چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بورے والا
جون 1981 تک میجر صاحب اپنی رہائش بوریوالا میں منتقل کر چکے تھے اور سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے میں بھی اُن کے ساتھ وہیں پر ہی قیام پذیر تھا۔ ایک دن صبح ہی مجھے بلایا اور کہا کہ، گاڑی کا بندوبست کرو۔ ہم لوگ سی ایم ایچ ملتان جا رہے ہیں۔ کیوں کہ مجھے صبح سے ہی سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے۔ میجر صاحب بھی کیا درویش صفت انسان تھے۔ فوج میں سروس کے دوران اپنا بائیسکل بھی خریدنے کی توفیق نہ ہوئی۔ بلکہ اس بات کا اظہار بھی فخریہ کیا کرتے کہ جہاں بھی جاتے ہیں آرام سے سی ایس ڈی سے کرائے پر سائیکل لے لیتے ہیں اور تبادلے کے وقت یہ سائیکل انہیں واپس کر کے نئی جگہ پر جا کر وہاں سے نیا سائیکل کرائے پر لے لیتے ہیں۔
بورے والا میں اپنے قیام کے دوران اُن کے پاس کسی بھی قسم کی کوئی سواری موجود نہ تھی لیکن جب کبھی بیرون ِ شہر جانا ہوتا تو اپنی قلیل سی آمدنی کے باوجود گاڑی پر ہی جایا کرتے تھے۔ میں کرائے پر گاڑی لے کر گھر پہنچا تو بولے کہ درد تو اب ختم ہو چکی ہے لیکن چلو پھر بھی سی ایم ایچ کا چکر لگا ہی آتے ہیں۔ سی ایم ایچ ملتان او۔ پی۔ ڈی میں متعلقہ ڈاکٹر نے انہیں چیک کر کے افسر وارڈ میں داخل کر دیا۔ جونہی ہم لوگ وارڈ میں پہنچے وہاں پر دو وارڈ بوائے سٹریچر لیے ہوئے کھڑے تھے۔ میں کیوں کہ آگے آگے جا رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے مجھے پکڑ کر سٹریچر پر لیٹنے کو کہا، میں نے انہیں بتایا کہ آپ لوگوں کے مریض پیچھے آرہے ہیں۔ بہرحال میجر صاحب کو وارڈ میں داخل کر کے ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔
شام کو وارڈ کے سامنے بنائے گئے گراسی گراؤنڈ میں ہم لوگ کرسیاں ڈالے بیٹھے ہوئے تھے کہ میجر صاحب کے ایک پرانے رفیق کار کرنل فراز اُن سے ملنے آ گئے۔ جو لاہور سے تعلق رکھتے تھے۔ دیر تک وہ بیٹھے اپنی پرانی یادوں کا ذکر کر کے خوش ہوتے رہے۔ جب کرنل فراز اُٹھنے لگے تو اچانک ہی میجر صاحب کو تایا جان یاد آ گئے جو ان دنوں سنٹرل جیل ملتان میں بند تھے۔ ہمارے تایا ڈاکٹر شیر علی پاکستان پیپلز پارٹی بوریوالا کے صدر تھے۔ یہ ضیاء الحق کا دورِ حکومت تھا اور اُن دنوں پاکستان پیپلز پارٹی آج کی پی ٹی آئی کی طرح زیر عتاب تھی۔ ورکروں اور لیڈروں کو جیلوں میں ڈالنا اور سرعام ننگا کر کے انہیں کوڑے لگانا ایک عام وتیرہ تھا اور ہمارے تایا جان بھی اسی سلسلے میں ہی ملتان سنٹرل جیل میں بند تھے۔
میجر صاحب نے ساری صورتِ حال کرنل فراز کے گوش گزار کی اور ساتھ ہی اُسے کہا کہ ہم انہیں جیل سے نکلوانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کیا طریقِ کار ہو گا۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ خالد تم کل صبح میرے پاس دفتر آ جاؤ جو بھی طریقِ کار ہو گا ہم پتہ کروا لیں گے۔ حسبِ پروگرام میں اگلے دن صبح 9 بجے کے قریب اُن کے دفتر جا پہنچا۔ اس وقت وہ اپنی آفس چیئر کو چھوڑ کر ایک صوفے پر بیٹھے ہوئے قرآن پاک کی تفسیر پڑھ رہے تھے۔
