خیبرپختونخوا میں تبدیلی کی سرگوشیاں!


مخصوص نشستوں کا حتمی فیصلہ آ جانے کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاست کی راہداریوں میں سرگوشیوں کا آغاز ہو چکا ہے، سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس میں ہر فریق ہمہ وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ وہ مخالف فریق کو کب پچھاڑ دے، وہ اس کی سیاسی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے اور اس کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی غلطی کا انتظار کرتا ہے، بھٹو جیسے ذہین و فطین مانے جانے والے سیاستدان نے 1977 کے انتخابات میں جیسے ہی غلطی کا ارتکاب کیا، اپوزیشن نے اس غلطی کو تحریک میں ڈھال دیا، بعد میں اگرچہ اس عوامی تحریک کے پس پردہ سازشوں کے گھناونے کھیل کھیلے گئے، تاہم غلطی بہرحال بھٹو سے ہی ہوئی تھی۔

سیاست کا فلسفہ سمجھنے کا ہوتا ہے، سارے فلسفے اسی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں، سیاست میدان عمل کے ساتھ ساتھ ایک اعصاب شکن تھیوری بھی ہے، سیاست میں جس طرح ہردم جواں، پہیم رواں رہنا پڑتا ہے اسی طرح اس میں اعصابی قوت کا توانا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، سیاست کی ذمہ داریوں کا بوجھ کاندھے نہیں دماغ اٹھاتا ہے، کس وقت کیا کرنا ہے، کب اور کیسے کرنا ہے، آج کی پالیسی کیا ہو اور کل کی منصوبہ بندی کیسی ہو، یہ سارے چشمے ایک توانا دماغ کے گوشوں سے ہی پھوٹتے ہیں، جو حالات کے نبض پر ہاتھ رکھے بروقت فیصلہ سازی کا موجب بن جاتے ہیں۔ سیاست میں یہ بہت اہم ہے کہ لوہے پر ضرب کب لگانی ہے۔

پاکستان میں چونکہ جمہوریت ہمیشہ برائے نام رہی ہے، کنٹرولڈ ڈیموکریسی نے یہاں کے سیاسی مزاج کو یکسر مختلف کر دیا ہے، یہاں کبھی چلتے طوفان جو بہت کچھ بہا کر لے جانے کا تاثر دیتے ہیں، اچانک ایسے تھم جاتے ہیں جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے، اور کبھی کبھی ہوا کا ایک معمول کا جھکڑ بھی طوفان بن کر سیاست کی وادی میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سبب بن جاتا ہے۔

جب باجوہ ڈاکٹرائن کی تشکیل ہوئی اور اس ڈاکٹرائن نے بظاہر ایک طویل المدت پالیسی کے تناظر میں تحریک انصاف کی حکومت تشکیل دی، تو کسے گمان تھا کہ دس سے پندرہ سالہ یہ ڈاکٹرائن پالیسی ساڑھے تین سالوں میں زمین بوس ہو جائے گی اور اس کا اصل کردار اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو گا۔

عمران خان کبھی بھی سیاستدان نہ تھا، سیاستدان کا اصل امتحان اس کی طاقت میں آنے کے بعد شروع ہوتا ہے، عمران کی طاقت میں آنے کا پہلا فیصلہ عثمان بزدار کی شکل میں نمودار ہوا جس سے اس کا وہ قریبی حلقہ ٹوٹ گیا جو عمران کو اقتدار میں لانے کے مرکزی کرداروں میں شامل تھا، اس فیصلے نے نہ صرف ان کے سیاسی رفیقوں کو بددل کیا بلکہ اس کے اصل مربی و سرپرست بھی اس فیصلے سے نالاں نظر آئے، اس کمزور اور ناکام فیصلے کے بعد غلطیوں بلکہ احمقانہ پن کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بن گیا۔

اپنے تمام دور حکومت میں بڑھکیں ہی مارتا رہا، ملک کو کوئی ایک بھی ایسا منصوبہ نہیں دے سکا جسے یاد رکھا جائے، سیاسی اخلاقیات کی بنیادیں تباہ کر دیں، اور اوئے اوئے کلچر کو متعارف کرایا، نئے انتخابات میں لے دے کے جب خیبر پختونخوا کی حکومت ملی تو عمران خان یہاں عثمان بزدار کی غلطی سے بھی کئی گنا بڑی غلطی کر بیٹھے، خیبرپختونخوا کی بھاگ دوڑ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دی جو سیاستدان کم اور گلی کا غنڈہ زیادہ لگتا ہے، جبکہ اس وقت یہی شخص عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کی جانے والی سیاسی تحریک کے منظم ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امین گنڈاپور عمران مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے تانے بانے بن رہا ہے اور اس کا ادراک پی ٹی آئی کے تمام ذمہ دار حلقوں کو ہو چکا ہے، یہ علی امین گنڈا پور ہی تھے جو اپنے اشتعال انگیز بیانات، بدکلامی اور زبان و بیان کی غلاظت سے جے یو آئی اور تحریک انصاف کی قربت میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں میں لگے رہے، جیسے ہی جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے مابین برف پگھلنے لگے تو علی امین کے سرپرست ان سے اشتعال انگیز بیانات دلوا کر دوری پیدا کر دیتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے سیاست میں جس شائستگی اور وقار کو فروغ دیا ہے وہ سیاست کے نصاب میں شامل کرنے کے لائق ہیں، علی امین سے قبل بانی کا اپنا لب و لہجہ کیا تھا، اس سے کون واقف نہیں ہے، مولانا نے ہمیشہ سیاسی میدان میں مقابلہ کیا، ساڑھے تین سال تک تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کی، مگر سخت ترین مخالف کے خلاف بھی زبان و بیان کا جو اسلوب مولانا کی طرز گفتگو کا خاصہ رہا ہے وہ خود ایک الگ انسٹیٹیوٹ کا درجہ رکھتا ہے، سیاست میں مخالف کو زچ کرنے کے لیے اردو ادب سے معیاری طنز کبھی بھی معیوب نہیں رہا ہے لیکن تحریک انصاف کے سیاسی تھڑے کے مکین ہمیشہ گندے نالوں سے الفاظ مستعار لے کر سیاست کی شائستگی پر اچھالتے رہے۔

مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا میں پارلیمانی توازن اوپر سے نیچے ہوا ہے، یقیناً ہر جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے لیکن اس کے باوجود جے یو آئی نے پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں کسی بھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا البتہ جے یو آئی نے پہلے دن سے یہ اشارہ ضرور دیا کہ علی امین گنڈا پور کے معاملے کو وہ کسی اور زاویے سے دیکھ رہے ہیں، یعنی پی ٹی آئی اگر چاہتی ہے کہ اس کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ آئے تو پھر ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے علی امین گنڈا پور کو ہٹانا ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ دنوں پشاور میں پریس کانفرنس کے ذریعے ملک کے تین صوبوں میں بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا اور با الخصوص کے پی کے، کی بدامنی موضوع سخن رہا، کے پی کے میں گورننس کی کمزوریوں پر مولانا نے ہمیشہ کھل کر اپنا موقف دیا ہے، اس پریس کانفرنس میں مولانا نے پی ٹی آئی کو ان ہاؤس تبدیلی کا واضح پیغام دے کر محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی، جس پر علی امین گنڈاپور سیخ پاء ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور شرطیں لگانے پر اتر آئے، یہ مرغوں کی لڑائی نہیں ہے کہ جس میں شرطوں سے سیاست کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے ہوں، یہ سیاست ہے جس کا ہر داؤ نرالا ہے، اس میں کبھی ہار ہوتی ہے تو کبھی جیت۔

مولانا یا اس کی جماعت نے کبھی بھی کسی پارلیمانی نشست پر ناقابل تسخیر ہونے کا دعوی نہیں کیا ہے، علی امین گنڈاپور کو اندازہ ہو چکا ہے کہ مولانا فضل الرحمن جو گفتگو کرتے ہیں وہ ہمیشہ نتیجہ خیز رہتی ہے، 2018 کے بعد مولانا نے عمران خان کی حکومت کے خلاف جس تحریک کا آغاز کیا اسے منطقی انجام تک پہنچایا، حالانکہ وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی بلکہ باجوہ ڈاکٹرائن کی مکمل منصوبہ بندی تھی اور پوری اسٹیبلشمنٹ اپنی تمامتر قوت کے ساتھ اس کی پشت پر کھڑی تھی، گو کہ علی امین گنڈا پور کی وزارت اعلی کی پشت پر بھی مقتدرہ کھڑی ہے کیونکہ علی امین کا وزیر اعلی ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کی کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوگی، لیکن جس طرح کی فضاء بن گئی ہے اس میں علی امین کا جانا ٹھہر گیا ہے بصورت دیگر عدم اعتماد کی شکل میں پوری تحریک انصاف کی حکومت گھر جانے کی تیاری کرے، علی امین گنڈاپور اس وقت اپوزیشن سے زیادہ تحریک انصاف کا درد سر بن گیا ہے، اب یہ ان پر ہے کہ وہ ان ہاؤس تبدیلی لاکر اس درد سر سے جان چھڑا کر اپنی حکومت بچائیں گے یا ماضی کی احمقانہ پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھ کر اپنی حکومت کو گھر بھیج کر سڑکوں پر احتجاج کے نام پر سیاسی ذلت کا سامنا کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS