی تعفن زدہ سوچ اور ہوسناکی کا شکار ہو کر ان کے مردہ ضمیروں کو نہ جگائے۔

سوال یہ ہے کہ اس سماج میں ناجائز دولت کے انبار کو کیوں طاقت سمجھ لیا گیا ہے؟ کیا یہ اس سماج کی پیدائشی خرابی ہے یا اس سماج کے افراد کو ”دولت کو طاقت“ سمجھنے کی تربیت سے بے حس اور چاپلوس بنایا جا رہا ہے؟ سماج کی سوچ اور اس کی ترقی کے زاویوں کا جائزہ لیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ سماج میں زمانے کی تبدیلی ہی سماجی سوچ اور اس کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ پھر ہم برسوں گزر جانے کے بعد بھی زمانے کی ترقی کا دعوی کرنے والے اپنی سوچ اور سماجی برتاؤ میں ابھی تک کیوں ”تبدیلی“ نہیں لا سکے ہیں؟ کیوں ہم دنیا کی سب سے طاقتور سمجھی جانے والی بیٹی، ماں یا بہن کو اس ترقی یافتہ دور میں بھی تیسرے درجے کا فرد سمجھتے ہیں؟

ھم سماجی طور سے شاید منافقت کی اس گھٹیا ترین سطح کی سوچ کے افراد بنا دیے گئے ہیں جو دولت اور چمک ہی کو اپنا ایمان جان کر اپنے رسم و روایت میں جاگیردارانہ، وڈیرانہ اور آمرانہ مزاج رکھ کر اپنی فطری و تعمیری صلاحیت کو کند کر کے تعمیری سوچ کو ”کھوکھلا“ اور ”تعفن زدہ“ کر رہے ہیں۔

کیا بھائی کے مبینہ حق غصب کرنے یا باپ کا مبینہ آمرانہ طرز عمل اس سماج کو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تخلیق کے تمام زاویوں سے آگاہ ”حمیرا اصغر“ دے پائے گا؟ تخلیق کے تمام پیراہن اور تعمیری سوچ کے ہم افراد اس سماج کے وہ بدبخت کردار بن کر رہ گئے ہیں جنہیں یہ آمرانہ طاقتور ریاست پوری طرح چلّانے بھی نہیں دیتی، ہماری بیٹی، بہن اور ماں کی کوکھ سے جنم لینے والا پدر شاہی سماج ہماری سوچ کے گلے کاٹ کر ہیرو تو بننا چاہتا ہے، طاقتوروں کا چاپلوس تو بننا چاہتا ہے مگر جنم دینے والی عورت کا تحفظ نہیں کر سکتا، ایسے انسانی حقوق کے سیوکوں اور عورتوں کے حقوق پر عالیشان سیمینار منعقد کرنے والوں پر ”حمیرا اصغر“ کا طمانچہ وہ کاری ضرب لگائے گا جو طاقت کے خدا مرتے دم تک وہ داغ نہ دھو سکیں گے۔ یاد رکھا جائے کہ وقت کا انتقام کسی بھی طاقتور کا ساتھ نہیں دیتا۔

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza

One thought on “”پدر شاہی سماج“ کا گریبان اور حمیرا

  • 13/07/2025 at 2:28 شام
    Permalink

    ادھوری معلومات پر مبنی یک طرفہ تحریر جس کا ماخذ محض میڈیا رپورٹنگ ہے

Comments are closed.