میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسجد الحرام میں ازان شروع ہوتی تو ساری دکانوں کے دکاندار، سب کچھ کھلا چھوڑ کر نماز کی طرف دوڑ جاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ایک چادر دکان پر کھینچ دی جاتی تھی کہ دکان بند ہے۔

اسی طرح دنیا بھر سے لائی گئی کھانے پینے کی اشیاء سے دکانیں لدی ہوئی دکھتی تھیں۔

سامان کی نقل و حرکت کے لیے خچر اور گدھا گاڑی کا بہت زیادہ استعمال نظر آتا تھا۔

جب ہم یومِ عرفات سے ایک رات پہلے مکہ پہنچتے تھے تو یہ سارا کاروبار پہلے سے ہی بند ہو چکا ہوتا تھا۔ شہر میں ایک نیم تاریکی سی اوڑھے سناٹا سائیں سائیں کر رہا ہوتا۔ ایسا دکھتا تھا جیسے شہر کا شہر اٹھ کر حج کی ادائگی کے لیے چلا گیا ہے۔ لدی پھندی دکانوں پر ایک ایک جلتا ہوا بلب لٹک رہا ہوتا تھا اور ایک ایک چادر دکان پر کھنچی ہوتی تھی۔

ان دنوں مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں حج کی ادائگی کے لیے اور حج کے دنوں کا کاروبار کرنے کے لیے منیٰ اور عرفات کی طرف نکل جاتے تھے۔

ہاں مسجدالحرام کے سب ہی دروازے کھلے ملتے تھے۔ اور مسجد مکمل روشن ہوتی تھی۔

اندر اسی طرح ازان اور باجماعت نماز ہو رہی ہوتی تھی۔ خانہِ کعبہ کے گرد اسی طرح طواف جاری و ساری ہوتا تھا۔ مگر لوگ بہت ہی کم کم ہوتے تھے۔

اس خاموش اور تقریباﹰ خالی مسجدالحرام کے بیچ خاموش کھڑا خانہِ کعبہ، جس کے اطرف خالی ہو چکے شہر میں رہ گئے کچھ مقامی لوگ یوں طواف کر رہے ہوتے تھے جیسے روحیں اللہ کے گھر کے گرد سرسراتی پھر رہی ہوں!

یا پھر کعبہ کے گرد منڈلاتی ہوئی ابابیلیں جن کے پر سرچ لائیٹس کی روشنی میں جگنوؤں کی طرح چمک رہے ہوتے تھے۔ گو کہ یہ ابراہہ پر حملہ کرنا والی ابابیلیں نہ تھیں مگر کعبہ کے گرد خاص طور پر رات کے وقت منڈلاتی رہتی تھیں۔

مسجدالحرام کے گرد دکھتے پہاڑوں پر آباد بدوؤں کی بستیوں میں بھی بس کہیں کہیں روشنی ٹمٹما رہی ہوتی تھی۔

اس خالی ہو چکے نیم تاریک شہر میں فجر کی ازان کی گونج آج بھی میری یادوں میں کہیں اسی طرح موجود ہے۔

فجر نماز کے بعد ہم بھی سیدھا عرفات کی طرف نکل جاتے تھے۔

لیکن جب حج سے ایک دو دن پہلے مکہ پہنچتے تو حاجیوں کے قافلوں کے ساتھ ہی روانہ ہوتے۔ وہ منظر بلکل ہی اور ہوتا تھا۔

تب آجکل کی طرح فائیوِ اسٹار اور فور اسٹار حج نہیں تھے۔

حاجیوں سے لدی بسیں ائرکنڈیشنڈ بھی نہیں ہوتی تھیں۔

موسم تو شدید گرم ہوتا ہی تھا۔

زرد اور سُرخ رنگ کی چھوٹی چھوٹی بسوں کی لاتعداد قطاریں (ایسی بسیں آج بھی امریکہ اور یورپ میں اسکول بس کے طور پر استعمال ہوتی ہیں)، سروں پر سامان لادے، احرام باندھے ہوئے ہر عمر اور قوم کے حاجیوں کا ایک مضطرب انبوہ تا حدِ نظر پھیلا ہوتا تھا اور ان کے لیے انتظامات کے لیے پریشان اور بے چین معلمین ہوتے تھے جو اپنے اپنے حصے کے قافلوں کے لیے دوڑے دوڑے پھرتے تھے۔