مجھے دیکھ کر اشارے سے بیٹھنے کو کہا اور خود پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد مطالعہ کا سلسلہ ختم کر کے اپنی کرسی پر آ بیٹھے اور مجھے بھی اپنے پاس ہی بلا کر بٹھا لیا اور بولے دیکھو میرا کام کرنے کا طریقہ صبح صبح اپنے چاروں بیٹری کمانڈر میجرز کو بلایا اُن کی اچھے طریقے سے جھاڑ پٹی کی تم نکمے ہو، نا اہل ہو، ناکارہ ہو، لاعلم ہو۔ تمہیں کام کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد انہیں کہا کہ چلو جاؤ اور اپنا اپنا کام اچھے طریقے سے کرو اور اب وہ شام تک بھاگتے دوڑتے رہیں گے اور میں یہاں پر بالکل فارغ بیٹھوں گا۔ قرآن گا مطالعہ کروں گا۔ تفسیر پڑھوں گا۔ نماز کی ادائیگی کروں گا۔ تم میرے میز کو دیکھ سکتے ہو یہ بالکل خالی پڑا ہے۔ اس پر کوئی فائل موجود نہیں ہے اور ایک تمہارے بھائی صاحب ہیں کہ کام کو اپنی جان کا روگ بنائے رکھتا ہے۔ یہ بھی کرلوں وہ بھی کرلوں اور اب جان کو روگ لگائے بیٹھا ہوا ہے۔
مجھے پہلی بار اس بات کا علم ہوا کہ اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے ہوئے اپنے ڈیوٹی ٹائم میں تفسیر اور قرآن کا مطالعہ کرنا بھی ثواب کے زمرے میں آتا ہے۔ غالباً ایسی طرز فکر کا یہ زمانہ آغاز تھا اور اس کے بعد یہ وائرس تمام سرکاری محکموں میں کچھ اس قدر تیز رفتاری سے پھیلا کہ ہر محکمہ ہی نکما اور ناکارہ ہوتا چلا گیا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت وقت اب ہر محکمے سے ہی جان چھڑانا چاہتی ہے۔ صحت، تعلیم، ریلوے، پی آئی اے، ایف بی آر، واپڈا، غرض یہ کہ کوئی بھی حکومتی ادارہ ایسا نہیں ہے جسے حکومت برضا و رغبت برقرار رکھنا چاہتی ہو۔
کرنل فراز نے اپنے ایک ماتحت میجر جنجوعہ کو بلایا اور اُسے میرے بارے میں بتایا کہ یہ میجر ارشاد کے بھائی ہیں۔ ان کے تایا جی سیاسی راہنما ہونے کی وجہ سے ملتان جیل میں بند ہیں ان کو ساتھ لے کر مارشل لا آفس جاؤ اور طریقِ کار پتہ کرو کہ کس طرح انہیں جیل سے باہر لایا جاسکتا ہے۔ ہم لوگ مارشل لاء کے دفتر پہنچے اور وہاں پر متعلقہ میجر صاحب سے ملے اور انہیں مدعائے دل سنا کر اُن کی مدد کے طالب ہوئے۔ انہوں نے اپنے میز کا دراز کھول کر اس میں سے ایک فارم نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ اسے پر کر کے ڈی سی صاحب سے سائن کروا کر لے آؤ۔ ہم لوگ آپ کے تایا جان کو چھوڑ دیں گے۔
حسب ہدایت میں وہ فارم لے کر رات تک بوریوالا پہنچ گیا۔ اگلے دن صبح سویرے نہا دھو کر میں نے اپنی بہترین پینٹ شرٹ زیب تن کی اور ڈی سی سے ملنے کے لیے تیار ہو گیا۔ بس میں وہاڑی جاتے ہوئے میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص نے مجھ سے دریافت کیا کہ وہاڑی کیسے جا رہے ہو۔ وہ شخص میرا واقف کار تھا میں نے اُسے بتایا کہ میں ڈی سی سے ملنے جا رہا ہوں۔ اس کے لیے یہ بات بہت حیرانی کی تھی کہ مجھ جیسا ایک جوان سا لڑکا ڈی سی سے ملے گا۔ اس نے اس حیرت کا اظہار بھی کیا لیکن میں نے اُسے بتایا کہ میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ویسے بھی میں یہاں پر اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ مجھے اپنی پوری زندگی میں کسی بھی افسر سے ملنے میں کبھی کوئی جھجک نہیں رہی۔
ڈی سی آفس پہنچا اور برآمدے میں پڑی ہوئی ایک میز کے اُوپر رکھی گئی ایک چٹ اُٹھائی اور اس پر لکھا خالد جاوید ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ مڈل سکول چک نمبر 315 ای بی اور چپڑاسی کو پکڑ ا دی کہ اندر جاکر صاحب کو دے آئے۔ اب چپڑاسی نے سر سے پاؤں تک میرا بغور جائزہ لیا کچھ دیر سوچا پھر میری طرف دیکھا اور آخر کار سر کھجاتا ہوا اندر چلا گیا۔ وہ تھوڑی دیر بعد ہی واپس آ گیا اور حیرانی سے بولا، صاحب آپ کو اندر بلا رہے ہیں۔
