عورتیں اور معاشرتی رویہ
گزشتہ ہفتے عورتوں کی تولیدی صحت اور اس سے متعلق دیگر امراض و مسائل کے ماہر ڈاکٹروں کی سوسائٹی کے انتخابات اور حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی۔ پہلی دفعہobstetricians Gynaecology سوسائٹی نے عورتوں کی صحت، تولیدی صحت کے ساتھ ساتھ ان تمام عوامل کے بارے میں بھی کھل کے بات کی جو پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے ساتھ روا رکھے جاتے ہیں۔
سوسائٹی کے ارکان نے عورتوں کے قتل و غارت گری، مار دھاڑ، آبروریزی، اغوا، کم سنی کی شادیوں سمیت دیگر مسائل پر بات کرتے ہوں کہا ”عورتوں کے ساتھ معاشرے کا ناروا سلوک نہ صرف عورتوں کی صحت، ذہنی صحت اور اس سے جڑے صحت کے دیگر عوامل کے لئے برا ہے ان کی تولیدی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ کسی بھی قسم کے ناروا سلوک سے متاثرہ عورت کے بطن سے صحت مند بچوں کی پیدائش کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ بچہ پیٹ میں ہو یا پیٹ سے باہر اس کے اطراف کا ماحول اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے“ ۔
انھوں نے بتایا کہ 2024 کے دوران عورتوں کے 32617 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں 5339زیادتی، 24439 اغوا چوری، 2238 گھریلو تشدد اور 547 غیرت کے نام پر قتل کے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ واقعات صوبہ پنجاب26753 میں، خیبر پختون خواہ میں 3397، سندھ1782 اور بلوچستان میں 398 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
سوسائٹی نے یہ بھی بتایا کہ 2019 اور 2023 کے درمیان بچوں سے جنسی زیادتی کے 5398 کیس بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
ارکان کی جانب سے پیش کیے گئے ان اعداد و شمار کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سب اعداد پولیس رپورٹ سے متعلق ہیں۔ SSDOیعنی سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ آرگنائیزیشن نامی اس ادارے کی رپورٹ میں نہ تو ان کیسز کے انجام کے اعداد ہیں نہ ہی ان واقعات کا کوئی تذکرہ ہے جو پولیس تھانوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ البتہ رپورٹ میں 1274ان خواتین کا تذکرہ ہے جن کی موت کو لواحقین نے خودکشی کہہ کے معاملہ رفع دفع کر دیا ہے۔
سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے ہسپتالوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات، خاص طور پر خواتین ڈاکٹروں اور دیگر اسٹاف کے ساتھ ساتھی عملے کا ناروا سلوک اور جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا تذکرہ بھی کیا۔
اس بات کا تذکرہ بھی ہوا کہ پاکستان میں ہر چوتھی عورت کسی نہ کسی قسم کے تشدد سے گز رتی ہے اور دلچسپ بات یہ کہ ان عورتوں کو اپنے ساتھ ہونے والے اس ذہنی، جسمانی تشدد کی بد صورتی کا قطعی اندازہ نہیں ہوتا۔ انھیں اس بات کا احساس دلایا جائے تو وہ یہ کہہ کے بات ختم کر دیتی ہیں کہ ”شوہر نہیں مارے گا تو کون مارے گا“ ۔
ارکان نے معاشرے میں عورتوں، بچوں کے ساتھ روا بد سلوکی، سماجی رویے کی بدصورتی اور معاشرے کی بے حسی کا سبب نظام عدل و انصاف کو قرار دیتے ہوئے کہا اگر عدالتیں ان واقعات پر فوری کارروائی کرنا شروع کر دیں تو کافی حد تک ظلم و ستم کم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عدالتیں عورتوں سے متعلقہ کیسز کو سرد خانے میں سلا دیتی ہیں۔ عدالتی نظام کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ کسی بھی واقع میں ملوث عورت یا لڑکی کے ساتھ مجموعی طور پر معاشرے کا رویہ بہت بھونڈا ہوتا ہے۔ ہماری ریاست اور سماج عورت کی اخلاقی یا سماجی مدد کرنے کے بجائے اسے تضحیک کا نشانہ بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
ان حالات میں انفرادی طور پر جب ایک عورت بد سلوکی، بد زبانی کے مدوجزر سے گزرتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف بچے پر آتے ہیں۔ اس عورت سے متعلقہ ہر رشتہ اس کی زد میں آتا ہے۔


