وجاہت مسعود کی کالم نگاری یا زمین کی رہائی کے لئے دعا

ہماری موجودہ اُردو صحافت کے نقار خانے میں وجاہت مسعود کی آواز صاف اور الگ سنائی دیتی ہے۔ اسی لئے تو یہ ممکن ہے کہ ہم ذرا ٹھہر کر یہ جان سکیں کہ یہ آواز ہم سے کیا کہہ رہی ہے۔ ان کے کالموں کا یہ انتخاب گویا وہ روشنی ہے جو صحافت کے دھندلکوں…

Read more

کتاب اور دنیا برتنے کا فن

امریکی سیاست دان نیوٹ گنگرج جب 1994 ءمیں ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنی ری پبلکن پارٹی کے ارکان کے لئے سات کتابوں کی ایک فہرست مرتب کی اور ہدایت کی کہ جب ارکان اجلاس میں شرکت کے لئے آئیں تو یہ تمام کتابیں پڑھ کر آئیں۔ ان سات کتابوں میں امریکہ کی تاریخ اور معاشرے کے علاوہ افسانوی ادب کے دو شاہکار بھی شامل تھے۔ دونوں سے آپ شاید واقف ہوں۔ ایک تو ”گون ود دا ونڈ“ کہ جس پر مبنی 1939 کی ہالی وڈ فلم نے سینما کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور دوسرا ناول وہ جس کا ذکر ہماری حالیہ سیاسی تاریخ میں کیا جا چکا ہے۔

میں ”گاڈ فادر“ کی بات کر رہا ہوں۔ موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف سے متعلق اپنے ایک فیصلے میں ”گاڈ فادر“ میں شامل ایک مقولے کا حوالہ دیا تھا۔ نکتہ کچھ یہ تھا کہ ہر بڑی جائیداد یا دولت کے پردے میں کوئی جرم چھپا ہوتا ہے۔ ”گاڈ فادر“ اور سسلی کے مافیا کی ایک اور بازگشت بھی اعلیٰ عدالت میں سنی گئی تھی۔ جسٹس کھوسہ کا مزید ذکر ابھی آئے گا۔ یہاں میں صرف اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہوں کہ ان سیاست دانوں کے لئے جن پر قانون سازی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں یہ بہت ضروری ہے کہ وہ تاریخ اور ادب اور دوسرے علوم سے خاطر خواہ حد تک واقف ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ صلاحیت صرف سیاست دانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے افراد کے لئے بھی لازمی ہے۔ بل گیٹس ہر سال ان کتابوں کی ایک فہرست مرتب کرتے ہیں جنہیں ان کے خیال میں سب کو پڑھنا چاہیے۔

Read more

میں زندہ رہا

یہ قصّہ شاید آپ نے بھی سنا ہو۔انقلاب فرانس اور اس سے منسلک وحشت ناک خون خرابے کے بعد کسی نے ایک بڑے پادری سے کہ جو انقلاب کا حامی رہا تھا، پوچھا کہ اس تمام عرصے میں آپ نے کیا کیا؟جواب تھا ’’میں زندہ رہا‘‘یعنی یہ کہ بچ گیا۔گویا ایک پر آشوب زمانے میں…

Read more

معاشرے کے ہاتھوں میں کیسے پوسٹر ہیں؟

سب سے پہلے ایک اعتراف کہ جسے کوئی اعتراف جرم بھی سمجھے وہ یہ کہ میں خواتین کے اس مارچ میں شامل تھا جو کراچی میں خواتین کے عالمی دن یعنی 8 مارچ کو فریئر ہال کے سبزہ زار پر منعقد ہوا اور یہ اقرار بھی کہ مجھے وہاں ہونا اچھا لگا۔ اس کا ایک جواز میری نظر میں یہ ہے کہ خواتین کی سماجی اور جمہوری آزادی کی تحریک مردوں کی شراکت کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ دراصل تو یہ معاشرے کی ترقی، آزادی اور خوشحالی کا مسئلہ ہے، سو یہ ذمہ داری صرف خواتین پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔

یہ مثال دیکھئے کہ میڈیا کی آزادی بھی تو دراصل معاشرے کی آزادی ہے تو پھر اس آزادی کی جدوجہد میڈیا کے کارکن اکیلے کیوں کرتے ہیں؟ یہ کام تو سول سوسائٹی کا ہے کہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرے کہ جن کا حصول صرف ایک ذمہ دار اور آزاد میڈیا کے توسط سے ہی ممکن ہے۔ خیر، بات خواتین مارچ کی ہو رہی ہے۔ اس مارچ میں چند بلکہ صرف انگلیوں پر گنے جانے والے پوسٹر ایسے تھے جن کی معنوی برہنگی نے ایک طوفان برپا کر دیاہے۔

Read more

جنوبی ایشیا کو تاریخ کے فیصلے کا انتظار

میں جب جنوبی ایشیا کے بارے میں سوچتا ہوں تو دل پر ایک عجیب قسم کی اداسی اور شکستگی کا غبار چھا جاتا ہے۔ اپنی گفتگو میں میں یہ کہتا ہوں کہ ہمالہ کے سائے میں یہ جو ملک ہیں ان کی شاید تقدیر ہی خرا ب ہے۔ سری لنکا کے بارے میں کسی نے…

Read more

ہم اپنے حکمرانوں کے لئے کن کتابوں کا انتخاب کریں؟

پیرس میں ایک چھوٹی دکان کتابوں کی… یہ درصل ایک کتاب کا نام ہے جو میں نے چند سال پہلے پڑھی تھی۔ ایک مقبول جرمن ناول کا انگریزی ترجمہ۔ اپنی گفتگو میں اس کا ذکر کئی بار کرچکا ہوں۔ وہ اس لئے کہ اس ناول کا مرکزی کردار خود کو ایک ایسا معالج مانتا ہے…

Read more

دنیا تو ہمارے سامنے ہے

پاکستان سے باہر جانے ا ور دنیا گھومنے کا موقع تو ملتا رہا ہے،لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر پاکستان کو چند دنوں کے لئے بھی فراموش کردینے کی کوشش میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ میں اپنی بات کررہا ہوں کیونکہ میں ایک صحافی ہوں اس لئے شاید میری مجبوری ہے کہ میں موازنہ…

Read more

قیادت کے پیچھے کیا ہے؟

یو ٹرن پر بہت بات ہو چکی اور کیونکہ عمران خان نے اس الزام کو ایک تمغہ بنا کر اسے اپنے گلے میں لٹکا لیا ہے تو اس کا ذکر ہوتا رہیگا۔ ہمارے وزیراعظم کی نظر میں یو ٹرن لینا تو اعلیٰ قیادت کا وصف ہوتا ہے لیکن حضور اعلیٰ قیادت کی پہچان تو دراصل…

Read more

راستے اور منزلیں: قربتیں اور فاصلے

یہ لطیفہ جہاں تک مجھے یاد ہے،مصر کے حکمراں انور سادات سے منسوب تھا۔ کہا گیا کہ وہ کہیں جا رہے تھے جب ایک چوراہے سے پہلے ان کے ڈرائیور نے پوچھا کہ سر، کدھر جانا ہے؟ سر نے ڈرائیور کو حکم دیا کہ وہ بائیں جانب مڑنے کا اشارہ دے اور پھر سیدھی جانب…

Read more

یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے

ابھی کچھ وقت لگے گا اس حقیقت سے سمجھوتہ کرنے میں کہ فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوگیا ہے۔ مجھ جیسے بہت سے لوگوں کیلئے کہ جوان کو ذاتی طور پر جانتے تھے یہ ایک گہرا صدمہ ہے۔ مجھے جب بھی اپنے زرپرست اور تہذیبی پسماندگی کے شکار معاشرے میں بے مثال تخلیقی صلاحیت رکھنے والے…

Read more