وجاہت مسعود کو غصہ کیوں آتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ اس وقت کالم لکھ رہے ہوں گے؟ ابو بہانہ کا فون جب وجاہت بھائی نہ اٹھا سکے تو یہ سوال اس بندے سے کیا گیا جس نے ان کی جگہ فون اٹھایا۔ ہاں بھئی ایسا ہی ہے، آپ بہتر سمجھتے ہیں، یہ وقت ان کے لکھنے کا ہے۔ جب آگے سے ہمم کی ایک لمبی آواز آئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ریسیور کی دوسری طرف موجود آدمی یا تو کچھ سوچ رہا ہے یا جو پیغام دینا ہے اسے مختصر اور صاف الفاظ میں مرتب کر رہا ہے۔

جناب، سچ سچ بتائیں، وہ بولتے بولتے ایک دم جوش میں آ جاتے ہوں گے، یکایک کرسی سے اٹھیں گے، ایویں کمرے کا ایک چکر لگائیں گے، تھوڑا سا کالم چلتے ہوئے بول کر لکھوائیں گے، پھر آ کے بیٹھ جائیں گے، پھر سگریٹ لگائیں گے، پھر خیال آئے گا تو ایک چکر باہر کتابوں کے پاس سے لگا کر آئیں گے، پھر لکھوانے لگیں گے؟ ایسا ہی ہے نا؟ میں جانتا ہوں کہ اگر ابھی انہوں نے فون اٹھا بھی لیا تو وہ کچھ ایسے بات کریں گے، “جی بھائی، جی ٹھیک ہے، جی درست فرمایا، تو بس ایسے ہے کہ میں ذرا لکھ لوں تو ۔۔۔ اچھا، ٹھیک ہو گیا، جی عزیز من ٹھیک ہو گیا، جی بہتر، جی بہت بہتر، اوہو ٹھیک ہے نا، چلیے پھر بات ہوتی ہے۔” یہ کہتے ہی فون سے جان چھڑانے والی کریں گے۔ ایسا ہے کہ نہیں ہے؟

“جناب” نے ایک قہقہہ لگایا اور بات ایسے ہی چلتی رہی۔ اس وقت بھائی نیچے کسی کام سے گئے ہوئے تھے، دن کالم لکھنے ہی کا تھا، جب تک وہ آ نہیں گئے، انہیں کی باتیں ہوتی رہیں۔ فون کرنے والا امریکہ سے فون کر رہا تھا اور اس کی باتوں میں، اس کی ساری ہنسی میں، تمام قہقہوں میں گئے وقتوں کی یاد اور ایک درد موجود تھا جو پاکستان میں بیٹھا ہوا آدمی پوری کال کے درمیان محسوس کرتا تھا۔ کیوں محسوس کرتا تھا؟ اس لیے کہ وہ جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ وقت کی ایک معمولی سی جنبش بے وقعت جانداروں کو کہاں سے کہاں گھما کے پھینکتی ہے، تو بس جو کچھ ہے لمحہ موجود ہے، جتنا ہو سکے اسے پسندیدہ لوگوں میں گزار لیا جائے، کل ۔۔۔ یہ بہرحال ایک ظالم لفظ ہے۔

وجاہت بھائی کالم والے دن صبح اٹھیں گے، روزمرہ کے معاملات دیکھیں گے، اخبار پڑھا جائے گا، نوٹس لیے جائیں گے، چائے کا ایک کپ چلے گا اور دو تین گھنٹے بعد تمام معمولات سے فراغت پر عموماً کالم کا خاکہ ذہن میں ہو گا۔ اب اس وقت کوئی لکھنے والا موجود ہے تو فبھا، نہیں ہے تو جیسے تیسے لکھنا شروع کر دیں گے۔ کالم آدھے سے پونے گھنٹے میں لکھا جائے گا لیکن اس سے پہلے کے تین چار گھنٹے وہ باقاعدہ دماغ میں تیار ہو گا۔ بعض اوقات سوتے ہوئے بھی یہی چل رہا ہو گا، اٹھیں گے تو ہاف بیکڈ کالم ذہن میں ہو گا، باقی کے لیے فوراً جا کے کمپیوٹر پہ بیٹھ جائیں گے۔ اس دن وہ ناشتہ بھی نہیں کرتے۔ ایک سے ڈیڑھ بجے کے دوران عموماً کالم پورا ہوتا ہے، مزید آدھا سے ایک گھنٹہ اس کی فنشنگ کرتے ہیں تب جا کے بارہ تیرہ سو لفظوں کا وہ دیدہ ور پیدا ہوتا ہے جس کے چکر میں نرگس بیمار کم از کم تین چار گھنٹے کی اذیت بھوگتی ہے۔

اس کتاب میں بیاسی کالم ہیں، فی تحریر دو سو پچاس منٹ کی ایوریج بھی رکھی جائے تو کم از کم بیس ہزار منٹ تو پہلے ڈرافٹ میں لگے، پھر چھپنے سے پہلے جو پروف ریڈنگ اور سلیکشن کا عمل تھا، تقریباً اتنا ہی وقت اس میں لگا ۔۔۔ اتنا وقت کیوں لگا؟ لکھنے والے کو بہت شدید احساس ہے کہ ہر ایک سنگل لفظ اگر ذرا سا بھی غلط برتا گیا تو جو وہ کہنا چاہتا ہے اس کی شدت اور اس کی تفہیم میں ٹھیک ٹھاک فرق آ جائے گا، یہ ناقابل برداشت ہے۔

اسے موزوں تر عنوان سوچنا ہے، اسے پہلا  پیرا ایسا قاتل بنانا ہے کہ وہ باقاعدہ کالم کا سہرا بن جائے، اسے ایک ایک تاریخ حالانکہ یاد ہے، لیکن پھر بھی ری چیک کرنی ہے، اسے اپنے غصے کو مکمل طور پہ لفظوں کی شکل دینی ہے، اسے قاطع برہان دلیل دینی ہے، ذہن میں جو ہزاروں ادبی حوالے قید ہیں، شعر پھڑپھڑاتے ہیں، وہ بھی کہیں بٹھانے ہیں، لیکن کون سے بٹھائے جائیں اور کون سے اڑائے جائیں، یہ ایک الگ مشکل ہے ۔۔۔ قابل رشک حد تک عجیب سی بات ہے کہ لکھنے والے کا دماغ تاریخی واقعات، ادبی حوالوں اور اشعار سے اس طرح بھرا پڑا ہے کہ آپ حوالہ پوچھیے اور عموماً کتاب کا صفحہ نمبر بھی آس پاس کا بتا دیا جائے گا۔ پھر ان سب چیزوں کے ساتھ جو چار پانچ لائنوں کے نوٹس ہیں ان پہ مکمل عمارت کھڑی کرنی ہے اور بولتے ہوئے کرنی ہے۔ تو وہ لکھنا دراصل بولتے لیکچر کی ایک صورت ہے جو مکمل کمپوز ہونے کے بعد پورا کالم چالیس پینتالیس منٹ میں پورا کروا جاتی ہے۔

بہار آئے تو شاخوں پہ پھول گن لینا، میں کیا بتاؤں میرے کتنے یار مارے گئے۔ کتاب کا انتساب ان زخموں کے نام ہیں جو لکھنے والے کے سینے پہ اب بھی ویسے ہی تازہ ہیں جیسے پہلے دن تھے۔ زرطیف خان آفریدی، جرار ملک ایڈوکیٹ، پروفیسر سید شبیر حسین شاہ، راشد رحمن ایڈوکیٹ اور ارشاد مستوئی دہشت گردی کی راہ میں جان دینے والے وہ ان سنگ ہیروز تھے جن کے نام یہ کتاب معنون ہے۔

عنوان کی بات میں نہیں کروں گا، میں زیادہ تعریف بھی نہیں کر سکتا، جاننے والے جانتے ہیں کہ جو نسبت سلیم احمد کو حسن عسکری سے تھی، انور سدید کو وزیر آغا سے تھی، عطاالحق قاسمی کو احمد ندیم قاسمی سے تھی، ہلال نقوی جوش صاحب سے رکھتے تھے، عقیل روبی ناصر کاظمی سے رکھتے تھے، حسن عسکری کی فراق سے تھی، اس کا دسواں حصہ بھی سمجھا جائے تو فقیر کو خود وجاہت مسعود سے ہے۔ وہ سب بڑے لوگ تھے، انہیں میں سے ایک یہ بھی ہیں، طالب علم اس صف میں کھڑے ہونے کا دعویدار نہ ہے، نہ ہو سکتا ہے لیکن اپنی محبت اور نسبت بتانے کے واسطے یہ چکر چلائے جاتا ہے۔ تو چند عنوان دیکھیے؛

قائد کی قبر کس نے کھودی؟
دیکھ دریا ہے، کنارے کو سنبھال!
لکھو کہ رہوار تھک گئے ہیں۔۔
اکبر خان کیا چاہتا ہے؟
تانگے جھنگ جاندے
گنو! ہیں قبروں پہ پھول کتنے۔۔
مردہ آدمی کے دانت کی تلاش
ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں۔۔
پانچواں کالم کون لکھ رہا ہے؟
اک غبی سے ڈرتے ہیں
کہا کہ ڈرون کا ڈر ہے

اور اس کے علاوہ ایسے بہت سے عنوان ہیں جو ذرا بھی شاعرانہ طبیعت رکھنے والے کو گھسیٹ لیں مگر اندر مغز ہونا، ایں چیزے دیگر است۔ اس شاعری اور ادب وغیرہ کے چکر میں لپیٹ کے ایسی تگڑی گولی دی جاتی ہے کہ ہر چوتھا کالم دیر سے، بہت زیادہ ادارتی غوروغوض کے بعد چھپتا ہے اور پانچواں تو شاید ہی کبھی صحیح سلامت چھپا ہو۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اخبار جو بھی ہو، اکثر وہ چھپ جاتا ہے جو رکنا چاہئیے تھا اور بعد میں وہ کالم رکتا ہے جو چھپ بھی جاتا تو گل محمد اور زمین دونوں اپنی جگہ پر قائم رہتے۔

اسد محمد خان، خدا انہیں صحت و تندرستی عطا کرے، انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی، دا ہارویسٹ آف اینگر، غصے کی نئی فصل، تو یہ جو کالم ہیں یہ بس غصے کی فصل اور تہذیب کی فصیلوں کے درمیان چلتے ہوئے اس آدمی کی کہانیاں ہیں جو اپنی فطرت میں عین ناری لیکن وجود میں ادب آداب کے خمیر سے گندھا ایک خاکستر  سا انسان ہے۔ جو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لوگ، اپنے دوست یار، اپنے نظریات، اپنے آدرش، اپنے خواب، اپنا سب کچھ مرتے ہوئے، تباہ ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے لیکن کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لکھ سکتا ہے، اور لکھا جائے گا کہ اسی لکھنے کے باعث وہ شہر کوفے کا ایک آدمی نہیں تھا، جو اس کے بس میں تھا، اس سے زیادہ وہ کر گزرا۔

۲۰۱۲ سے ۲۰۱۳ تک لکھے گئے یہ کالم اس دور کے ہیں جب ہم اچھے طالبان اور برے طالبان کی چھپن چھپائی کھیلتے تھے۔ جب لکھنے والے بشارتوں سے کام چلاتے تھے اور چائے کے کپ میں سگریٹوں کے دھوئیں سے آندھیاں چلا کر مدعا سیدھا کیا جاتا تھا۔ اس کتاب کے ہر کالم پہ درج تاریخ دیکھنا اتنا ہی ضروری ہے جس قدر ناصر کاظمی کی تمام شاعری سنین کے حساب سے پڑھنا فرض ہے۔ وہ اس لیے فرض تھا کہ ان کی تمام شاعری میں قیام پاکستان سے ان کی موت تک کے مکمل سیاسی حالات کی گونج سنائی دیتی ہے اور ادھر اس لیے ضروری ہے کہ اس ایک برس کے دوران معاصرین کیا لکھتے تھے، یہ موازنہ کیا جا سکے۔

آئی اے رحمان صاحب نے وجاہت بھائی کے بارے میں دو باتیں کہیں اور دیباچہ لوٹ لیا، ایک تو یہ کہ ان کے کالموں میں زیادہ تر فیض اور ان کے بعد کے جوان شعرا کی سلیکشن نظر آتی ہے جو کلاسیکی شاعری کے بے جا تسلط سے ریلیف دیتی ہے اور دوسری، وہ انہیں کے الفاظ میں دیکھیے؛
“ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وجاہت مسعود کا دل چاہتا ہے کہ وہ امید کے چراغ روشن کریں لیکن حقیقت پسندی کی رگ آڑے آتی ہے، نواز شریف کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر ان کا دل پگھل جاتا ہے اور آصف علی زرداری کے ضبط کے لیے کلمہ خیر خطا ہو جاتا ہے۔”

یہ کتاب پانچ والیومز میں آئے گی۔ پہلا حصہ گذشتہ ماہ سنگ میل سے شائع ہوا جو اس وقت نظروں کے سامنے ہے۔ خدا یہ خواب جلد از جلد پورا کرے۔ کم از کم کوئی ایک تو خواب ہو جو پورا ہو جائے؟ لیکن وہ مرے خواب، مرے خواب، مرے خواب!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain