کچھ لکھاری اداسی کے موسم میں مجھے بلاتے ہیں

آگ کے دریا کے کنارے بیٹھی آنسو بہاتی عینی آپا ہیں۔ زندگی کے خالی پن کی وجودی کیفیت کو محسوس کرواتا جاپان کا موراکامی ہے۔ لفظوں سے گمشدہ ماضی کی تصویریں بناتا ترکی کا اورحان پامک ہے۔ مٹتی ہوئی منتشر یادوں، باتوں، اور خوابوں سے اپنی انسانی پہچان برقرار رکھنے کی کوشش میں چیک ریپبلک کا میلان کنڈیرا ہے۔ غلام معاشرے کی ٹریجک کامک صورتحال بیان کرتے مرزا اطہر بیگ ہیں۔ نظریوں کے ٹوکوں سے ادھڑی لاشوں میں زندگی تلاش

Read more

عرفان اورگا کی تصنیف: Portrait of A Turkish Family

کتاب ختم ہوئی تو رات بھی ڈھلنے کے قریب تھی، کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھا، دل کی طرح وہاں بھی اداس بادل چھائے تھے۔ بجلی کی ہر چمک کے ساتھ ذہن میں کوئی نہ کوئی اداس منظر روشن ہوجاتا۔ معلوم تھا یہ مناظر مجھے سونے نہیں دیں گے۔ یہ دل میں کھدائی کر کے دبی لاشوں کو نکالیں گے۔ سوالوں کے بھوت ذہن میں ناچتے پھریں گے۔ پھر میں خود کو کیسے سمجھاؤں گا بھوت حقیقی نہیں ہوتے۔ گھٹن

Read more

کافی ہاؤس آف لاہور: ایک خود نوشت 1942 ۔ 1957

مدت ہوئی, خدائے سخن میر نے کانپتے ہاتھوں سے لکھا ”زمانہ زندہ رہنے کے قابل نہیں رہا، اب اس سے دامن کھینچ لینا ہی اچھا ہے“۔ اور دھندلی آنکھوں سے دہلی کی اجڑی گلیوں میں ماضی کی حسین یادیں ڈھونڈتے رخصت ہوئے۔ زمانہ گزرا, دہلی آباد ہونے کے بعد پھر اجڑی، قیامت کے ہنگامے میں میاں نوشہ نے دل گم گشتہ کو بار بار یاد کیا۔ تقسیم کے ہنگاموں میں امروہہ کی تہذیب کو اجڑتے دیکھنے والے جون ایلیا نے

Read more

بوہومل ہرابل کا ناول:Too Loud a Solitude

تم پوچھتی ہو نا ہر وقت کتابیں کیوں پڑھتے رہتے ہو۔ کہتی ہو! زندگی میں ان خشک کتابوں کے سوا اور بھی بہت کچھ ہے ۔ چھوڑو سب کچھ اور میری طرف دیکھو ،مجھ سے باتیں کرو۔ میں تمھاری بات مان کر کچھ دیر کو تمھارے حسن کے سحر میں کھو تو جاتا ہوں۔ مگر دل انھیں خشک کتابوں میں اٹکا رہتا ہے۔ تم جاننا چاہتی ہو نا کہ آخر ان کتابوں میں کیا کشش ہے جو کم ہونے کا

Read more