واہ رے مالک! تیریاں کھیڈاں

پروفیسر صاحب یہ اعلان سنا آپ نے؟ مستری غلام عباس نے پریشان کن لہجے میں گلی کے نکڑ پر پروفیسر صاحب کو روکتے ہوئے پوچھا۔ ہاں غلام عباس! اس وباء نے توساری دنیا کو نگل لیا ہے۔ تم بھی احتیاط کرو اور ماسک بھی پہنو۔ مستری غلام عباس نے بغیر کسی ردِ عمل کے سائیکل پہ مضبوطی سے اپنے اوزار باندھے اور کہا رب راکھا پروفیسر صاحب، اور اپنے کام پہ رخصت ہو گیا۔ گھر پہنچتے ہی پروفیسر صاحب کی

Read more

فرق کس کو پڑتا ہے

ہمارے معاشرے میں بڑے کمال کے لوگ بستے ہیں۔ جو جینیاتی طور پر قدامت پسند اور روایت پسندباپ کی اولاد ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے ڈی این اے کی کوڈنگ میں روایات کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ پھر جس ماحول میں وہ بڑے ہوتے ہیں وہ مذہب اور روایات کے پہیے پہ چل رہا ہوتا ہے۔ اردگرد کے اور زندگی کے بے شمار تجربات کے نتائج بھی یکسر روایتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ جن میں دوسروں کے لئے زندگی بسر

Read more

ذہنی بُتوں کے سائے تلے

عدالت میں موجود سبھی لوگ توقیر پر نظریں جمائے اس کے آخری جواب کے منتظر تھے۔ مگر ہمیشہ کی طرح آج بھی توقیر خاموش تھا۔ توقیر کی خاموشی اُسے پھانسی کے پھندے تک پہنچا کر ہی دم لینے والی تھی۔ آخر کار اس کے وکیل نے اس کے پاس جا کر اس کا ہاتھ تھاما اور اس کی طرف تسلی بھرا اشارہ کیا تاکہ اُسے یہ احساس دلایا جائے کہ یہ سچ سننا سب کے لئے بہت ضروری ہے۔ وکیل

Read more

فکری توازن

دانائی کی تلاش میں سب سے پہلا کام اپنے فکری مقام کا تعین کرنا ہے۔ اس کے بغیر ہم سچائی کا سفر مکمل نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں، میں نے بہت سے ذہین لوگوں کو مغالطے کا شکار دیکھا ہے۔ چند کتابیں پڑھ کر وہ خود کو ہی دانا سمجھنے لگتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ نہیں کہ وہ خود کو دانا سمجھ کر ایک خاص رائے پہ اٹک جاتے ہیں۔ بلکہ تعجب یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی

Read more

مجھے ایسی تعلیم نہیں چاہیے

ایک سادہ سا سوال ہے کہ اگر ہم کسی مرض کی غلط تشخیص کر دیں اور اس کے مطابق مریض کو دوا دیں تو کیا مریض صحت یاب ہو جائے گا؟ عقلی جواب ہو گا کہ نہیں ایسا ممکن نہیں۔ اس لئے یہ کس طرح ممکن ہے کہ رسمی تعلیم کے ذریعے انسانی عقل کوٹھیک طرح سے کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک رسمی تعلیم کا فکری ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ فکری ارتقاء کا تعلق سوال سے

Read more