اندر کی اندھی گلیاں


ہمارے بیچ زندگی نہیں، ایک لمبی چیخ بسی ہوئی ہے، ایسی چیخ جو وقت کی گلیوں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے اور پھر سانسوں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ زینب مر گئی، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ یوسف نے خودکشی کی، خبر اگلے دن اخبار کے نچلے حصے میں شائع ہوئی، اور پھر سب بھول گئے۔ لوگ مر رہے ہیں، مگر مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ؛ ان کے خواب مر جاتے ہیں، محبتیں دم توڑ دیتی ہیں، رشتے قبر کی مٹی بن جاتے ہیں۔ ہر چہرہ زندہ لاش ہے، ہر مسکراہٹ ایک مومی نقاب، ہر گفتگو ایک رسمی کرتب۔ دلوں میں اندھیری کوٹھڑیاں ہیں جہاں اداسی نے اپنی جڑیں جما لی ہیں، اور روحیں بے آواز ماتم کر رہی ہیں۔

اگر آپ ایک لمحے کو رکیں، ہجوم کی آوازوں کے پیچھے سننے کی کوشش کریں، تو آپ کو سناٹے کی چیخ سنائی دے گی۔ یہ چیخ ہر اُس انسان کی ہے جو محبت کا، پہچان کا، اور اپنے وجود کی تصدیق کا بھوکا ہے۔ مگر وہ بھیڑ میں کھڑا ہے، بالکل منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرح۔

ہمارے اردگرد ہر زندگی ایک نوحہ ہے، ایک مرثیہ ہے، ایک اوپیرا، درد بھری داستان، منٹو کا فسانہ، دوستوئیفسکی کی تکلیف ہے، ہر دل دوستوئیفسکی کے رسکولنیکوف کی مانند اپنے ضمیر کی عدالت میں سزائے موت سن رہا ہے۔ ہر شخص منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرح سرحد کے بیچ کھڑا ہے، پاگل اور معصوم، اپنے حصے کی زمین، اپنے حصے کی آزادی تلاش کرتا ہوا۔ ہر چہرہ مسکراہٹ کی نقاب اوڑھے ہوئے ہے، ہر آنکھ میں ایک خاموشی ہے جو چیخ بن کر نکلنا چاہتی ہے مگر نکل نہیں پاتی۔ لوگ ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، کام کرتے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ مگر اگر آپ رک کر دیکھیں، دل کے کان کھولیں، تو معلوم ہو گا کہ ہر چہرہ ایک المیہ ہے، ہر وجود ایک اندھیری گلی ہے جہاں درد نے اپنا ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔

کوئی چیخوف کے ”انکل وانیہ“ کی طرح زندگی کے چھوٹے چھوٹے خوابوں میں دم توڑ رہا ہے، تو کوئی کافکا کے گریگور سامسا کی طرح انسان سے حشرات میں بدل چکا ہے مگر پھر بھی چاہتا ہے کہ کوئی اسے سنے۔ نطشے کے زرتشت کی گونج ہر زخم میں سنائی دیتی ہے، ”جو مجھے نہیں مار سکتا، وہ مجھے مضبوط کرتا ہے۔“ مگر سچ یہ ہے کہ ہر شخص روز تھوڑا تھوڑا مر رہا ہے۔ نطشے کہتا ہے کہ ”وہ لوگ جو چیخ نہیں سکتے، وہ اندر ہی اندر مر جاتے ہیں۔“

یہ مرنا روز ہوتا ہے۔ ایک لفظ نہ کہہ پانے کا دکھ انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی خودنوشت Out of Place میں اعتراف کیا تھا کہ بچپن سے وہ ”کسی خلا میں“ محسوس کرتے تھے، جیسے کوئی ان کی بات سننے کو موجود ہی نہ ہو۔ آج ہم سب کے گرد ایسے لوگ ہیں، لیکن ہمیں فرصت کہاں کہ ان کے قریب جا سکیں؟

سارتر کے ”No Exit“ کا جہنم ہمارے رشتوں کے کمروں میں قید ہے، جہاں ہم سننے کے بجائے فیصلہ سناتے ہیں۔ کامیو کا میرسو اس بھیڑ میں بھی تنہا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ زندگی کی سب سے بڑی بغاوت یہی ہے کہ ہم کسی کو مکمل سن لیں۔ ٹالسٹائی کے جنگی میدانوں کی گونج آج دفاتر، سڑکوں، گھروں کے اندر سنائی دیتی ہے، جہاں ہر شخص اپنی ”جنگ“ لڑ رہا ہے۔

ایک دن ابراہام لنکن کے پاس ایک شخص آیا۔ وہ گھنٹوں اپنی زندگی کی کہانی سناتا رہا، زخم دکھاتا رہا۔ لنکن نے بس سنا، ایک لفظ نہیں کہا۔ جب وہ شخص جانے لگا تو کہنے لگا، ”مسٹر لنکن، آپ نے میری زندگی بچا لی۔“ لنکن نے حیرت سے پوچھا: ”میں نے کیا کیا؟“ وہ بولا ”آپ نے مجھے بولنے دیا، اور یہی کافی تھا۔“

لنکن کی خاموشی آج سب سے بڑی دعا ہے۔ وہ دعا جو اس نے اس اجنبی کو دی تھی جس کی زندگی وہ صرف سن کر بدل گیا تھا۔ وکٹر فرانکل کی ”مینز سرچ فار میننگ“ ہر روح کی پکار بن چکی ہے، ”کوئی ہو جو میری کہانی سنے تاکہ میں بچ سکوں۔“

دوستوئیفسکی نے لکھا تھا، ”سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ انسان اپنے دل کی بات کسی سے نہ کہہ سکے۔“

یہ عذاب آپ کے اردگرد ان لاکھوں لوگوں کا ہے جو بظاہر ٹھیک نظر آتے ہیں، لیکن اندر ہی اندر ٹوٹے ہوئے ہیں۔ رومی نے ایک بار کہا تھا، ”جب لوگ بات کرتے ہیں تو دراصل وہ دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں سنے، کوئی ان کے اندر کے شور کو محسوس کرے۔“ لیکن افسوس، ہم نے اپنے کان بند کر لیے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں شور اتنا زیادہ ہے کہ ہم کسی اور کی خاموش چیخوں کو نہیں سن پاتے۔

چیخوف کے بقول، ”کسی کو سننا گویا اس کے دل کی سب سے گہری چیخ کو تھام لینا ہے۔“ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ ہر بار مشورہ دینا ضروری نہیں، ہر بار حل پیش کرنا ضروری نہیں۔ خالد حسینی کے The Kite Runner کے کردار حسن کی طرح بعض لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں سن لے۔ وہ کہتے ہیں، ”کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر کوئی مرہم نہیں، ان کا علاج صرف یہ ہے کہ انہیں بیان کرنے دیا جائے۔“ ژاں پال سارتر یاد دلاتے ہیں کہ ”جہنم دوسرے لوگ نہیں، جہنم وہ لوگ ہیں جو سننے کے بجائے جج کرتے ہیں۔“ ہمارا رویہ اکثر دوسروں کے زخموں کو اور گہرا کر دیتا ہے۔

ٹالسٹائی نے کیا خوب کہا تھا، ”جب آپ کسی کو دل سے سنتے ہیں تو آپ اس کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔“ ہم دوسروں کی کامیابیوں پر تالیاں بجاتے ہیں، تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندھیروں میں ساتھ دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ قرۃالعین حیدر نے آگ کا دریا میں کہا تھا، ”ہر انسان ایک الگ المیہ ہے، جس کی چیخ صرف وہی سن سکتا ہے جو خود کبھی چپ چاپ رویا ہو۔“ یہ المیے تبھی کم ہوں گے جب ہم بولنے کے ساتھ ساتھ سننا بھی سیکھ لیں۔

وکٹر فرانکل نے لکھتے ہیں، ”جب آپ کسی کو اس کا درد بیان کرنے کا موقع دیتے ہیں تو آپ اس کی بقا میں شریک ہو جاتے ہیں۔“ ، یاد رکھیے، ہر شخص جو آپ سے ملتا ہے، اپنی انجانی جنگ لڑ رہا ہے۔ شاید وہ آپ کو کبھی نہ بتائے، لیکن اگر آپ کے رویے میں نرمی ہو، اگر آپ دل کے کان کھول سکیں تو ہو سکتا ہے ایک دن وہ بول پڑے۔ اور شاید آپ کا سننا ہی اس کی زندگی بدل دے۔

دوستوئیفسکی کے الفاظ ایک بار پھر کانوں میں گونجتے ہیں، ”کسی انسان کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ اسے ایک سننے والا مل جائے۔“

Facebook Comments HS