معاشرتی مردانگی: جب میں خود سے دور ہوا

میں نے اپنے بچپن کا ایک اہم حصہ ہسپتال کے اِک کمرے میں لیٹے پردوں میں پڑی سلوٹوں کو گنتے بِتایا۔ اس عرصے میں، میں نے مرد کے نام پر صرف اپنے باپ کو دیکھا جو کہ ایک نہایت شریف آدمی تھے اور میرا مردوں کے بارے میں یہ نظریہ قائم ہو گیا کہ شاید تمام مرد ایسے ہی بھلے ہوتے ہیں۔ اسی نظریہ کو ساتھ لیتے ہوئے میں نے اپنا بچپن گزارا۔ شاید میرا نظریہ اب تک اس لیے

Read more

ہاف کپ چائے

میں اور میرا دوست اکثر اپنے فری لیکچر یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا کی مخصوص ٹیبل پر مختلف موضوعات پر اس طرح بحث کرتے گزارتے جیسے تمام مسائل کا حل یہی ملنا ہے۔ اس آدھے گھنٹے میں ہم وہ تمام موضوع زیر بحث لاتے جس کا حل تقریبا ناممکن تھا۔ جس میں ملکی سیاست سے لے کر گھریلو سیاست آجاتی درمیان میں کہیں اساتذہ کی زیادتی اور ساتھی لڑکیوں کی غیر ضروری تیاریاں بھی گفتگو کا حصہ ہوتیں۔ کبھی لڑکوں کا

Read more