ایک ہاتھ سے کام کرنے والی ٹنڈی قوم!

میں جب اقبالؔ کو پڑھتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ خدا نے کنول کا یہ پھول کن پانیوں میں اُگایا ہے؟ گزشتہ رات کلیاتِ اقبال کا مطالعہ کرتے ہوئے میں ایک دفعہ پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ اقبال اپنی گری پڑی ہوئی قوم کو کھینچ کر اپنی سطح پر لانا چاہتا ہے لیکن…

Read more

ایک سنجیدہ دانشور کا چشم کشا خط!

محترم قاسمی صاحب، آداب! آپ کی مہربانی کہ آپ مجھے فنی (Funny) پوسٹس بھیجتے رہتے ہیں مگر یہ چیز آپ کے شایانِ شان نہیں، آپ ایک نامور شخصیت ہیں، آپ کو سنجیدہ قسم کی پوسٹس بھیجنا چاہئیں۔ یہ درست ہے کہ ملک میں اعصاب شکن صورتحال ہے، کسی طرف سے کوئی اچھی خبر نہیں آتی لیکن لوگوں کے چہرے پر وقتی مسکراہٹ لانے سے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ میں جو اپنے تجزیاتی مقالے ارسال کرتا ہوں آپ ان کی پوسٹس احباب کو روانہ کر دیا کریں، یہ آپ کی قومی خدمت ہوگی، آپ جو لطیفے بھیجتے ہیں ان میں کیا ہوتا ہے، ہلکی سی مسکراہٹ یا قہقہہ، اس سے تو لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

Read more

مکان کی بنیادیں!

میں بہت عرصہ قبل جس کرائے کے مکان میں رہتا تھا اس کے دو حصے تھے۔ میری رہائش اوپر کے حصے میں تھی، نیچے مالک مکان رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے یونین کمیٹی کا دفتر تھا۔ اس کے ساتھ ایک پلاٹ تھا اور اس پلاٹ کے برابر مسجد تھی۔ اس یونین کمیٹی، خالی پلاٹ…

Read more

انتظار فرمائیں!

آج میں آپ سے ایک عجیب و غریب تجربہ شیئر کرنے لگا ہوں، اس تجربے نے مجھے حیران کر دیا ہے، آپ ابھی کاغذ قلم نہ پکڑیں، دعا کریں۔ ایک ہفتے کے بعد اگر میں اس موضوع پر دوسرا کالم لکھوں تو آپ کو کاغذ قلم پکڑنے کی ضرورت پڑے گی اور آپ ایک مجرب…

Read more

صحافی بیٹے کے نام والد کا خط!

مجھے امید ہے تم میرے طویل خط سے بور نہیں ہو رہے ہو گے لیکن بیٹے تمہیں اگر بوریت محسوس ہو تب بھی میں نے اپنی زندگی جن اعلیٰ اصولوں کے مطابق بسر کی ہے وہ اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے تم تک ضرور منتقل کرنا چاہوں گا۔ بیٹے میں نے تمہیں بطلِ…

Read more

’’رنگ برنگے‘‘ لوگوں کے درمیان!

ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ ایک دوسرے کے رازوں سے واقف نہیں ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کا ظاہر نظر آتا ہے، باطن دکھائی نہیں دیتا۔ زندگی کے کتنے ہی شعبوں کے لوگ ہیں جنہیں ہم ان کے ظاہری لباس میں دیکھتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں لیکن وہ اصل میں کیا…

Read more

کیسے بے غرض دوست ہیں میرے!

خدا کا شکر ہے کہ لوگ اب کسی غرض کہ بغیر ہی ایک دوسرے سے ملنے لگے ہیں۔ بغیر غرض کے ملاقات کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ بہن بھائی، عزیز و اقارب اور دوست احباب تو ایک دوسرے سے ملتے ہی ہیں بالکل اجنبی لوگ بھی صرف فرطِ محبت سے بغیر کوئی فائدہ ذہن میں رکھے میل ملاقات کرنے لگے ہیں اور نفسا نفسی کے موجودہ دور میں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

چند روز قبل لاہور سے تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبے سے ایک صاحب کا فون آیا کہ آپ سے ملاقات کے لئے لاہور آنا چاہتا ہوں، آپ بتائیں کون سے دن آپ مل سکتے ہیں؟ میں نے کہا جس دن آپ لاہور پہنچ کر فون کریں گے امید ہے کہ اس دن ہم مل سکیں گے۔ اگر میری کوئی مجبوری ہوئی تو اس سے اگلے روز تو ان شاءاللہ یقیناً ملاقات ہو گی تاہم اگر آپ اپنی آمد کا مقصد بتا سکیں تو میرے لئے آپ کو یہ بتانا آسان ہوگا کہ اس مقصد کے لئے مجھ سے ملنا آپ کے لئے مفید ہے یا نہیں تاکہ آپ اتنا طویل سفر طے کرنے کی زحمت سے بچ سکیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا واللہ محض آپ کی زیارت مقصود ہے، اس کے علاوہ کوئی غرض نہیں میں نے کہا پھر جب چاہیں تشریف لائیں۔

Read more

دو نمبر معززین

بہت دفعہ اس سوال پہ غور کیا ہے لیکن تسلی بخش جواب ذہن میں نہیں آیا کہ قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان کے لوگ جوتوں کی مرمت کہاں سے کراتے تھے، حجامت کس سے بنواتے تھے، گھوڑوں کے سم کس سے لگواتے تھے، زمین کن سے کاشت کرواتے تھے، گھریلو ملازم کہاں سے لاتے…

Read more

اصغر ندیم سید کے لئے حرفِ سپاس!

کل بڑے عرصے کے بعد ایک خالص علمی محفل اصغر ندیم سید کے اعزاز میں منعقد ہوئی۔ ہمارے ادیبوں و شاعروں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو نام و نمود اور شہرت کے لئے ”سیلزمین شپ“ کے قائل نہیں۔ انہیں اپنے لکھے حروف پر اعتماد ہے، ان میں اصغر ندیم سید بھی شامل ہیں۔ تقریب…

Read more

کامیابی کیلئے احمق ہونا ضروری ہے!

میرا ایک بچپن کا دوست ہے بہت دردمند، خوش اطوار اور بڑے مرتبے پر فائز مگر بے وقوفی کی حد تک بھولا بھالا۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری ہر انسان کے اچھے پہلو تلاش کرکے اس سے محبت کرنا ہے اور پھر اس محبت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس حد تک کہ…

Read more