علامہ اقبال کی جناح صاحب پر ایک ”ترک شدہ“ تنقیدی نظم

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ جن کا اردو و فارسی کلام آج بھی کروڑوں انسانوں کے قلب و زباں پر رہتا ہے۔ علامہ اقبال شاعر، فلسفی، قانون دان ہونے کے ساتھ ایک فعال سیاستدان بھی تھے اور ملت کی راہنمائی کرنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اسی اصول کے تحت جو بات بھی خلاف ملت خیال کرتے اس پر آواز بلند کرتے تو کبھی اپنے اشعار کے ذریعے اس پر

Read more

غلبہ اسلام، طاق رات اور تاریک منزلوں کے راہی

سن 1095 پوپ اربن دوئم نے ’یروشلم چلو‘ کا نعرہ بلند کیا اور مسیحی دنیا میں جہاد کا بگل بج گیا، شہزادوں نے اپنی دھن دولت، امراء نے اپنی جاگیریں اور عام طبقے نے گھر کی ہر قیمتی چیز بیچ دی اور صلیبیوں کا لشکر جرار یروشلم پر چڑھ دوڑا۔ یوں پہلی صلیبی جنگ کی ابتداء ہوئی اور یروشلم پر مسیحیوں کا قبضہ ہوگیا اگلے اسی سال تک یروشلم کی فضاوں میں اذان کی صدا کی جگہ گرجا گھروں کی

Read more

اسرائیل کی ریاست: آہنی عزم کے اکہتر برس مکمل

ہمارے محلے کی چھوٹی سی مسجد میں بیٹھے قاری صاحب بڑے بڑے خواب دیکھا کرتے تھے اللہ غریق رحمت کرے پوری امت کا درد دل میں سمائے ہوئے تھے۔ اُس زمانے میں اللہ کے گھر کی خدمت کے عوض انہیں پانسو ماہوار ملتے تھے اور سر بکف و سربلندی کے دعویٰ کے ناتے جمعرات اور گیارویں کا ختم بھی نہ آتا تھا مگر ان سب مشکلات کے باوجود اس وقت بھی اپنے لڑکے کو اعلیٰ کوالٹی کے ”امریکی بادام“ کھلاتے

Read more

دیسی لبرلز کو آئینہ دکھائیے

اسی کے عشرے کے وسط اور نوے کی دہائی کے اوئل میں پیدا ہونے والے بچے ّ ہمارے معاشرے کے تغیر و تبدل کے گواہ ہیں۔ پیدا ہوئے تو گلی گلی یہ نعرے کانوں میں گونجتے تھے کل روس بکھرتا دیکھا تھا اب بھارت ٹوٹتا دیکھیں گے ہم برق جہاد کے شعلوں سے سے امریکہ جلتا دیکھیں گے۔ ذرا بڑے ہوئے تو جہاد دہشت گردی میں تبدیل ہو چکا تھا اور امارات اسلامیہ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔

Read more

لا اکراہ فی الدین، حکم اللہ اور ہماری منافقت

مارچ 1936 کے ایک پر آشوب دن کا ذکر ہے کہ بنوں سے سولہ سالہ یتیم ہندو لڑکی کو سید امیر نور علی نامی ’غیور‘ جوان نے اغوا کیا۔ اسی روز وہ رام کوری سے اسلام بی بی بنی اور بنت اسلام بنتے ساتھ ہی اغوا کرنے والے نوجوان نے اس سے نکاح فی سبیل اللہ کرلیا۔ خبر پھیلی برطانوی سامراج حرکت میں آیا اور لڑکی کی تلاش شروع ہوئی تو غیور قبائل نے لڑکی کو اسلام کے سدا بہار قلعے افغانستان منتقل کرنا چاہا مگر چونکہ اُس وقت فرنگی حکومت کے لئے سب ہندوستانی برابر تھے لہذا سازش ناکام بنا کر لڑکی کو ماں کے حوالے کردیا گیا۔ یہی وہ واقعہ تھا جس پر فقیر آف ایپی اتنا مشتعل ہوا کہ اسے اسلام ’خطرے‘ میں نظر آنے لگا اور اس نے ’اعلان جہاد‘ کردیا اور قبائلی سرزمین انگریزوں کے ساتھ ہندوؤں پر بھی تنگ کردی۔

Read more

یہ آگ آشیانہ جلا دے گی۔۔۔

بچپن میں ڈیڑھ انچ کی مسجد بنانا محاورہ سنا تھا مگر جب اندرون لاہور کی تنگ گلیوں میں ایک عرصے کے بعد جانا ہوا تو قدیم مکانات کے درمیان کم و پیش ہر گلی میں نو تعمیر شدہ وسیع مساجد کے بلند مینار اور پختہ ٹائلوں کے درمیان جامعہ رضویہ، قاسمیہ اور قادسیہ سے ملتے جلتے نام نظر آئے۔ کسی مسجد کے باہر بعد نماز عصر تبلیغی حضرات گشت کرتے دکھائی دیے تو کسی گنبد سے نماز سے پہلے صلوۃ

Read more

صدارتی ایوارڈ، مہوش حیات اور مستنصر حسین تارڑ

صاحبِ آواز دوست جب نو عمر تھے تو کہیں پڑھا کہ نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان جو کہ اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص تھے کی ترکیِ ٹوپی پر گرد کی تہہ جمی رہتی ہے۔ یہ پڑھ کر مختار مسعود کے دل میں نظام کے خلاف ایسی گرد بیٹھی جو عمر بھر ختم نہ ہوئی کچھ اسی طرح جب میں نو عمر تھا تو مستنصر حسین تارڑ جنہیں اردو کا نظام دکن کہا جا سکتا ہے "کیونکہ اس

Read more