حریت فکر کا میر کارواں: پروفیسر وارث میر

”کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل فکر و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو، اسی قدر تیزی سے وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا دانشور طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے، اس قوم کے زوال کے امکانات بھی اسی

Read more

اپنے ضمیر کا اسیر۔ پروفیسر وارث میر

مارشل لاء ادوار خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی ”پابند صحافت اور سیاست“ کے عام رجحانات سے بغاوت کر کے اپنے نظریات کو جرات اور سچائی کے ساتھ بیان کرنا اور پھر ان پر قائم رہنا کس قدر دشوار اور جان سے گزر جانے والی دیوانگی ہے، اس کا ادراک ضیاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور کوڑے کھانے والے صحافی اچھی طرح رکھتے ہیں۔ چونکہ پروفیسر وارث میر نے اپنی زندگی آزادیٔ

Read more