مار نہیں پیار

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مار پیٹ کے ذریعے بچوں کی تربیت اور اصلاح کرنے کا خاصا رجحان پایا جاتا ہے۔ بالخصوص جب بچہ زیادہ شرارتی اور عام زبان میں بگڑا ہوا ہو۔ تحقیق کے مطابق ہر 5 میں سے 4 والدین اپنے بچوں کی اصلاح کے لئے مار کا سہارا لیتے ہیں اور ایسے ہر 10 واقعات میں سے 9 واقعات میں مار سہنے والے بچوں میں بچیوں کی تعداد نمایاں ہوتی ہے۔

کیا ہم نے کبھی کسی پتھر کو مار پیٹ کے ذریعے کچھ سکھانے کی کوشش کی ہے؟ کیا مار پیٹ کے ذریعے کسی پتھر کو بہتر کیا جا سکتا ہے؟ جواب شاید ’نہیں‘ ہے کیونکہ مار پیٹ سے ایک پتھر کو صرف توڑا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ بچہ ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ اس کی شرارتیں اور کھیل اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ حالات، واقعات، لوگ اور اپنے ماحول کا مشاہدہ بہت غور سے کرتا ہے اور سوچنے سمجھنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کا تجربہ اپنے تئیں کرنا چاہتا ہے۔ اس کوشش میں اس سے نئے نئے کھیل دریافت ہوتے ہیں اور نتیجتاً شرارتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب والدین اسے ہوشمندی سے سمجھانے کے بجائے اگر مار پیٹ کا سہارا لینے لگیں تو یاد رکھیئے اس بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ نئے تجربات سے بھی گھبرانے لگتا ہے۔

Read more