اُن دنوں اقبال ندیم یہاں پر ڈپٹی کمشنر ہوا کرتے تھے۔ اُن کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت جلد غصے میں آ جاتے ہیں۔ میں جب دفتر میں اُن کے پاس پہنچا تو وہ بڑی حیرانی سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ اسی کیفیت میں ہی انہوں نے دریافت کیا کہ یہ چٹ آپ نے بھیجی ہے، میں نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو بولے کیا واقعی آپ ہیڈ ماسٹر ہیں۔ میرے اثبات میں جواب دینے پر اُن کے منہ سے فی البدیہ یہ جملہ نکلا کہ اتنا خوبصورت اور نوجوان ہیڈ ماسٹر میں نے زندگی میں آج پہلی بار دیکھا ہے بولو کیا کام ہے۔
میں نے انہیں اپنے تایا جان کے بارے میں بتایا کہ وہ پیپلز پارٹی کے کہنہ سال سیاسی رہنما ہیں اور ملتان جیل میں بند ہیں۔ قطعہ نظر سیاسی وابستگی کے وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور اُن کی رہائی کے لیے مارشل لا آفس ملتان والوں نے یہ فارم سائن کروانے کے لیے آپ کے پاس بھجوایا ہے۔ اس نے کسی بھی لیت و لعل کے بغیر وہ فارم فوراً ہی سائن کر دیا۔ اب میں خوشی خوشی اس فارم کو لے کر کرنل فراز کے پاس ملتان پہنچا۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے رابطہ کرنے کے بعد مجھے بتایا کہ تم فوراً سنٹرل جیل چلے جاؤ۔
وہاں پر سپرنٹنڈنٹ جیل تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ میں سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفتر پہنچا وہاں پر میرے تایا جی ڈاکٹر شیر علی بھی موجود تھے۔ مجھے گلے لگا کر خوب گرم جوشی کے ساتھ ملے گھربار کا حال احوال دریافت کیا میں نے وہ فارم جیل سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کر دیا۔ فارم کو دیکھا، پڑھا اور اسے میز پر رکھ کر ڈاکٹر صاحب سے کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب اس فارم پر آپ یہاں دستخط کر دیں۔
یہ بات سن کر ڈاکٹر صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اگر معافی مانگ کر ہی مجھے باہر آنا تھا تو وہ تو مجھے پہلے دن سے ہی کہہ رہے ہیں کہ یہاں پر دستخط کرو اور گھر چلے جاؤ۔ تم اب واپس گھر چلے جاؤ میں اس طرح تحریری معافی نامہ دے کر جیل سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ شہر کے لوگ کیا کہیں گے میں نے کاغذ پر موجود وہ کالم انہیں پڑھ کر سنایا جس میں تحریر تھا کہ میں کسی بھی قسم کی ملک دشمن سرگرمی کا حصہ نہیں بنوں گا لیکن وہ یہ بات تسلیم کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھے اور اسی بے جا ضد کی وجہ سے انہیں مزید دو ماہ جیل میں گزارنا پڑے۔ ڈاکٹر صاحب عجیب آزاد منش انسان تھے۔
1964 کے صدارتی الیکشن کے وقت وہ بی ڈی ممبر تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اس صدارتی الیکشن کے رجسٹرڈ ووٹر تھے اور ببانگ دہل اعلان کر رہے تھے کہ میں نے اپنا ووٹ محترمہ فاطمہ جناح کو ڈالنا ہے۔ جس کے مخالف امیدوار صدر ایوب تھے۔ الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے جب اُن پر دباؤ پڑنا شروع ہوا تو جھولے میں دو جوڑے کپڑوں کے ڈال کر ہمارے گاؤں چلے آئے۔ دو تین دن یہاں ٹھہرنے کے بعد اس سے بھی آگے ہمارے رشتہ داروں کے پاس چک نمبر 309 ای بی میں چلے گئے۔
