آزادے حسین کا انتخاب فینا رینے وسکایا کون تھیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک طرفہ قوم ہیں۔ ہمارا قومی مشغلہ دوسروں کی زندگی میں بلا اجازت ناک گھسیڑنا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ سال کے 365 دنوں میں ہم ایک خاص دن پر پیدا ہوئے۔ اس خاص دن میں بھی خدا کی قدرت سے ایک شبھ گھڑی میں ہمارا جنم ہوا۔ ہماری جیب میں دنیا کے ہر مسئلے کا امرت دھارا حل رکھا ہے۔ ہر انسان پر فرض ہے کہ اپنا عقیدہ ہم سے پوچھ کر طے کرے بلکہ ممکن ہو تو گاہے گاہے ہم سے تجدید ایمان کراتا رہے۔ اپنی خلوت کے مشاغل ہم سے پوچھ کر اختیار کرے۔ کون سی کتاب پڑھنے کے قابل ہے، اور کون سی آتش زدنی، یہ ہم ہی بتا سکتے ہیں۔ شریک حیات کے انتخاب میں ہمارا مشورہ بلکہ فیصلہ تسلیم کرنا دوسروں پر لازم ہے۔ آپ کا پیشہ مفید ہے یا کار لاحاصل، ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ کھانے پینے میں آپ کی پسند ہماری ترجیحات کے تابع ہونی چاہیے۔ اور یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ کے لباس کی منظوری ہم سے لی جائے۔ دنیا کے ساڑھے سات ارب انسانوں کے لئے ہماری رائے دلیل، حکم بلکہ فتوے کا درجہ رکھتی ہے۔ دوسری طرف اگر آپ نے ہماری کسی کوتاہی کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی تو آپ بدباطن، کم عقل، بد بخت، جہنمی اور ناقابل اصلاح حد تک بدکردار قرار پائیں گے۔ آپ ہمارے بارے میں کینہ رکھتے ہیں۔ آپ سازشی ہیں۔ آپ عقل کے اندھے ہیں۔ آپ جہالت کی تحت الثریٰ میں ہیں۔ اور یہ کہ دنیا اور عاقبت میں آپ کی بربادی نوشتہ دیوار ہو چکی۔

ایک محترم خاتون ہیں، نام آزادے حسین ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نواسی اور بے نظیر بھٹو کی بھانجی ہیں۔ بیرون ملک پیدا ہوئیں، وہیں پلی بڑھیں۔ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ اداکاری میں نام پیدا کیا ہے۔ ان دنوں آزادے حسین کی ایک آنے والی فلم “رینے وسکایا”کا چرچا ہے۔ اس فلم کی خبر درویش بے نشاں نے اپنے ہاتھ سے لکھی۔ خیال رکھا کہ اہل وطن کے آبگینوں کو ٹھیس نہ پہنچے۔ کوئی لفظ غیر محتاط نہ ہو۔ تشہیری ویب سائٹ پر موجود تصاویر بغیر کسی قطع برید یا انتخاب کی بجائے اسی ترتیب سے خبر کا حصہ بنا دی گئیں۔ اس پر حسب توقع نوع بنوع ردعمل آیا۔

ایک برادر محترم نے چھوٹتے ہی اعتراض جڑ دیا کہ محترم اداکارہ کا نام آزادے حسین نہیں بلکہ آزادی حسین ہے۔ گویا عزیز محترم لفظوں کے مادے اور تلفظ کے ممکنہ اختلاف سے آشنا نہیں۔ آزادے حسین کے والدین پاکستان کی طرح ایران کی ثقافت اور تہذیبی روایت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ آزادے حسین اپنے نام کا تلفظ اختیار کرنے میں آزاد ہیں۔ وہ اپنا نام آزادے حسین ہی لکھتی ہیں۔

کچھ دوستوں کو فکر لاحق ہوئی کہ بھٹو خاندان کی چشم و چراغ نے مناسب پیشے کا انتخاب نہیں کیا۔ کچھ نے شک ظاہر کیا کہ آزادے حسین فلموں میں کام نہیں کرتیں۔ ثبوت میں ان کی فلموں کے نام پوچھے گئے۔ گویا خبر پڑھنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ پہ تفصیل دی جا چکی تھی۔ یہ بتانا سرے سے بے کار تھا کہ پیشے کا انتخاب ہر انسان کی شخصی آزادی ہے۔ سیاست میں بھٹو خاندان پہ جو گزری، بھر پائے۔ موجودہ نسل کے نوجوان اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں تو ہم کیا زبردستی انہیں سیاست میں گھسیٹ لائیں؟

کچھ خیر خواہوں کو آزادے حسین کے لباس پر اعتراض ہوا۔ گویا ان کی طے کردہ حدود سے کم یا زیادہ لباس ان کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ فیض صاحب نے ایسے خوش اندیشوں کا حال بیان کیا تھا۔۔۔

یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا

مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے

اور مجید امجد نے کہا تھا۔۔۔ یہ میرا دامن صد چاک، یہ ردائے بہار۔۔۔ جون ایلیا ایک بے درنگ صاحب حال تھا۔ سیدھے سیدھے لکھ دیا، پھٹی ہوئی ہے دلائی، بنے ہیں علامہ۔۔۔

مشکل یہ ہے کہ قابل غور نکتے پر بات ہی نہیں ہوئی۔ کسی نے پلٹ کر پوچھا ہی نہیں کہ 1896 میں پیدا ہونے والی روسی اداکارہ فینا رینے وسکایا کون تھیں؟ ان کی شخصیت میں ایسا کیا تھا کہ ایک صدی بعد جنم لینے والی فن کارہ آزادے حسین ان کے کردار کی تہیں دریافت کرنا چاہتی ہیں۔ اس موضوع میں رینے وسکایا کے لباس کو کیا دخل ہے؟

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کئے

ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

ہر قوم کی تہذیبی، تخلیقی اور فکری روایت میں کچھ لوگ استعارے کا درجہ پا جاتے ہیں۔  شیکسپیئر کا نام آئے گا تو انگلینڈ کا ذکر ہو گا۔ ایران کا ذکر حافظ شیرازی کے بغیر کیسے مکمل ہو گا۔ پاکستان کا تذکرہ ملکہ ترنم نور جہاں کے بغیر ادھورا رہے گا۔ مصر کی کہانی ام کلثوم کے بغیر نامکمل ہے۔ ہندوستان اور نوشاد کا ستار ایک ہو گئے۔ امریکا کا تعارف مارلین منرو کے شعلہ مستعجل سے طے پاتا ہے۔ فینا رینے وسکایا جدید روس کا چہرہ ہیں۔

رینے وسکایا کے والد صاحب جائیداد تھے اور روس کی یہودی کمیونٹی میں رہنما سمجھے جاتے تھے۔ والدہ آرٹ اور ادب کی دلدادہ تھیں۔ فینا 1915 میں گھر چھوڑ کر تھیٹر میں کام کرنے کے لئے ماسکو چلی گئیں۔ گھر والے اس انتخاب پر خوش نہیں ہوئے۔ دلوں میں فاصلہ آ گیا جو باقی رہا۔ اس دوران اکتوبر 1917 کا انقلاب ہو گیا۔ پڑھنے والے تاریخ اور سیاست جانتے ہیں۔ ایک گریز حسن شہید سہروردی کے نام پر ہو جائے۔

(حسن شاہد (بائیں) اور ڈی ایچ لارنس (دائیں

حسن شہید سہروردی پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے بڑے بھائی تھے۔ حسن شہید بھی تھیٹر کی لپک میں 1914 میں روس چلے گئے تھے۔ وہاں ایک روسی فنکارہ سے جان پہچان ہو گئی تھی۔ انقلاب اکتوبرکی رستا خیز میں جان بچا کر ہندوستان واپس آئے۔ ڈی ایچ لارنس سے دوستی تھی۔ بہت برس بعد 1929ء میں سوویت یونین جا کر ماسکو آرٹ تھیٹر میں کام کیا۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں ادیبوں کی بین الاقوامی تنظیم PEN کے بانی سربراہ رہے۔ کراچی میں وفات پائی۔ کبھی شادی نہیں کی۔ کچھ رنج دلی میر جوانی میں کھنچا تھا۔۔۔ یہ رہا حسن شہید سہروردی کا ذکر۔ خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را۔۔۔ اب واپس فینا رینے وسکایا کی طرف چلتے ہیں۔

رینے وسکایا آزادہ رو اور آزاد طبع تھیں۔ سوچ پختہ تھی، فن کی کھوج میں گہرا اترتی تھیں۔ منہ پر آئی بات روکنے کی قائل نہیں تھیں۔ جو کہتی تھیں، کر گزرتی تھیں۔ روس کے قدامت پسند معاشرے میں رینا وسکایا کا گھرانہ معتوب یہودی عقائد رکھتا تھا۔ ذاتی طور پر عقیدے کی جکڑ بندیوں سے بے نیاز تھیں۔ ہنر میں تہ دار تھیں۔ ایسے فنکار راتوں رات مقبول نہیں ہوتے۔ زندگی بھر ثانوی کردار ادا کئے۔ اسی میں ایسا کمال پیدا کیا کہ 1992ء میں برٹش انسائیکلو پیڈیا نے بیسویں صدی کے دس بہترین اداکاروں میں شمار کیا۔

رینے وسکایا حسن کے روایتی معیارات پر کسی قدر کم رو تھیں۔ ایک فلم ساز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ خالص یہودی خدوخال ہیں۔ نتیجہ یہ کہ فینا رینے وسکایا نے زندگی میں صرف تین فلموں میں کام کیا۔ ان میں سے ایک فلم موپاساں کے شہرہ آفاق افسانے مومی گیند (Boule de Suif) پر مبنی تھی۔ اس خاموش فلم میں رینے وسکایا نے فربہ اندام طوائف کا کردار کیا تھا۔ آج بھی مادام الزبتھ روسے کے کردار سے رینے وسکایا کی شبیہ وابستہ ہے۔

رینے وسکایا نے ٹالسٹائی، دوستوئے وسکی، چیخوف اور گورکی کے ڈراموں میں کام کیا۔ فینا نے تھیٹر کی دنیا میں اپنا نام رینے وسکایا چیخوف کے ڈرامے شاہ دانے کا باغ (Cherry Orchard) سے لیا تھا۔ ان کا خاندانی نام تو فینا فیلڈمین تھا۔ آزادے حسین نے اپنی فلم کی تھیم شاہ دانے کا باغ ہی سے اخذ کی ہے۔ چیخوف کے ادبی اسلوب سے آشنا افراد جانتے ہیں کہ وہ آدھی بات مکالمے میں ادا کرتے تھے اور آدھی بات کردار کے ملبوس میں رکھ دیتے تھے۔ آزادے حسین کی تصاویر اور لباس پر اعتراض کرنے والے غالباً نہیں جانتے کہ فلابیئر، ایمل زولا اور چیخوف جیسے تخلیق کار تو خدوخال، بن مو، ران اور پستان کے بیان میں کردار سازی کا ہنر دکھاتے ہیں۔ (حوالے کے لئے دیکھیے محمد حسن عسکری)

سوویت یونیں کے مرکزیت پسند، ہمہ اختیار اور آمرانہ  نطام میں فن کا لوہا منوانا آسان نہیں تھا۔ فن پرواز کی فضا مانگتا ہے۔ آمریت آزادی سے خوفزدہ ہوتی ہے۔ فن بذات خود جبر کی مزاحمت ہے۔ رینے وسکایا کا فنی اظہار اس قدر طاقتور تھا کہ انہیں 1949 میں اسٹالن پرائز دیا گیا۔ اور پھر 1965 میں پیپلز آرٹسٹ آف دی یو ایس ایس آر کا اعلیٰ ترین اعزاز ملا۔ فن کار اپنے فن کا انتخاب نہیں کرتا۔ فن اپنے محسن کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔

رینے وسکایا کے کاٹ دار جملوں کی شہرت تھی۔ ان کی اداکاری کی طرح ان کا جملہ بھی چہکتا ہوا خوش رنگ پرندہ تھا۔ روایت کے اسیر نہیں جانتے کہ ایک مختصر جملے میں فکر اور تجربے کی کیا تہیں رکھی جا سکتی ہیں۔ کچھ نمونے دیکھئے۔

٭ ایک اچھا مرد خاتون کی سالگرہ یاد رکھتا ہے اور اس کی عمر بھول جاتا ہے۔ کچھ مرد خاتون کی عمر یاد رکھتے ہیں اور سالگرہ بھول جاتے ہیں۔ انہیں شوہر کہا جاتا ہے۔

٭ زندگی کیا ہے؟ ابدی نیند سے کچھ پہلے تھوڑی سی ہوا خوری۔

٭ شادی زندگی کی سب دلچسپیوں کو کھا جاتی ہے۔ شادی کرنے سے پہلے فیصلہ کر لو کہ شادی کرنی ہے یا زندگی گزارنی ہے۔

٭ میرے خدایا، میں کس قدر بوڑھی ہو گئی ہوں۔ میں نے وہ وقت بھی دیکھ رکھا ہے جب کچھ لوگ مہذب ہوتے تھے۔

٭ پریوں کی کہانی میں تم ایک ڈراؤنے جن سے شادی کرتی ہو اور وہ اندر سے شہزادہ نکل آتا ہے۔ حقیقی زندگی میں اس سے الٹ پیش آتا ہے۔

٭ بڑھاپا اذیت ناک ہوتا ہے مگر لمبی زندگی کے شوق میں بڑھاپا دیکھنا پڑتا ہے۔

٭ خدا نے عورتوں کو خوبصورت بنایا تاکہ مرد ان سے محبت کر سکیں۔ اور پھر عورتوں کو احمق بنایا تاکہ وہ مردوں سے محبت کر سکیں۔

٭ امید پسندی کیا ہے، معلومات کی کمی۔

رینے وسکایا ایک روز اپنے کمرے میں لباس سے مکمل بے نیاز ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے سگریٹ پی رہی تھیں۔ ایک تھیٹر ڈائریکٹر بغیر دستک دیے اندر چلا آیا مگر یہ منظر دیکھ کر ہکا بکا ہو کر دروازے پر رک گیا۔ رینے وسکایا نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا، آئیے آئیے، آپ تو یوں ٹھٹھک گئے جیسے کبھی کسی کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا۔

آزادے حسین کی فلم، فن اور لباس پر اعتراض اٹھانے والوں نے غالباً کبھی کسی کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا۔

(4 نومبر، 2017)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •