کشمیر کی بیٹی
مری چھوٹی سی جنّت کے چمن زاروں پہ جانے کون سے آسیب کا سایہ ہے پَت جھڑ کی یہ لمبی رُت بدلنے میں نہیں آتی غلامی کی شبِ تاریک ڈھلنے میں نہیں آتی کئی نسلوں کا خوں پی کر بھی کوئی مشعلِ اُمیّد جلنے میں نہیں آتی خدائے، بحر و بر! میں اس جہانِ سنگ و آہن میں کسے آواز دوں؟ کس کو پکاروں؟ مشرق و مغرب کے عالی مرتبت ذیشان ایوانوں، دیارِ مجلس و انصاف و قانون و حقوقِ
Read more






