میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرفات سے واپس منیٰ آکر قربانی بھی دینا ہوتی تھی اور احرام اتار کر طوافِ حج کرنے کے لیے مکہ جاکر واپس منیٰ آنا ہوتا تھا۔

بچپن کے کسی حج کے دوران، بابا کی انگلی پکڑے طوافِ حج کر رہی تھی کہ اچانک پولیس بیچ طواف میں آگئی اور طواف کے بیچ خاموشی سے راستہ بنانے لگی۔ طواف ختم کرکے بابا مجھے ایک طرف لے کر کھڑے ہوگئے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت اور نفیس نقوش والا عرب، سنہری ڈوریوں والا براؤن عبا کندھوں پر رکھے قدم قدم طواف کر رہا تھا۔ نظریں زمین پر مرکوز۔ اطراف سے لاتعلق۔ بابا نے جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی کہ یہ سعودی عرب کے بادشاہ ہیں، شاہ فیصل۔ کہانیوں کے بادشاہ کو یوں سامنے پاکر میری چیخ نکل گئی۔ بے اختیار انگلی اٹھا کر بادشاہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ ہے بادشاہ؟

بابا نے گھبرا کر میرا ہاتھ کھینچ کر میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

شاہ فیصل رک گئے۔ بابا کو انگلی سے اشارہ کیا کہ بچی کے منہ پر سے ہاتھ ہٹاؤ۔

بابا نے ہاتھ ہٹا دیا اور شاہ فیصل آگے بڑھ گئے۔ مگر میرا ننھا سا دل بادشاہ پر آ چکا تھا۔ کچھ دنوں بعد مکہ میں ہی بہت سارے نوٹوں پر سے میں نے قینچی سے بادشاہ کی تصویر کاٹ کر الگ کرلی اور نوٹوں کی باقی بچ رہ گئی کترنیں کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔

نیچے سے ہمارے معلم کا بیٹا گھبرایا ہوا کٹے پھٹے نوٹوں کی کترنیں اٹھا لایا تو پتہ چلا کہ میں اچھی خاصی بڑی واردات کر گزری ہوں۔

میری یادوں میں ایک حج وہ بھی ہے جب ہم بحری جہاز پر جدہ گئے تھے۔

جدہ خود بھی ایک پرانا شہر تھا جس کی عمارتیں ویسی ہی تھیں جیسی مکہ کی تھیں۔ مگر سمندری آب و ہوا کی وجہ سے بوسیدہ سی دکھتی ہوئی اور یوں جھکی ہوئی ہوتی تھیں، جیسے ابھی زمیں بوس ہو جائیں گی۔ ان عمارتوں کو گرانے کا عمل بھی شروع ہو چکا تھا۔

شہر کے ایک جانب محض ایک ہال پر مشتمل چھوٹا سا ائرپورٹ ہوتا تھا۔ مرکزی شہر کے بازار پر ٹین کے سائبان ڈال دیے گئے تھے، جہاں مکہ کی طرح دنیا بھر سے آیا ہوا سامان رکھا تھا۔ یہاں کچھ دکانیں جدید دور کے مطابق بھی ہوتی تھیں، جن میں اس دور کے یورپین برانڈز کا سامان رکھا ہوتا تھا۔ ایک کیبن نما دکان پر پیرس سے آئی ہوئی آئسکریم بکتی تھی۔ دکان سے باہر فٹ پاتھ اور اسٹول پر بیٹھ کر وہ آئسکریم کھانا میرے لیے جدہ کی واحد کشش تھی۔

کچھ ہی عرصے میں دیکھتے دیکھتے پرانا جدہ پورا مسمار ہوتا گیا اور نئی عمارتوں کی بنیادیں ڈلنے لگیں۔ دکانیں بڑے بڑے شوکیس کے ساتھ جدید رنگ اختیار کرنے لگیں۔

جدہ کے لوگ مکہ کے لوگوں سے بلکل مختلف ہوتے تھے۔ دین سے زیادہ دنیا کی ترقی کی طرف ان کی توجہ تھی۔

گاڑیوں میں اونچی آواز میں ام کلثوم کو سنتے اور اس کے ساتھ خود بھی اونچی آواز میں گنگناتے اور کسی بول پر ایکسائیٹمنٹ کے ساتھ چیخ بھی پڑتے۔ جبکہ مکہ کے لوگ زیادہ تر قاری عبدالباسط کی قرآت سنتے تھے۔

اس ماحول میں، میں بہت ہی بچپن سے ام کلثوم اور قاری عبدالباسط کی مداح ہوگئی۔ دونوں آوازیں آج بھی میرے لیے بہت پرکشش ہیں۔

مکہ کے لوگوں کی دنیا کے کاروبار سے دلچسپی ان کے موڈ کے مطابق ہوتی تھی۔ کچھ فروخت کرنے کا موڈ نہ ہوتا تو جھڑک کر دکان سے ہٹ جانے کو بھی کہہ دیتے۔ مزاجاََ خاصے غصّے والے ہوتے تھے۔ بابا بڑی نرمی سے، ان کے موڈ کے مطابق ان سے بات کرتے تھے۔ جبکہ اماں کی ان سے بلکل نہیں بنتی تھی۔

جدہ میں اسکول یونیفارم میں ملبوس لڑکے لڑکیاں زیادہ بڑی تعداد میں نظر آنے لگے تھے۔

سنا تھا کہ شاہ فیصل کی بیوی رفعت کو لڑکیوں کی تعلیم کا بہت شوق تھا اور اس کے لیے وہ مولویوں کے سامنے نہ صرف ڈٹ گئی تھیں بلکہ انہوں نے کئی گرلز اسکولز سعودی عرب میں کھلوا لیے تھے۔

مجھے اپنے بچپن میں اسکول جانے والی بچیوں کی زیادہ تعداد جدہ اور مدینہ میں نظر آتی تھی۔

ٹیلی ویژن کے لیے بھی انہوں نے ہی مولویوں کا مقابلہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں ٹیلی ویژن ضرور آئے گا۔

ایک حج کا سفر ہم نے بحری جہاز پر کیا تھا۔ پتہ نہیں پاکستان کے وہ بحری جہاز بھی کیا ہوئے جو حاجیوں اور دیگر مسافروں کو لے کر سمندر کا سفر طے کیا کرتے تھے!

تب میری عمر کوئی گیارہ سال کی تھی۔ کسی وجہ سے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے بحری جہاز کے سفر پر پابندی تھی۔ مگر بابا کو تو بہرحال حج پر جانا ہی تھا۔

میرا قد لمبا اور جسم صحت مند تھا۔ بابا نے میری منت سماجت کرکے مجھے پرانے زمانے والا برقع اوڑھا دیا اور چہرے پر نقاب ڈال دیا۔

جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر پہنچے تو اوپر کھڑے کپتان نے میرا نقاب الٹ دیا۔ اندر سے میں نکلی جس کے چہرے پر ظاہر ہے کہ عمر لکھی تھی۔ کپتان نے بابا کو مسکرا کر دیکھا جو پریشان کھڑے تھے۔ اگلے لمحے کپتان نے ہنس کر میرے چہرے پر نقاب ڈال دیا اور اندر جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا، اگلی بار برقع مت پہننا۔ میں نے بھی کپتان کے مشورے پر پورا عمل کیا اور اماں کی شدید خواہش اور دباؤ کے باوجود کبھی نہ برقع اوڑھ پائی اور نہ نقاب چہرے پر ڈال سکی۔

سمندر میں سات دن کا سفر طے کرتے ہوئے حاجیوں سے بھرا وہ جہاز آٹھویں دن جدہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تھا۔

برقع جہاز کے اندر پہنچتے ہی میں نے اتار پھینکا تھا، جسکی وجہ سے کپتان کی مجھ سے دوستی ہوگئی تھی اور اس نے ہمارے رہنے کا انتظام جہاز کے سب سے اونچے عرشے پر کر دیا تھا۔

اتنی اونچائی سے ہر لمحہ حدِ نظر سے بھی آگے تک اور چار سوُ سمندر ہی سمندر دکھ رہا ہوتا تھا۔ رات کو بھی ہم اسی عرشے کے فرش پر بستر بچھا کر سوتے تھے۔ رات کو آسمان اور سمندر ایک ہوتے ہوئے محسوس ہوتے تھے اور دونوں کے بیچ آسمان کے تارے گھُل مل سے جاتے تھے۔ سمندر کا شور رات رات بھر گـونج رہا ہوتا۔ رات کی اس گونج میں اکثر جہاز کے کسی حصّے سے نماز کے وقت ازان کی آواز اور حاجیوں کی لبیک الھم لبیک کی گونج بھی شامل ہو جاتی کہ حاضر ہوں میرے رب، میں حاضر ہوں۔

میری یادوں میں بیچ سمندر میں ڈوبتا ہوا اور طلوع ہوتا سورج اور سمندر و آسمان کے ملاپ سے پوٹھتی ہوئی شفق آج بھی اسی طرح بسی ہوئی ہے۔

کپتان اکثر مجھے جہاز کے steering wheel کے سامنے کھڑا کرکے کہتا کہ جہاز چلاؤ۔ کپتان کے ساتھ ساتھ وہیل گھماتے ہوئے میں اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتی کہ میں جہاز چلا رہی ہوں!

پھر ایک دن جہاز کے اس سفر میں ایک سہما دینے والا منظر دیکھنے کو ملا۔ اس کے بعد جہاز اپنی کشش کھو بیٹھا۔

ایک مسافر کا انتقال ہوگیا۔

جہاز کے عرشے سے اس کی تدفین کی گئی۔ موٹی موٹی رسیوں میں جکڑے ہوئے ایک بڑے سے بکسے میں بند جنازہ عرشے پر سے سمندر کی گہرائی میں اتارا گیا۔ جب چند لمحوں بعد رسیوں کے زریعے دوبارہ بکسے کو اوپر کھینچا جا رہا تھا تو بکسے کا نچلا حصہ کھلا ہوا تھا۔ بکسہ خالی تھا۔ جنازہ سمندر کی تہ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

باقی کا سفر میں جہاز کے عرشے پر کھڑے ہوکر دیر دیر تک لہروں می کھو چکے اس آدمی کو ڈھونڈتی رہتی جسے حاجیوں نے لبیک کی گونج کے ساتھ سمندر میں اتارا تھا اور جس کے لیے سب کہہ رہے تھے کہ وہ جنتی ہو گیا۔

اماں نے عرشے کی ریلنگ سے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے شاہ لطیف کا جو بیت پڑھا تھا اس کے معنی برسوں بعد سمجھ میں آئے۔۔۔۔

ڈھونڈتا رہوں ۔۔۔۔ ڈھونڈتا رہوں ۔۔۔۔ پر کبھی نہ پاؤں پیا سے وصل ۔۔۔۔۔۔ من اندر کی لوچ وصل میں بجھ نہ جائے کہیں!
Aug 31, 2017

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 90 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

Comments are closed.