انسانوں جیسی ایک نسل!

چند دن پہلے میں نے ایک کتاب میں درجہ ذیل دو واقعات پڑھے تو اِن پر یقین نہ آیا۔ میں نے سیرت النبیؐ کے ایک جلسے میں ایک عالم دین کو تقریر کرتے دیکھا۔ وہ حضوراکرمؐ کی سیرت طیبہ بیان کر رہے تھے۔ ان کی آنکھیں فرط عقیدت سے بھیگی ہوئی تھیں۔ ان کے سامنے…

Read more

اب پریشانی کس بات کی؟

وہ ایک بالکل غیر سیاسی نوجوان تھا لیکن جب وہ صبح سو کر اٹھا تو اخبارات دیکھتے ہی اس پر ڈپریشن سی طاری ہو گئی۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار چاہتا تھا لیکن اس کے لئے شہر کی فضا سازگار نہیں تھی اگر اسے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا موقع دے دیا جاتا…

Read more

پاسبانِ عقل بمقابلہ ’’پاسبانِ بے عقل!‘‘

ہمارے ہاں بہت سے ’’مریض‘‘ ایسے ہیں جو زندگی ڈاکٹر کے دئیے ہوئے شیڈول کے عین مطابق گزارتے ہوئے اور قدرت کے مرتب کئے ہوئے شیڈول کے مطابق انتقال کر جاتے ہیں، مگر کچھ اللہ کے بے نیاز بندے ایسے بھی ہیں جو بیماری میں بھی وہی کرتے ہیں جو عالمِ صحت میں کرتے تھے…

Read more

چھوٹے سر اور بڑے کانوں والی مخلوق!

کئی لوگ کانوں کے بہت کچے ہوتے ہیں، جو کوئی اُن کے کان میں کچھ کہہ دیتا ہے اُس پر فوراً ایمان لے آتے ہیں۔ صرف ایمان ہی نہیں لاتے بلکہ اُس کے مطابق لائحہ عمل بھی مرتب کر لیتے ہیں حتیٰ کہ دریں اثنا کوئی دوسرا شخص اُن کے کان میں کچھ اور پھونکے جس پر وہ پٹڑی بدلتے ہیں اور ایک بار پھر لائحہ عمل مرتب کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن کی ساری زندگی اِسی چکر میں گزر جاتی ہے یعنی ارادے باندھنے اور ارادے توڑنے میں بسر ہوتی ہے۔

اسکول کے زمانے میں ہمارے ایک ماسٹر صاحب اِسی زریں اصول کے تحت زندگی بسر کرتے تھے یعنی زبان خلق کو فوراً نقارئہ خدا سمجھ بیٹھتے تھے۔ جب وہ کلاس میں داخل ہوتے تو شور مچاتے لڑکوں کو دیکھ کر بپھر جاتے اور مانیٹر سے پوچھتے کہ اِن شرپسندوں کا سرغنہ کون ہے؟ مانیٹر سرغنے پر انگلی رکھ دیتا جس پر ماسٹر صاحب ”مجھے تم پر پہلے ہی شک تھا“ کہتے ہوئے اُس کی طرف لپکتے اور مار مار کر اُس کا بھرکس نکال دیتے۔ وہ مردِ قلندر بڑے اطمینان سے مار کھاتا اور جب ماسٹر صاحب اُس کی پٹائی سے فارغ ہوتے تو نہایت ادب سے گزارش کرتا کہ شرارت اِس نے نہیں اس کے برابر میں بیٹھے ہوئے لڑکے نے کی تھی۔

Read more

لائٹر اور رائٹر!

مجھے اپنے ایک دوست کی طرف سے جو چیز اکثر تحفے میں ملتی ہے، وہ گیس لائٹر ہے اور گیس لائٹر کو جو چیز ورثے میں ملی ہے وہ اُس کی تیزی و طراری ہے، یعنی دوسرے تیسرے دن اُس لائٹر میں سے گیس ختم ہو جاتی ہے، باقی صرف لائٹر رہ جاتا ہے اور…

Read more

کتوں کو بھونکنے دیں!

(گزشتہ سے پیوستہ) چلیں مان لیا، لیکن کچھ کتے تو ایسے ہیں جو شکل سے خود شرابی کبابی لگتے ہیں، ان کی آنکھوں کے سرخ ڈورے بہت کچھ بتاتے ہیں۔ اگر نہ بھی بتائیں ان کی حرکتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف نارمل حالت میں نہیں ہیں، یہ بلاوجہ بڑھکیں لگاتے رہتے ہیں، مین…

Read more

کتوں کو بھونکنے دیں!

کتوں کے بارے میں میرے خیالات ایسے ہیں جو کتوں کو کبھی اچھے نہیں لگے۔ میں سمجھتا ہوں ان کی دوستی اچھی ہے نہ ان کی دشمنی، چنانچہ میں ممکن حد تک ان کے ذکر سے اجتناب کرتا ہوں، البتہ ان کے بنیادی حقوق کے لئے میں ہمیشہ آواز اٹھاتا رہا ہوں اور آئندہ بھی…

Read more

جنہیں ٹائم پاس کرنا نہیں آتا!

میں بیرونِ ملک جا رہا تھا، فلائٹ کی روانگی میں ابھی دو گھنٹے تھے، سمجھ نہیں آتی تھی کہ ٹائم کیسے پاس کیا جائے۔ اتنے میں ایک اڈھیر عمر شخص جس نے ایک مہنگے برانڈ کا انتہائی مہنگا سوٹ پہنا ہوا تھا، میرے برابر کی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا، گفتگو کا آغاز ہوا تو پتا چلا کہ موصوف ایک بہت بڑے بزنس مین ہیں اور اس وقت بھی بزنس ٹور پر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ ٹائم پاس کرنے کے لیے بہترین موضوع کرپشن ہے چنانچہ میں نے موقع غنیمت جانا اور کہا جناب ”ملک میں کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے“ اس کے بعد میں خاموش ہو گیا کیونکہ مجھے یقین تھا باقی ایک گھنٹہ اس موضوع پر موصوف دل کا غبار نکالیں گے اور یوں فلائٹ کے انتظار کا ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا مگر انہوں نے میرے سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی۔

Read more

پہلے میٹھا خربوزہ، باقی بعد میں دیکھا جائے گا!

بزرگوں سے سننے میں آیا ہے کہ دو قسم کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں، ایک وہ جنہیں زندگی میں سچا پیار نصیب ہو اور دوسرے وہ جن کا خربوزہ میٹھا نکل آئے۔ جن دنوں عارف والا سے خربوزوں کی فصل مارکیٹ میں آتی تھی اُن دنوں یہ ”خوش نصیبی“ بہت عام تھی۔ تقریباً ہر خربوزہ میٹھا نکلتا تھا۔ چنانچہ میرے سمیت اور بہت سے لوگ اِسے پھلوں میں شمار کرنے لگے۔ اب تو یوں ہے کہ جسے کسی بھی وجہ سے خربوزہ کھلانا پڑ جائے اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اُس سے منوانا پڑتا ہے کہ وہ پھل کھا رہا ہے۔صورتحال یہ ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر واقعی خربوزہ رنگ پکڑنے لگتا ہے چنانچہ اُن میں پھیکے اور بدمزہ ہونے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ خربوزے سے پہلے ”خر“ کیوں لگانا پڑتا ہے لیکن دکاندار ہیں کہ پوری ڈھٹائی سے با آوازِ بلند انہیں ”کھنڈ کھلونے“ (شکر سے بنے ہوئے کھلونے ) قرار دے رہے ہوتے ہیں۔

Read more

اشارے بازی!

آج کے ٹریفک سگنلز کے بارے میں یہی سننے میں آیا ہے کہ ان سے ٹریفک کنٹرول کیا جاتا ہے اور عوام الناس کو ڈسپلن سکھایا جاتا ہے۔ چنانچہ سرخ بتی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب آپ چوک کراس نہیں کر سکتے لہٰذا جہاں ہیں وہیں رک جائیے۔ پیلی پتی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اشارہ تبدیل ہونے والا ہے اور سبز بتی اس امر کی علامت ہے کہ بلا دھڑک سڑک پار کر جائیں۔ رات کے وقت یا کم رش والے علاقوں میں پیلی بتی جل بجھ رہی ہوتی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ دائیں بائیں دیکھ کر سڑک کراس کریں یا رک جائیں یعنی فیصلے کا اختیار آپ کو دے دیا جاتا ہے۔

لیکن کچھ ”اشارے“ اس کے علاوہ بھی ہیں جن کے مطابق اہلِ نظر رک جا نے، آگے بڑھنے یا ادھر ادھر دیکھ کر ”پیش قدمی“ کا فیصلہ کرتے ہیں مگر وہ کالم کے دائرئہ اختیار میں نہیں آتے، اس کے لئے محلے والوں کو کانفیڈنس میں لینا پڑتا ہے۔ تاہم اس وقت میں جن اشاروں کی بات کر رہا ہوں وہ عام نوعیت کے معاملات کے حوالے سے ہیں، ماشاءاللہ ہم ایک مہذب ملک کے شہری ہیں چنانچہ ہمارے ہاں بھی وہ تمام اچھے قوانین موجود ہیں جو مہذب ملکوں میں پائے جاتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں یہ سب کے لئے ہیں، ہمارے ہاں کچھ کے لئے ہیں اور کچھ کے لئے نہیں ہیں۔

Read more