62-63  کا حمام اور ننگے صادق و امین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ملک کا پہلا صادق و امین جنرل ضیاء تھا۔

جو خود ایک ایسا نفسیاتی مریض تھا جسے بھٹو دشمنی میں جل کر سیاہ ہو چکے مولویوں اور فتویٰ سازوں نے وردی کے اوپر امیرالمومنین کی شیروانی پہنائی تھی۔

انہوں نے اسے اس ذہنی بیماری میں مبتلا کر دیا تھا کہ ایک بھٹو کو پھانسی چڑھا کر تم بخشے جا چکے ہو۔ تمہارے تمام پوشیدہ گناہ کبیرہ بھی اور صغیرہ بھی معاف ہو چکے ہیں۔ اب تم باوضو ہو۔

ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی ذاتی زندگی میں گناہوں اور خطاؤں سے گزرا ہی ہو گا۔

جب آیا تھا تو گناہوں کی سی نحوست برستی تھی اس کے چہرے پر۔ بڑی بڑی مونچھیں اور ایک نارمل انسانی چہرے سے مختلف دکھتا چہرہ۔ آنکھیں ویرانے کی طرح بھائیں بھائیں کرتی تھیں اس کی۔ مسکراتا تو دانت نکوستا ہوا محسوس ہوتا۔ عام سی بے تاثر آواز۔ ہاں اردو اس کی صاف ستھری تھی۔

ان دنوں مغربی میڈیا اسے گھوڑے جیسی شکل والا لکھتا تھا۔

5 جولائی 1977 کو پاکستان ٹیلی ویژن کی اسکرین پر اس نے اپنی پہلی رونمائی بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔۔۔۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم کہتے ہوئے جھوٹ کے ساتھ کی کہ وہ کوئی لمبی پلاننگ کرکے نہیں آیا۔ نوے دن میں اقتدار عوامی نمائندوں کو لوٹا دیا جائے گا۔

انہی نوے دنوں کے دوران ہی، گزرتے وقت کے ساتھ جوں جوں اس کے اندر اپنے بخشے ہوئے ہونے کی خوش فہمی کا زعم تناور درخت بنتا گیا اور اسے بھٹو کی عفریت سے جان چھڑانے کے صلے میں صادق اور امین ہونے کی مقدس شراب پلائی جاتی رہی، وہ بھی ابلیس کی طرح سرکش ہوتا چلا گیا کہ آدم کو سجدہ کیوں کروں!

وہ بھی اس آدم کو جو زمین پر فساد برپا کرنے والا ہے!

بھربھری کھنکتی مٹی سے بنا ہوا!

No way ۔۔۔۔۔

میں خود اعلیٰ تخلیق ہوں جس کے سجدوں کا حساب ممکن نہیں۔

مگر یہی تو عیاں معاملہ ہے کہ خالق نے خود ہی اپنے سجدوں پر فخر کرنے والے اور آدم سے نفرت کرنے والے کو ابلیس قرار دیا اور نفس کے مارے بیچارے آدم کو اشرف المخلوقات قرار دیا۔

اپنے سجدوں کے زعم میں ضیاء الحق نے روزِ محشر سے پہلے پاکستان میں برسوں حشر کا میدان برپا کیے رکھا۔ خود بڑے تکبر سے تنی گردن کے ساتھ اپنی ہر محفل کی ابتدا اس نعت سے کرواتا ۔۔۔۔۔ یہ سب تیرا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔۔۔۔ ! جیسے کرم صرف اسی پر ہے۔

اوپر سے اس کے ہاتھ جہاد کا کارڈ آ گیا۔

ضیاء الحق کا جہاد دیکھنا ہو تو آج بھی یو ٹیوب پر پڑی ہوئی وڈیو دیکھی جا سکتی ہے جس میں مارگریٹ تھیچر کے ساتھ وہ یوں کھڑا ہے جیسے وکٹوریہ کے ساتھ غلام۔ مارگریٹ تھیچر اپنے قدموں کے قریب زمین پر بیٹھے افغان طالبان سے نعرے لگوا رہی ہے۔ وہ کہتی ہے، نعرہِ تکبیر۔ اور اس کے قدموں کے قریب زمین پر بیٹھے مجاہدین کہہ رہے ہیں اللہ اکبر۔

اس ضیاء کے دماغ میں یہ بھُس بھرا گیا تھا کہ وہ قدرت کی طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے اونچی کرسی کے لیے خاص طور پر منتخب کیا گیا ہے، کیونکہ ایک وہی ہے جو صادق اور امین ہے۔

کیونکہ ایک وہ ہی ہے جو اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہے اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہے اور نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہے۔

کیونکہ ایک وہ ہی ہے جو سمجھدار ہے، پارسا ہے، ایماندار اور امین ہے اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے برعکس نہیں ہو سکتا۔

کیونکہ ایک وہ ہی ہے جو کسی مجاز عدالت کی طرف سے فاتر العقل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نتیجتاَ اس نے بھی لفظ اسلام کو جگہ جگہ استعمال کر کے اس فاترالعقل قوم کو اس طرح پھنسا دیا کہ ہر گنہگار فطری طور پر اس کے بُنے ہوئے جال کے خلاف آواز اُٹھانا تو درکنار، سوچنا بھی گناہ سمجھنے لگا۔

کون جا کر تحقیق کرتا ہے کہ قرآن میں کیا لکھا ہے اور کیا نہیں! کونسی حدیث مستند ہے اور کونسی ضعیف!

اسلام کیا کہتا ہے اور کیا نہیں اور کیا حکم کہاں لکھا ہے اور اس کے معنی کیا ہیں اور اس کی لاتعداد تشریحات کیا کیا ہیں؟ پھر وہ تشریحات فرقہ وارانہ درجوں میں کیسے کیسے بٹی ہیں؟

یوں بھی ہر مسلمان اپنے اپنے دنیاوی گناہوں کی پوٹلی بغل میں دبائے پھرتا ہے اوپر سے انجانے میں حکمِ خداوندی سے انحراف کا مجرم نہ قرار پا جائے، اس خوف سے اس مسلمان قوم نے اپنی اپنی گردن اپنے اپنے گھٹنوں میں چھپا لینے ہی کو آخرت کی نجات جانا۔

ضیا ذہین نہیں تھا۔ بلکہ تابع فرمان تھا۔ اس کا اندازہ مارگریٹ تھیچر والی وڈیو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کھیل کا ڈزائینر بننے کے بھی وہ اہل نہیں تھا۔

بس ڈزائین کی فوٹو کاپیاں بنا بنا کر اس مسلمان قوم میں تقسیم کرنا اس کا کام تھا۔

وہ فطری طور پر تابع فرمان تھا۔ ایک ایسا تابع فرمان جو کمر سے زرا سا جھک جھک کر چلتا ہے۔ چہرے پر مصنوعی انکساری رکھتا ہے۔ سامنے والے سے نگاہ چُرا کر ملتا ہے۔ بازو غلامانہ انداز میں باندھے رکھتا ہے۔ جس کی مسکراہٹ میں خلوص نہیں شرمندگی اور احساسِ کمتری ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلتا ہے، کہ دوسرے کو گمان گزرے کہ وہ اس سے ایک قدم پیچھے ہو کر چل رہا ہے۔

جبکہ یہ ایک طاقت ور فوج کے سپہ سالار یا کسی ملک کے سربراہ کا پوسچر ہو ہی نہیں سکتا۔

مگر اس کے اس انداز کے پیچھے سے بھی اس کا تکبر جھانکتا تھا کہ دیکھو ایسا، مجھ جیسا ہوتا ہے مکمل مومن اور صادق اور امین۔ مجھ جیسا ہی اس ملک پر حکمرانی کر سکتا ہے۔ جو کہ میں ہوں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 88 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah