کشمیر کی بیٹی

مری چھوٹی سی جنّت کے چمن زاروں پہ جانے کون سے آسیب کا سایہ ہے پَت جھڑ کی یہ لمبی رُت بدلنے میں نہیں آتی غلامی کی شبِ تاریک ڈھلنے میں نہیں آتی کئی نسلوں کا خوں پی کر بھی کوئی مشعلِ اُمیّد جلنے میں نہیں آتی خدائے، بحر و بر! میں اس جہانِ سنگ و آہن میں کسے آواز دوں؟ کس کو پکاروں؟ مشرق و مغرب کے عالی مرتبت ذیشان ایوانوں، دیارِ مجلس و انصاف و قانون و حقوقِ

Read more

حوالاتی نمبر  4266 : چیف جسٹس کے انصاف کا منتظر

اتوار 27 جولائی کی سہ پہر اڈیالہ جیل کی اونچی فصیلوں سے لگی کھڑی تھی اور میں سپرنٹنڈنٹ ثاقب کے دفتر سے اٹھ کر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ طاہر کے دفتر میں آ بیٹھا تھا۔ میرے اندر بے چینی کی کوئی ایسی لہر نہیں اٹھ رہی تھی لیکن جیل کا متعلقہ عملہ اس قدر عجلت میں تھا جیسے ان کی دیوار قفس ٹوٹ رہی ہو۔ رہائی کی دستاویز بندی کے دوران مجھے پہلی دفعہ پتا چلا کہ جرم و گناہ کے اس

Read more

قلم کو ہتھکڑی ( 4 )

یہ نوجوان جانے کب سے اڈیالہ جیل کے سب سے خوفناک منطقے، ہائی سیکورٹی بلاک (HSB) کی اس کھولی میں بند تھے۔ میرے جرم کی نوعیت جان کر وہ بہت محظوظ ہوئے۔ شاید میری صلاحیتِ جرم کی کم مائیگی پر انہیں ترس آیا۔ لیڈر نما نوجوان بولا ”سر آپ کے لئے چائے بنائیں؟ “ میں نے حیرت سے پوچھا ”یہاں کیسے بنے گی چائے؟ “ ”سر ہم نے بہت کچھ ایجاد کیا ہے یہاں۔ آپ حیران رہ جائیں گے“ تیسرا

Read more

قلم کو ہتھکڑی

شکستِ نشہ سے چور، مدقوق چہرے والا قیدی، راستے بھر بلکتا، پولیس والوں کی منتیں کرتا، گالیاں کھاتا، اپنے ہم سفروں کو ضیافت طبع کا سامان فراہم کرتا رہا، پیرانہ سالی سے نڈھال، اعضا کی شکستگی سے چور، خستہ حال پریزن وین خود کو سمیٹتی گھسیٹتی آگے بڑھتی رہی۔ خدا خدا کرکے کوئی گھنٹہ بھر بعد اڈیالہ کے بڑے پھاٹک سے جیل کی حدود میں داخل ہوئی اور ایک مقام پر جاکر رک گئی۔ تنور کی طرح دہکتی گاڑی اور

Read more

قلم کو ہتھکڑی (2)

صرف تھانے کی حراست گاہ میں وقت چیونٹی کی رفتار سے چل رہا تھا۔ دن کے گیارہ بج چکے تھے۔ کمرے کے کھلے دروازے کے باہر پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت بڑھ رہی تھی۔ میں اس سوچ میں غلطاں تھا کہ عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں دکھائی جا رہی؟ کیا اس میں قانون کرایہ داری کے علاوہ کوئی اور سنگین جرم بھی ڈالا جا رہا ہے، میں اسی

Read more

قلم کو ہتھکڑی

یہ جمعہ 26 جولائی کی رات کے آسودگی بخش لمحوں کا ذکر ہے۔  سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ میں اپنے بیڈ روم میں، پلنگ پر نیم دراز، کئی برس پرانی کرِم خوردہ سی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے، ایک کورے کاغذ پر نوٹس لے رہا تھا۔ یکایک گھر کے بیرونی دروازے پر لگی گھنٹی بجی۔ یہ اسلام آباد کے سادہ و مسکین سیکٹر، جی ٹین میں واقع کوئی دس بارہ مرلے کا چھوٹا سا گھر ہے جہاں میں

Read more

جسٹس بھگوان داس: ایک بڑے انسان کے دل میں کتنی وسعت ہوتی ہے؟

میری والدہ کے انتقال کو ابھی ہفتہ بھر ہی ہوا تھا کہ ایک شام میرے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے آواز آئی، ’’سپریم کورٹ کے جج رانا بھگوان داس آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ مجھے کچھ کچھ حیرت سی ہوئی۔ بہت سے جج صاحبان سے شرفِ نیاز مندی حاصل ہونے کے باوجود میری رانا صاحب سے کوئی شناسائی نہ تھی۔ ذرا دیر بعد جسٹس صاحب لائن پر آ گئے۔ ایک نرم و ملائم سی آواز جیسے براہِ

Read more

اساتذہ کو لگی ہتھکڑیوں کی جھنکار۔۔۔ !

جناب چیف جسٹس کا نوٹس کافی نہیں۔۔۔ ! کسی کو خبر ہے کہ علم کی روشنی بکھیرنے والے کن تنگ و تاریک کھولیوں میں پڑے ہیں؟ ”کیا اساتذہ کو لگی ہتھکڑیوں کی جھنکار،  ایک گونج بن کر،  سر کش و بے باک نیب“ کے ”حمام باد گرد“ کا جادو توڑ سکتی ہے؟” اگر نہیں تو ہم واقعی ایک زیاں کار قوم ہیں اور کوئی نہیں جو اس معاشرے کو زوال کی گہری کھائیوں کا رزق ہونے سے بچا سکے۔ کون

Read more

شہباز شریف کا مقدمہ اور حکومت سے دو کروڑ لے کر ارب پتی بننے والا

شہباز شریف بھی پکڑا گیا۔ پی۔ ٹی۔ آئی نعرہ زن ہے کہ احتساب کا وعدہ بر گ وبار لا رہا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ ”قانون ہر شخص کے لئے برابر ہے ‘‘۔ صدیوں سے یہی سنتے چلے آرہے ہیں لیکن صدیوں کا تجربہ یہ بھی ہے کہ قانون بھلے ہر شخص کے لئے برابر ہو، ہر شخص قانون کے لئے ایک برابر نہیں ہوتا۔ سو چیخنے والے چیختے رہیں۔ کہتے رہیں کہ آشیانہ اقبال میں تو سرکاری خزانے کی

Read more

میاں صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے

2014 میں عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں میں اور بھی بہت کچھ تھا لیکن” سنگین غداری ‘‘ مقدمہ بھی ایک نمایاں محرک تھا۔ یہ دھرنے شروع ہونے کے کوئی دو ہفتے بعد، 27 اگست 2014 کی شام کا ذکر ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت اور مختصر خطاب کے بعد وزیر اعظم واپس جانے لگے تو مجھے گاڑی میں بٹھالیا۔ شاہراہ ِ دستور آتش فشاں بنی ہوئی تھی اور ” گو نواز گو ‘‘ کی گونج تیز تر ہورہی تھی۔ میں نے سرگوشی کے انداز میں پوچھا۔ ”میاں صاحب! یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ کوئی خاص وجہ ہے آپ کے ذہن میں؟ ‘‘ وزیراعظم نے اپنا منہ میرے کان کے قریب لاتے ہوئے سرگوشی ہی کے انداز میں صرف ایک لفظ کہا

Read more

سرکار بنام نواز شریف (3)۔

ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات :دو لاکھ چودہ ہزار آف شور کمپنیاں : ”436پاکستانی شخصیات‘‘۔ سوالوں کا جنگل گھنا ہو رہا ہے اور ”سرکار بنام نواز شریف۔ ‘‘کی پکار پیہم پڑ رہی ہے۔ نواز شریف کو تو سب جانتے ہیں لیکن ” سرکار ‘‘ کے چہرے کے حقیقی خدو خال سات پردوں میں چھپے ہیں جو بظاہر ” مدعی ‘‘ہے۔ غالب کی لُغت سے استفادہ کیا جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ” بازیچہ اطفال ‘‘بن چکا ہے اور ایک تماشا

Read more

سرکار بنام نواز شریف وغیرہ ۔ ۔ ۔

ایک صدا مسلسل ڈیڑھ سال سے گُونج رہی ہے۔ کبھی کہیں کبھی کہیں۔ ”سرکار بہ نام محمد نواز شریف۔ ‘‘ اسلا می جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت، اسلام آباد کے سیکٹر جی۔ الیون میں واقع ایک بے آب و رنگ سپاٹ سی عمارت ہے۔ اس عمارت میں کچھ عدالتیں لگتی، کچھ منصف بیٹھتے ہیں۔ چار چھ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد، تنگ داماں سے برآمدے اور نیم روشن سی راہ داریوں سے جڑے ایک چھوٹے سے کمرے میں بھی ایک عدالت لگتی

Read more

نوازشریف پر کیا بیتی اور کیوں بیتی؟ ایک المناک اور شرمناک کہانی!

سیاست کے سینے میں دل تو کبھی کسی دور میں بھی نہ تھا۔ پھر یوں ہوا کہ بُغض کی خاردار فصل پروان چڑھی۔ کدورتوں کی کھاد اور نفرتوں کے تعفن بھرے پانیوں نے اُسے گھنے دلدلی جنگل میں بدل دیا۔ اب سیاست کی آنکھ میں حیا بھی نہیں رہی۔ تہذیب کے ادنیٰ قرینوں سے تعلق رکھنے والی قومیں بھی سنبھل گئیں لیکن ہمارے ہاں پچھلے پانچ سات برس میں ایک نئی وبا پھوٹی۔ قوم کو مُستقیم راہیں دکھانے کے دعویداروں

Read more

چودہ برس بعد بھی – دو جنازے اور دو بیٹوں کی شرکت سے محرومی

جمعہ کی شام، بیگم کلثوم نواز کو اپنے سسر، میاں محمد شریف مرحوم کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اللہ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ ان کے درجات بلند کرئے۔ ان کے پیاروں کو صبر دے۔ چودہ برس قبل، اس چھوٹے سے قطعہ اراضی میں میاں محمد شریف کی پہلی قبر بنی تو ان کے بیٹے ایک ڈکٹیٹر کی زنجیر رعونت میں جکڑے، کوسوں دور پڑے تھے۔ چودہ برس بعد بیگم کلثوم نواز کا جسد خاکی قبر

Read more

بیگم کلثوم نواز۔۔۔

وہ سخت جان سہی لیکن، آخر کار وہاں چلی گئی، جہاں ایک نہ ایک دن ہم سب کو جانا ہے۔ زنداں کی کوٹھری میں پڑا اس کا شوہر۔ اس کا باؤ جی۔ سینتالیس سالہ رفاقت کے بھولے بسرے منظر تراشتا، اسے جاں کنی کی اس کیفیت میں ایک نظر دیکھنے کی آرزو میں جلتا، اس سے دو باتیں کر لینے کی تمنا میں سلگتا رہا۔ اس کی لاڈلی بیٹی۔ اس کی گڑیا۔ اسی زنداں میں، قیدی باپ سے بہت دور،

Read more

نواز شریف پر جہاز میں کیا گزری؟

ہمارے پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈز ابوظہبی پروٹوکول والے نے سنبھال رکھے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں مسافروں کی گنجائش رکھنے والے اس وسیع و عریض فرسٹ کلاس لاؤنج میں ہم پانچ چھ افراد کے سوا کوئی بھی نہ تھا۔ ایک دو ویٹرز تھے یا دور ایک کونے میں بیٹھے سکیورٹی کے دو باوردی ارکان۔ سفید عباؤں والے پروٹوکول افسران گاہے گاہے آتے اور ایک طائرانہ سا جائزہ لے کر چلے جاتے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد ہم

Read more

نواز شریف پر ابوظہبی میں کیا گزری؟

ایک بار پھر مجھے مجرم قرار دیے گئے نوازشریف اور 8 سالہ قید بامشقت کی سزا وار مریم کے ہمراہ اسی ہیتھرو ائرپورٹ سے لاہور کی اڑان بھرنے کا موقع ملا۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے لندن میں تھا۔ روزانہ ہی ہارلے سٹریٹ ہسپتال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں نوازشریف اور ان کے بچے جمع ہوتے اور شام ڈھلنے تک وہیں رہتے۔ میں بھی کوئی گیارہ بجے وہاں پہنچ جاتا اور سہ پہر تک وہاں رہتا۔ ڈاکٹرز وقفے وقفے

Read more