الیکشن والے دن صبح صبح وہاں سے ایک نوجوان کو اپنے ساتھ لیا۔ جس نے آپ کو سائیکل پر بٹھا کر لاری اڈے پر چھوڑا۔ وہاں سے بس میں بیٹھ کر سیدھے وہاڑی پہنچے اور محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں ووٹ ڈال کر واپس آ گئے۔ اس واقعے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ایک سرکاری گاڑی اُن کے گھر کے سامنے رُکی۔ جس میں باقاعدہ پولیس فورس اپنی وردیوں میں موجود تھی اور ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ آپ کو گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خاں نے بلایا ہے۔ بلا چوں و چرا اپنا سفری بیگ لے کر گاڑی میں بیٹھ گئے اور گاڑی سیدھی گورنر ہاؤس لاہور جا رُکی۔ اس وقت گورنر امیر محمد خان حکومت کے مخالفین کے لیے دہشت کی علامت ہوا کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کو گورنر کے پاس لے جایا گیا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد گورنر نے دریافت کیا آپ نے الیکشن میں ووٹ کس کو دیا تھا۔ انہوں نے بلاخوف و خطر بتایا کہ محترمہ کو ۔ گورنر نے اُن کے اس رویے پر بڑی حیرانی سے پوچھا کیوں، آپ کو پتہ نہیں تھا کہ ہمارا اُمید وار تو صدر ایوب خان ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے تحمل سے کہا، مجھے بالکل علم تھا اور میں نے محترمہ کو چوری چھپے ووٹ نہیں دیا بلکہ علی الاعلان اس لیے دیا ہے کہ وہ مادرِ ملت ہے اور کم از کم میں تو اپنی ماں کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف نہیں جاسکتا تھا۔ گورنر امیر محمد خان کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہے۔ اس کے بعد اپنے پی۔ اے کو بلا کر ہدایت کی کہ ڈاکٹر صاحب کو باعزت طریقے سے بوریوالا پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں اور ڈاکٹر صاحب کو گورنر کی جھنڈے والی گاڑی میں بٹھا کر عزت و احترام کے ساتھ اُن کے گھر پہنچا دیا گیا۔
آپ نے بوریوالا میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ملک میں صدر ایوب خان کی فوجی حکومت پورے جبرو استبداد کے ساتھ قائم و دائم تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ان آٹھ دس لوگوں نے مل کر ای بلاک کے رہائشی ایک خان صاحب کو سو روپے ماہوار پر ملازم رکھا۔ جو پڑھائی لکھائی کا کام کیا کرتا تھا کیوں کہ باقی سب لوگ تو ان پڑھ تھے۔ عارف بازار میں ڈاکٹر صاحب کی دکان کے قریب ہی ہمارے گاؤں کے رہائشی اسماعیل کی دکان کے اُوپر ایک چوبارہ پارٹی کے دفتر کے لیے مفت میں ہی حاصل کر لیا اور یہیں سے پاکستان پیپلز پارٹی بوریوالا نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ جب پاکستان میں پی پی پی کی حکومت وجود میں آئی تو ڈاکٹر صاحب اس وقت بھی اپنی پارٹی کے صدر رہے اور اس دور حکومت میں بھی وہ اپنی خدمات صحیح معنوں میں سر انجام دیتے رہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے شہر کے ایک معروف ڈنٹسٹ تھے۔
آٹھ کنال کے وسیع و عریض رقبے میں بنائے گئے اپنے ذاتی گھر میں رہائش پذیر تھے۔ جب سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو ظاہر ہے کہ دکان سے توجہ ختم ہو گئی۔ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے اُن کا اپنا ذاتی خرچہ بھی بڑھ گیا۔ جب کبھی روپے پیسے کی تنگی محسوس ہوتی تو اپنے آٹھ کنال کے رہائشی پلاٹ سے پانچ دس مرلے جگہ فروخت کر کے اپنے ذاتی اخراجات پورا کر لیا کرتے۔ اُن کی پارٹی کے دورِ حکومت میں بھی اُن کا یہی رویہ رہا۔ بعض لوگوں نے اقتدار کی اس بہتی ہوئی گنگا میں خوب مل مل کر اپنی غربت کی میل اُتاری لیکن ڈاکٹر صاحب بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ لوگوں نے اقتدار میں آ کر زمینیں جائیدادیں بنائی ہیں لیکن ہم نے فروخت کی ہیں۔
ڈاکٹر ارشد بتا رہے تھے کہ ایک رات ایک ڈیڑھ بجے انہیں ڈاکٹر صاحب کے گھر سے فون آیا کہ اُن کی طبیعت خراب ہے وہ فوراً اپنی ایمرجنسی کٹ کے ساتھ وہاں پہنچا اُن کا طبی معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ دل کا عارضہ ہے۔ اس نے انہیں دوائیاں دیں اور انجیکشن بھی دے دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب سو گئے تو ارشد بھی اُن کی حالت کے پیشِ نظر وہیں پر سو گیا۔ صبح جب ارشد کی آنکھ کھلی تو اُن کا مریض موجود نہیں تھا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ صبح سویرے کوئی پارٹی ورکر آیا تھا۔ جس کا وہاڑی میں کوئی کام پھنسا ہوا تھا۔ وہ تو اس کے ساتھ بس پر بیٹھ کر وہاڑی چلے گئے ہیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بورے والا کی مہر ہر وقت اُن کی جیب میں موجود ہوتی جہاں ضرورت پڑتی وہیں وہ درخواست پر مہر لگا کر گھگی مار دیا کرتے تھے۔ جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کر کے ضیاء الحق نے مارشل لا لگایا تو پی پی پی راہنماؤں پر سختیاں شروع ہوئیں۔ کارکنان کو سرِ عام ننگا کر کے کوڑے لگائے جاتے اور راہنماؤں کو جیل میں ڈالا جاتا تو ڈاکٹر صاحب کو بھی اسی زمرے میں سنٹرل جیل ملتان بند کر دیا گیا اور جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔
مارشل لائی حکومت گاہے بگاہے سیاسی لیڈروں کو نظر بند کرتی ہی رہتی۔ ڈاکٹر صاحب کی نظر بندی کے احکامات جاری ہوتے پولیس اُن کے گھر پر آ کر انہیں اس بارے میں مطلع کرتی تو وہ پولیس کو بیٹھک میں بٹھاتے۔ بچوں کو پانی وغیرہ پلوانے کا کہہ کر خود گھر جا کر نہا دھو کر تیار ہوتے اور اپنا کپڑوں والا بیگ اُٹھاتے جو اس مقصد کے لیے ہمہ وقت تیار ہی ہوا کرتا تھا اور وہ باہر آ کر پولیس کے ساتھ چل پڑتے۔
وطن عزیز میں غریب اور متوسط طبقے کا سیاست میں فعال کردار ادا کرنے والا وہ آخری دور تھا۔ پیپلز پارٹی کے بہت سارے راہنما غریب تھے لیکن جن راہنماؤں نے اقتدار کی بہتی ہوئی گنگا سے امارت کے لعل و گوہر اکٹھے کر لیے تھے۔ وہی لوگ بعد میں سیاست کے ایوانوں میں چہکتے رہے اور صرف نظریے کی بنیاد پر سیاست کرنے والے لوگ سیاست برد ہو کر رہ گئے اور یہی حال ڈاکٹر صاحب کا ہوا جب بے نظیر بھٹو پہلی بار بوریوالا میں تشریف لائیں تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ بوریوالا میں پارٹی کے بانی چیئرمین کو شرف میزبانی بخشیں گی لیکن انہوں نے بھی طبقہ امراء کو ہی اس مقصد کے لیے منتخب کیا لیکن اپنی خدمات کو نظر انداز کیے جانے کے باوجود ڈاکٹر صاحب آخری دم تک اپنی پارٹی کے لیے پورے خلوص اور دیانت داری کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین! ثم آمین!


