میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ
سیاہ چھتریاں تھامے، سفید احرام میں لپٹے جسم جو آہستہ آہستہ دور جبلِ عرفات پر چڑھ رہے ہوتے تھے۔ دور سے جبلِ عرفات کے وسط میں نسب سفید پتھر سب میں نمایاں دکھ رہا ہوتا تھا، جس کے گرد سیاہ چھتریوں والے جمع ہو رہے ہوتے تھے۔ گزرتی عمر کے ساتھ دھیرے دھیرے پتہ چلا کہ سفید پتھر عین اس جگہ نسب ہے جہاں کھڑے ہو کر رسول اللہﷺ نے خطبہِ حجتہ الوداع دیا تھا جو بچپن میں پرائمری اسکول کے نصاب میں بار بار سامنے آتا رہا کہ نہ عربی کو عجمی پر فوقیت ہے اور عجمی کو عربی پر۔ کہ لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ کہ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔
کہ جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔
بابا ہمیں کبھی حج کے دنوں میں جبلِ عرفات لے کر نہیں گئے تھے۔
لیکن میرے لیے جبلِ نور کا کٹھن راستہ طے کرکے غارِ حرا تک پہنچنا اور غارِ حرا کو دیکھنا اور غارِ حرا میں بیٹھ کر اسے محسوس کرنا، ایک بہت ہی خوبصورت یاد اور تجربے کی صورت آج بھی میری زندگی کا حصّہ ہے۔ میری عمر تقریباً چودہ سال کی ہو چکی تھی۔ اُس حج کی رفاقت میں ہمارے ساتھ موجود قریبی رشتہ داروں نے جبلِ نور کی اونچائی دیکھ کر اوپر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ سب نیچے ہی کھڑے رہے۔ میری پوپھو کو چیلنجز اور ایڈونچرز بہت پسند تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مجھے تو یہ پہاڑ سر کرنا ہے۔ گو کہ اماں میری طرح بہت ہی سہولت پسند تھیں مگر پوپھو کا چیلنج انہیں قبول کرنا ہی پڑتا تھا۔ دونوں نے مجھے ساتھ پکڑا اور جبلِ نور کے پہاڑ پر چڑھ گئیں۔
سخت اور سیاہ و سرمئی پتھر کا مشکل پہاڑ جس کی چوٹی پر غارِ حرا دکھتا تھا۔ جوں جوں پہاڑ چڑھتے جاتے، لگتا غار دور ہوتا جاتا ہے۔ غار تک بنا ہوا بے ترتیب راستہ بھی کچھ یوں تھا کہ نوکدار پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کو قدم بڑھانا پڑتا تھا۔ بیچ بیچ میں پیر پیچھے کو پھسل بھی جاتا تھا۔ شاید تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کی مشقت کے بعد ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تھے۔ راستے بھر اماں بس یہی کہتی رہیں کہ سائیں(نبی کریمﷺ) کیسے طے کرتے ہوں گے یہ پہاڑ!
چوٹی پر پہنچے تو دور دور تک، پہاڑوں پر آباد مکہ کا شہر دکھ رہا تھا۔ غار میں باری باری جانا پڑ رہا تھا ایک نفل کی ادائگی کے لیے۔ میری باری آئی۔ غار میں جھک کر داخل ہوئی۔ غار میں آدمی اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ نفل بیٹھ کر پڑھنا پڑتا تھا۔ بیٹھنے کے بعد کا وہ چونکا دینے والا منظر آج بھی یاد آتا ہے تو دل دھڑک سا اٹھتا ہے۔ کیمرا کے ایک بڑے لینس جتنی دراڑ تھی دو جُڑے ہوئے پتھروں کے بیچ۔ اس لینس سے خانہِ کعبہ کو یوں فوکس کیا ہوا تھا کہ نگاہ کا مرکز صرف خانہِ کعبہ ہو سکتا تھا۔
عمر تو ابھی باشعور نہ تھی مگر اُس لمحہ بھر میں مجھ پر جیسے غارِ حرا کا اسرار کھُل سا گیا۔ خود ہی سمجھنے کی گستاخی کر لی کہ غارِ حرا کی مکمل تنہائی اپنا کیا اثر چھوڑتی ہوگی! جب دیکھنے کے لیے نگاہ کو صرف بیت اللہ میسر ہو!
غار حرا تک پہنچنے کے اُس منظر سے پہلے بچپن میں سنتی تھی کہ میدانِ عرفات میں ہر دعا قبول ہوتی ہے۔
میں بھی ریت سے گھروندے بناتے ہوئے لگے ہاتھوں اپنے زرا سے دل میں پڑی ناممکن خواہشوں کی دعائیں مانگتی تھی۔
پتہ نہیں زندگی جو میرے حصے میں آئی، اس میں ان دعاؤں کا کتنا حصّہ شامل ہوا!
مگر اماں بہت ہی اونچی آواز میں ہاتھ اٹھائے میدانِ عرفات میں میرے لیے دعائیں مانگا کرتی تھیں۔ اماں کی دعاؤں کا مرکز اکثر میں ہی ہوا کرتی تھی۔ اپنے لیے تو وہ صرف استغفار کا ورد کرتی تھیں۔ خود کو دنیا کا سب سے بڑا گنہگار تصوّر کرتی تھیں اور ناکردہ گناہوں کی معافی کی بھی طلبگار رہتی تھیں۔ بہشت کی خواہش خال خال ہی ہوتی تھی۔ دوزخ کا خوف اور قبر میں منکر نکیر کا سامنا انہیں زیادہ پریشان کرتا تھا۔ مجھے وہ اپنی مرضی کا دیکھنا چاہتی تھیں۔ شاید میری شرارتوں، ضدی طبیعت اور منہ پھٹ عادتوں سے بھی وہ عاجز آئی ہوئی تھیں! اس لیے ایک دعا تو وہ میرے لیے پابندی سے دہراتی رہتی تھیں کہ یا اللہ نورالہدیٰ کا دل نرم کر دے اور اسے ہدایت والا بنا۔
اماں میرے دل کی نرمی کی دعا مانگ رہی ہوتیں اور میں عرفات کی ریت کو پانی سے نرم کر کے قطار در قطار گھروندے بنا رہی ہوتی اور ان میں اپنے تصوراتی کرداروں کو بسا رہی ہوتی۔
شام ڈھلے سے پہلے میدانِ عرفات چھوڑ کر مزدلفہ پہنچنا ہوتا تھا۔
مزدلفہ عجب پراسرار میدان محسوس ہوتا تھا مجھے۔
تاروں بھرے آسمان تلے، نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا کنکریوں بھرا میدان۔ جابجا بسیں اور گاڑیاں کھڑی ہوتیں۔ اپنی اپنی بس اور گاڑی کی اوٹ میں سب ہی کا شب بھر کا پڑاؤ ہوتا۔ مزدلفہ کے کنکر کنکر میدان سے شیطان کو مارنے کے لیے کنکر چننا ہوتے تھے۔
میرے لیے بھی یہ بہت ہی دلچسپ شغل ہوتا تھا۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ میں نسبتاﹰ بڑے پتھر چنوں اس ان دیکھے شیطان کے لیے جس نے ابھی مجھے بہلا پھسلا کر گناہوں پر آمادہ نہیں کیا تھا۔
جتنے انگنت کنکر مزدلفہ کی زمین پر بکھرے تھے، اتنے ہی لاتعداد تارے اس کے آسمان پر پھیلے ہوتے تھے۔ کنکر چننا اور تارے گننا ہی مزدلفہ کے میدان کی لذت تھی۔
یوں شب بیت جاتی، صبحِ صادق پھر منیٰ کا رُخ کرنا ہوتا تھا۔ منیٰ واپسی کا یہ سفر مزید مشکل اور طویل ہو جاتا تھا۔ اب تک پورا ٹریفک بے ترتیب ہو کر الجھ چکا ہوتا تھا۔ گھنٹوں گاڑیاں گرمی اور دھوپ میں پھنسی کھڑی رہتیں۔ زرا زرا سی جنبش کرتیں، پھر ٹھہر جاتیں۔ اوپر سے بھوک اور پیاس بھی اس مشکل سفر کی آزمائش ہوتی۔
مجھے بابا نے بھوک اور پیاس میں چپ رہنا پتہ نہیں کب سے سکھایا ہوا تھا۔
بابا خود بھی بڑے سکون کے ساتھ بس کی سیٹ پر بیٹھے ہوتے۔ کوئی آہ بھرتا تو اسی سکون کے ساتھ کہتے حج جسم کی زکواة ہے۔ اپنے رب کے حضور یہ جسمانی تکلیف ہی تو پیش کرنا ہے حج کی ادائگی کرکے، ورنہ تو یہ محض ایک سفر ہے۔ یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں۔
اس جسمانی زکواة کا ایک واقعہ یادوں میں نقش رہ گیا۔
حج کے ہی ایک سفر کے دوران منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے اماں اور پوپھو نے بس کی کھڑکی سے چند حبشی عورتوں کو کچرے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹکڑے اٹھاتے ہوئے دیکھ کر قدرے ناگواری کا اظہار کیا تھا کہ اب یہ گندی روٹیوں کے ٹکڑے یہ لوگ کھائیں گے!
اگلے دن ہم عرفات اور مزدلفہ کرکے واپس منیٰ لوٹ رہے تھے۔ پورا دن ٹریفک میں پھنسے رہے۔ شام کو منیٰ پہنچے تو بھوک اور پیاس سے بے حال ہو چکے تھے۔ میں نے رونا شروع کر دیا۔جلدی میں اماں اور پوپھو نے کچھ بنا تو لیا مگر روٹی نہیں تھی جس سے کھایا جائے اور کسی کی بھی بھوک میں مزید انتظار کی سکت نہ رہی تھی۔ بابا ہر طرف روٹی تلاش کرکے مایوس لوٹ آئے۔ پورے منیٰ میں کہیں روٹی نہیں تھی۔ حالانکہ ان دنوں بھی پکی پکائی روٹی کی کئی طرح کی اقسام سعودی عرب میں انتہائی سستے داموں وافر مقدار میں بکتی بھی تھیں اور جگہ جگہ میسر بھی ہوتی تھیں۔ مگر اس دن روٹی نہ ملنا تھی سو نہ ملی۔ اچانک پوپھو اٹھیں اور باہر نکل گئیں۔ کچھ دیر بعد لوٹیں تو ہاتھ میں کچرے کے ڈھیر سے اٹھائے ہوئے روٹیوں کے ٹکڑے تھے۔ بنا کچھ کہے چولہا جلایا۔ روٹی کے ٹکڑوں کو پانی اور کپڑے سے صاف کیا۔ چولہے کی آگ پر سینک کر انہیں گرم کیا اور دستر خوان پر رکھ دیا۔ ہم سب نے خاموشی کے ساتھ پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ یوں بہت ہی بچپن میں زندگی نے ایک سبق سکھا دیا۔
بابا ہمیشہ ایک بات ان سب رشتہ داروں کو کہا کرتے تھے جو حج کے لیے ان کے شریکِ سفر بنتے تھے۔
کہتے تھے اس سفر اور اس زمین سے عیب مت نکالو۔ اگر کوئی عیب نظر بھی آئے تو سمجھو کہ تمہاری آنکھ کا دھوکہ ہے۔
منیٰ میں شیطان تب اپنی قدیم صورت میں موجود تھا۔ کنویں کے سے دائرے کے اندر سے سفید چونا لگے پتھر کا سر نکالے جھانک رہا ہوتا تھا گویا۔ پتھراؤ کی وجہ چونا جگہ جگہ سے یوں اکھڑا ہوتا جیسے بہت سے لوگوں نے منہ نوچ ڈالا ہو اس کا! مگر کمبخت ہر سال اسی ڈھٹائی سے کنویں میں سے گردن نکالے، دانت نکوسے کھڑا ملتا۔
بابا مجھے کندھوں پر سوار کر کے شیطان کو کنکریاں مارنے کو کہتے۔ ساتھ ساتھ کہتے جاتے کہ آہستہ ۔۔۔۔ کسی کو کنکر لگ نہ جائے۔
ایک صاحب ایک دو بار حج میں ہمارے شریکِ سفر بھی ہوئے۔ وہ تو آخری دن منیٰ سے نکلتے وقت شیطان سے معافی تلافی بھی کرتے جاتے کہ اچھا یار! زندگی رہی تو ساتھ سلامت۔ گھر پر تو ملاقات ہوگی ہی۔ میرے ہاتھوں چوٹ زیادہ لگی ہو تو معاف کر دینا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