ہمارا معلم ہر سال ایک ہی ہوتا تھا۔ محسن السندی۔ سُرخ و سفید، بھاری بھرکم جسم والا۔ اپنے گھر کے سامنے عربی طرز کی کھاٹ پر پلتھی مارے بیٹھا، اپنے ورکرز پر گرج گرج کر احکامات جاری کر رہا ہوتا تھا۔ اردو خاصی صاف تھی اس کی۔ پتہ نہیں کب اس کے آباؤ اجداد سندھ سے حجرت کرکے آئے تھے، جس کی وجہ سے اس کے نام کے آگے السندی لگتا تھا۔ گو کہ اسے سندھی آتی نہیں تھی۔ پورا عرب ہو چکا تھا۔ مجھ پر ڈانٹ ڈپٹ گویا اس کا مجھ سے پیار کا اظہار ہوتا تھا۔

ہم انہی کے گھر میں رہتے تھے۔

کھانے پر ان کے گھر کی خواتین تب تک کھانا شروع نہیں کرتی تھیں، جب تک ان کی میلی، پسینے کی بوُ سے بھری حبشی ملازمہ دسترخوان پر آکر نہیں بیٹھتی تھی۔

محسن السندی کی وفات کے بعد ہم ایک ہندوستانی معلم کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ عبدلرحمان شلی الھندی۔ ان کے ہاں صرف ہم پاکستانی ہوتے تھے، باقی سب ساؤتھ انڈیا کے حاجی ہوتے تھے۔

ان کے گھر کی خواتین بھی تب تک کھانا شروع نہیں کرتی تھیں، جب تک ان کی ملازمہ اپنے بہتی ناک والے بیٹے کے ساتھ دسترخوان پر آکر نہ بیٹھتی تھی۔ یہ خواتین اپنے لیے سونا خریدتیں تو ملازمہ کو بھی سونے کا کچھ نہ کچھ دلاتی تھیں۔ کپڑے خریدتیں تو بھی اسے اپنے کپڑوں سے ملتے جلتے کپڑے دلاتیں۔

انسانی برابری اپنے بہت ہی بچپن میں میں نے ان دو گھروں میں سیکھی۔

ان دونوں گھروں کی خواتین ٹوٹی پھوٹی اردو میں اماں سے گفتگو کر رہی ہوتیں کہ ملازم کا کتنا حق ہے مالک پر اور ملازم کی حق تلفی پر کتنی سخت پکڑ ہے اور حکم ہے کہ جو خود کھاؤ، وہی انہیں کھلاؤ۔ وہی پہناؤ جو خود پہنو۔

ان دنوں چونکہ ابھی حج اتنا سہولت بھرا نہ ہوا تھا اس لیے سب ہی کو اپنا اپنا زادِ راہ ساتھ رکھنا ہوتا تھا۔ گول بندھے بستر سے لے کر، چولہا، چوکی، آٹا، دال، چاول کے کنستر، برتن تک۔ یہ سب زادِ راہ اپنے ملک سے ہی ساتھ لانا ہوتا تھا۔

منیٰ اور عرفات کو جانے والے راستے تنگ اور کٹھن بھی تھے۔ ٹریفک کنٹرول پر ابھی مہارت بھی نہیں تھی۔ بدوؤں کے چودہ سے سترہ سال کے دبلے پتلے غیر تربیت یافتہ لڑکے بالے پولیس کی وردی میں ملبوس، ہاتھ میں ڈنڈی اٹھائے اپنا فرض انجام دینے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہوتے تھے۔ گو کہ مونچھیں بھی ابھی ٹھیک سے نکلی نہ ہوتی تھیں، مگر وردی کا رعب ایسا تھا کہ عسکری کہلانے والے یہ لڑکے اپنے تئیں جس گاڑی کی غلطی پکڑتے، پوری طاقت سے اس کے بونیٹ پر ڈنڈا دے مارتے۔ چاہے وہ بڑی سی، امریکی کار کیوں نہ ہوتی۔ عسکری سے پنگہ لینا کسی کے لیے ممکن نہ ہوتا تھا۔

مقامی لوگ ابھی رہتے انہی پرانے گھروں میں تھے مگر ان کے پاس بڑی تعداد میں بڑی بڑی امریکی گاڑیاں آ چکی تھیں۔ بڑے شوق سے ان گاڑیوں کو اندر سے سجاتے بھی تھے۔

سُرخ جھالر لگی مخمل گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگی ہوتی تھی۔ سیٹ کور بھی عموماََ شوخ رنگ مخمل کے ہوتے تھے۔ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر بھی شوخ رنگ پردے لگے ہوتے تھے۔ مگر گاڑیاں دھونے کا رواج نہیں تھا۔ مٹی اور دھول کی تہیں گاڑیوں پر جمی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ایکسیڈنٹ کی ہوئی گاڑیاں سڑکوں کے کناروں پر اوندھی پڑی ہوئی ملتی تھیں۔ شاید ان کو دوبارہ زندہ کرنے کا انتظام ابھی موجود نہ تھا۔

دولت کی آمد سے ایک دلچسپ رواج مقامی لوگوں میں فروغ پا چکا تھا۔ عورتیں اور مرد اپنے ایک دو دانتوں پر سونے کا کور چڑھوا دیتے تھے۔ اکثر کے منہ میں ایک دو اور کبھی اس سے بھی زیادہ سونے کے دانت چمک رہے ہوتے تھے۔

یہ سب ہی محمود و ایاز انسانی سمندر کی صورت حج کی ادائگی کے لیے منیٰ کی جانب روانہ ہوتے۔

بسوں، گاڑیوں، خچر اور گدھا گاڑیوں کے سواروں کے ساتھ ساتھ ایک ہجوم وہ بھی ہوتا تھا جو پیدل چل رہا ہوتا تھا۔ جوان ہی کیا، بوڑھے اور لاغر افراد بھی۔ عورتیں بھی۔

تنگ اور محدود سڑکوں کی وجہ سے گاڑیوں اور بسوں کا قافلہ چیونٹی کی رفتار سے ایک گونج کے ساتھ رینگ رہا ہوتا۔

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَ الْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لک۔۔۔۔۔

پیدل چلنے والوں کی رفتار گاڑیوں سے تیز ہوتی تھی۔ وہ، حاضر ہوں میرے رب، میں حاضر ہوں کی گونج کے ساتھ، سروں پر سامان اٹھائے اپنی دھن میں چلے جا رہے ہوتے تھے۔ جوانوں کی پیٹھ پر عموماََ بوڑھے، ضعیف والدین بھی سوار ہوتے تھے۔

بوڑھے والدین کو پیٹھ پر لاد کر حج کروانے کا رجحان بہت زیادہ تھا۔ ان دنوں وہیل چیئر وہاں دستیاب نہیں تھی۔ بوڑھے اور ضعیف لوگ طواف اور صفا مروہ ڈولی نما چارپائی پر سوار ہوکر کرتے تھے جس کی اگلی دو ڈنڈیاں ایک بدو اپنے کندھے پر اٹھاتا اور پچھلی دو دوسرا بدو۔ پسینے میں شرابور یہ بدو ہانپتے ہوئے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے، راستہ مانگتے ہوئے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ طواف اور صفا مروہ مکمل کرواتے اور دم لیے بغیر اگلی سواری اٹھا لیتے۔

لیکن زیادہ تر لوگ اپنے بوڑھے والدین کو اپنی پیٹھ پر لاد کر حج اور طواف و صفا مروہ کرواتے نظر آتے۔ بوڑھے والدین ننھے بچوں کی طرح جوان بیٹوں کی گردنوں میں باہیں ڈالے، ٹانگیں ان کی کمر کے گرد حائل کیے ہوتے تھے۔ بیٹے ساتھ ساتھ اونچی آواز میں انہیں دعا پڑھا رہے ہوتے جو وہ بچوں کی طرح پیچھے سے دہرا رہے ہوتے تھے۔

گرمی کی شدت یہ ہوتی تھی کہ احرام سے جھانکتے حاجیوں کے کندھے سُرخ ہو رہے ہوتے تھے۔ بسوں میں بیٹھے ہوئے لوگ پسینے سے شرابور ہو رہے ہوتے اور ہاتھ کے پنکھوں سے خود کو ہوا دے رہے ہوتے۔

احرام میں عورت اور مرد کو چہرہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں۔ پردہ دار عورتیں برقعے کے نقاب کے اندر ماتھے پر چھجے کی صورت ہاتھ کا پنکھا باندھ کر اس پر نقاب ڈالتی تھیں، تاکہ چہرہ بھی ڈھکا رہے اور احرام کی پابندی بھی رہے۔ یہ طریقہ ہر قوم کی عورتیں اپناتی تھیں، گو کہ اکثریت چہرے کھلے رکھتی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 92 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah