9 مئی اور ایک لایعنی دلیل

”نرگسّیت (NARCISSISM) ایک موذی مرض ہے۔ اس مرض میں مُبتلا شخص خُود کو عقلِ کُل سمجھنے لگتا، دل ودماغ کے سارے دَر دریچے، نصیحت، صائب مشورے اور حرفِ خیر کے لئے بند کرلیتا اور اپنی ذات کی قصوری چکی میں قید ہوکے رہ جاتا ہے۔ وہ اپنے دل میں ایک مندر بناتا، اپنا بت تراش کر کسی چبوترے پہ رکھتا اور مسلسل اس کی پوجاپاٹ میں لگا رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس پہ ایمان لائیں، اس

Read more

یہ ”منصف“ کب کٹہرے میں آئیں گے؟

ذوالفقار علی بھٹو کو مصلوب ہوئے چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، لیکن نواز شریف اور ’پانامہ‘ کی داستان ”واردات جاریہ“ کی طرح ابھی چل رہی ہے۔ بغض و عداوت میں لتھڑے ہوئے فیصلے کے اثرات ابھی تک موجود ہیں لیکن گواہیاں ہیں کہ تھمنے میں نہیں آ رہیں۔ اگر تاریخ واقعی عدالت کا درجہ رکھتی ہے تو ان گواہیوں کے بعد ’پانامہ‘ کا فیصلہ، ایک فرد جرم کی شکل اختیار کرچکا ہے اور یہ فیصلہ تحریر کرنے

Read more

آئی ایم ایف: الوداع سے خوش آمدید تک!

ٹھیک سات برس پہلے، جولائی 2016 میں وزیراعظم نواز شریف نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”آج کے بعد اِن شاء اللہ ہمیں کبھی آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ الوداع آئی ایم ایف“ اور آج ہم آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی پیکج ملنے کے بعد ، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نعرہ زن ہیں۔ ”خوش آمدید آئی ایم ایف“ اڑان بھرتے ہوئے پاکستان کے

Read more

فوج کی سوچ میں جوہری تبدیلی؟

کیا فوج کے روایتی کردار میں کوئی بڑی جوہری تبدیلی واقع ہو گئی ہے یا تیزی سے تشکیل پا رہی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا حتمی جواب ملنے میں کچھ وقت لگے گا۔ البتہ یہ طے ہے کہ 9 مئی کے واقعات نے فوج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دشمن کے عزائم پر نظر رکھتے ہوئے جنگی چالیں سوچنے، وار گیمز کھیلنے، تجزیہ و تحقیق کا موثر نظام رکھنے اور ایجنسیوں کی تیز نگاہی کے باوجود

Read more

پروجیکٹ عمران خان اور یوم سیاہ کا یوم حساب کب؟

لوگ سوچتے ہیں کہ 9 مئی کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا لیکن ’یوم ِ سیاہ‘ کے افق سے ”یومِ حساب“ کیوں طلوع نہیں ہو رہا ؟ غم گسارانِ 9 مئی بھی ہولے ہولے ہنرِ دشنام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جھوٹ کی دکانوں کے پھاٹک آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگے ہیں۔ ”پریس کانفرنسیں“ تھم سی گئی ہیں اور نئے سیاسی حجروں کی چہل پہل میں کمی آ رہی ہے۔ پرسکوں سطحِ آب سے فریب کھا کر

Read more

پراجیکٹ عمران خان اور یوم سیاہ کا یوم حساب کب؟

لوگ سوچتے ہیں کہ 9 مئی کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا لیکن ’یوم ِسیاہ‘ کے افق سے ”یومِ حساب“ کیوں طلوع نہیں ہو رہا؟ کونوں کھدروں میں دبکے غم گسارانِ 9 مئی بھی ہولے ہولے ہُنرِ دشنام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جھوٹ کی دکانوں کے پھاٹک آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگے ہیں۔ ”پریس کانفرنسیں“ تھم سی گئی ہیں اور نئے سیاسی حجروں کی چہل پہل میں کمی آ رہی ہے۔ پُرسکوں سطحِ آب سے فریب

Read more

ہمارا 2023 اور ہٹلر کا 1923

ہمارے 9 مئی کی امریکن نائن الیون سے کوئی مشابہت ہے یا نہیں، یہ ٹھیک ایک صدی قبل جرمنی کے آتش بجاں نازی لیڈر، ایڈولف ہٹلر کی ”شراب خانہ بغاوت“ (BEER HALL PUTSCH) سے کمال درجے کی مماثلت ضرور رکھتا ہے۔ وہی سیاسی عدم استحکام، وہی اقتصادی بدحالی، وہی تبدیلی کی اکساہٹ، وہی ہتھیلی پہ سرسوں جمانے کا دعویدار ایک شوریدہ سر لیڈر، اس کے باغیانہ بانکپن پر فریفتہ ویسے ہی اندھے، گونگے، بہرے مقلدین، وہی انتہا پسندی اور تعصبات

Read more

عمران خان، بے مہار جنگجوئی اور ”برمودا تکون“ !

بحر اوقیانوس شمالی کے مغربی حصے میں پچاس ہزار مربع میل سے زائد پر محیط سمندری قطعے کو ”برمودا تکون“ یا ”مثلث ابلیس“ کہا جاتا ہے۔ اس طلسماتی تکون کے ساتھ بے شمار پراسرار داستانیں جڑی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ آبی تکون اب تک پچاس بحری جہازوں اور بیس طیاروں کو ہڑپ کرچکی ہے۔ ہر حادثے کے ساتھ پر اسراریت میں لپٹی کوئی نہ کوئی مافوق الفطرت کہانی وابستہ ہے۔ کئی سراغ لگانے والی اور امدادی ٹیمیں بھی

Read more

بغاوت جو ناکام ہو گئی

متعلقہ حلقے بھرپور چھان بین اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر جان چکے ہیں کہ 9 مئی کی غارت گری عمران خان کی گرفتاری کا بے ساختہ ردّعمل نہیں، ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کا براہِ راست نشانہ آرمی چیف سید عاصم منیر تھے۔ لمحوں کے اندر اندر کوئٹہ سے پشاور تک فوجی تنصیبات اور علامات کو نشانہ بنانا خان صاحب اور اُن کے دیدہ و نادیدہ سہولت کاروں کا بھیانک منصوبہ تھا۔ ورنہ کیسے ممکن ہے کہ کوئٹہ

Read more

پراجیکٹ عمران خان کے نئے پاسبان (مکمل کالم)

بلاشبہ سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹتے رہنا، کار دانش نہیں لیکن ستم یہ ہے کہ لکیر بھی ہمیں سانپ ہی کی طرح پیہم ڈنک مارے جا رہی ہے۔ اس کے ہر پیچ و خم سے زہریلی آبشار والی پھنکاریں اٹھ رہی ہیں اور ”پراجیکٹ عمران خان“ محروم اقتدار ہو کر بھی آکاس بیل بنا ہوا ہے۔ دس بارہ برس پہلے ”طفلان خود معاملہ“ نے کھیل ہی کھیل میں جس منصوبے کی نیو ڈالی تھی وہ آج سرطان کی

Read more

غارت گری، انصاف پروری اور ضمانتوں کی گنگا! –

ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے تراشے گئے بیانیوں کے بیچوں بیچ ایک بیانیہ تاریخ کا بھی ہوتا ہے جو خود رَو پودے کی طرح آپ ہی آپ اُگتا اور فطرت کے ازلی و ابدی اصولوں کی زرخیز آب و ہوا میں پروان چڑھتا چلا جاتا ہے۔ وٹس ایپ، فیس بُک، ٹویٹر، ٹک ٹاک، انسٹا گرام ایسے خرخشوں سے بے نیاز یہ بیانیہ مشرق سے ابھرتے آفتاب کی طرح اپنی دلیل آپ ہوتا ہے۔ 9 مئی کے ’یوم سیاہ‘ کی

Read more

’پراجیکٹ‘، طوائف الملوکی اور منصوبہ ساز (مکمل کالم)

بیانیوں، خوش گمانیوں اور خواب خرامیوں کے باوجود، در و دیوار پہ لکھی حقیقت یہ ہے کہ ہم بھنور میں گھمن گھیریاں کھا رہے ہیں اور ساحل دکھائی نہیں دے رہا۔ عربی زبان سے نسبی تعلق رکھنے والا ایک دو لفظی مرکب اردو میں مستعمل ہے ”طوائف الملوکی“۔ انگریزی میں اس کا متبادل ہے ”انارکی“ (Anarchy)۔ مختلف اردو لغت میں ”طوائف الملوکی“ کے معنی ہیں افراتفری، آپا دھاپی، ہڑبونگ، سکھا شاہی، انتشار، اندھیر نگری، دھینگا دھینگی اور بدانتظامی وغیرہ۔ ان

Read more

ڈان لیکس: حیرت کدے کا آخری منظر (مکمل کالم)

4 مئی 2017 کو آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات میں طے پانے والا فارمولا (جسے فوری طور پر روبہ عمل آنا تھا) تاخیر کا شکار ہو گیا۔ وزیراعظم کے دل میں ترازو ”ریجیکٹڈ“ کے تیر نیم کش سے بدستور لہو رستا رہا، درد فزوں ہوتا رہا۔ جنرل باجوہ کے بیٹے سعد قمر کے توسط سے آنے والے پیغامات کا درجہ حرارت بھی بڑھنے لگا۔ 8 مئی کو ملنے والا پیغام تھا۔ ”ہم نے اپنی طرف سے بہت کوشش کرلی۔

Read more

ڈان لیکس ’نواز باجوہ ملاقات اور ”متروکہ املاک“ !

29 اپریل 2017 کو ’اول شب کی لطیف ساعتوں میں، آرمی ہاؤس سے اسلام آباد آتے ہوئے میں اسی پیچ و تاب میں رہا کہ ”ڈان لیکس‘ کا اونٹ، جس کی کوئی کل سیدھی نہیں، کس کروٹ بیٹھے گا؟ بیٹھے گا بھی یا یوں ہی شتر غمزے دکھاتا رہے گا۔ یہ خلش بھی پیہم چٹکی لے رہی تھی کہ مجھے اس مشق زیاں کار میں پڑنا بھی چاہیے تھا یا نہیں؟ ڈان لیکس کے معاملات دیکھنے والی ایک باضابطہ، رابطہ

Read more

ڈان لیکس اور آرمی ہاﺅس کی وہ آتشیں شام!

مجھے اِس اعزازِ بلند کی خبر خود جنرل قمر جاوید باجوہ نے دی تھی کہ ستر کی دہائی میں وہ راولپنڈی کے سرسیّد اسکول میں میرے شاگرد رہے ہیں۔ راول لاﺅنج میں ہونے والی اِس اتفاقیہ ملاقات میں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ بھی موجود تھے۔ یہ 2014 کا ذِکر ہے جب لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ راولپنڈی کی ٹین کور کے کمانڈر تھے اور اب کوئی تین سال بعد، 29 اپریل 2017 کی اس سوختہ بخت شام، آرمی ہاﺅس

Read more

ڈان لیکس، دو اعلامیے اور ملاقات جنرل باجوہ سے

طرفہ تماشا یہ تھا کہ نام نہاد ڈان لیکس پر سات رُکنی تحقیقاتی کمیٹی اُس وقت بنی جب پرویز رشید کی برطرفی کو نو دِن اور ڈان لیکس نامی شوخ چشم حسینہ کو اپنی چھب دکھائے ایک ماہ ہو چلا تھا۔ جسٹس (ر) عامر رضا خان اِس کے سربراہ تھے۔ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، پنجاب کے محتسب اعلی نجم سعید، ڈائریکٹر ایف۔ آئی۔ اے عثمان انور، انٹیلی جنس بیورو کے ایک نمائندے کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس کے بریگیڈئیر کامران

Read more

داستان ایک سیلابی ریلے کی

اَندھی عصبیت ایک طرف رکھتے ہوئے عمران خان کے ستائیس سالہ سیاسی سفر کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ان کی فردِ سیاست میں کوئی ایک بھی ایسا نقش  جمیل دکھائی نہیں دیتا جسے ان کی حکمت ودانش، سیاسی بالغ نظری اور جمہوری پختہ کاری کی علامت قرار دیا جا سکے۔ ان کی کہانی ایک بے سمت سیلابی ریلے کی داستان ہے جو چھاجوں برستی بارشوں سے پھوٹتا، خس وخاشاک سمیٹتا، کَف اگلتا، پتھروں سے سر پٹختا، گھمن

Read more

سینیٹ گولڈن جوبلی اور ایک مسترد شدہ ترمیم

چیئرمین سینیٹ، عزت مآب محمد صادق سنجرانی، مرنجاں مرنج بلکہ باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں۔ دوست بنانا، دوستیاں پالنا اور دوستانہ رشتہ و تعلق کی نزاکتیں نباہنا کوئی اُن سے سیکھے۔ اُن کا حلقۂ رفاقت شمال و جنوب کے قبائل سے لے کر راولپنڈی کی عالی مرتبت بارگاہوں، اسلام آباد کے مقتدر ایوانوں اور ریڈ زون میں سفارتی منطقے کے قلعہ بند گھروں تک ہی نہیں، شرقِ اوسط کے شاہی خاندانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ کسی کو پسند

Read more

”کثیرالزاویہ “نظامِ عدل!

یہ ذکر ہے ہمارے زمانہ طالب علمی کا۔ اساتذہ مثلث، مربع، مستطیل شکلوں کی مدد سے ہمیں قائمہ، حادہ اور منفرجہ جیسے زاویے سمجھاتے تھے۔ متعدد اضلاع یا زاویے رکھنے والی شکل کو کثیرالاضلاع کہا جاتا تھا جس کے لئے ’کثیر الزاویہ‘ کی ترکیب زیادہ موزوں لگتی ہے۔ 75 سالہ تاریخ عدل وانصاف کاجائزہ لیا جائے تو آپ کو ہر رنگ، روپ، وضع، شکل، نوع، قبیل اور قسم کے فیصلے ملیں گے۔ ہر فیصلہ ایک مخصوص زاویہ رکھتا ہے جس

Read more

عدل کے ایوان اور عوام کی چوپال

عدالتی فیصلے جب عدل کے ایوانوں سے نکل کر کھیتوں، کھلیانوں اور چوپالوں کا موضوع بنتے ہیں تو غریب و سادہ و معصوم عوام، ریشمی عبائیں پہننے، کورٹ روم میں بیٹھنے اور کوئی مخصوص بینچ تشکیل دئیے بغیر، عدالتی فیصلے کا جائزہ لیتے اور اپنا دوٹوک فیصلہ صادر کردیتے ہیں۔ یہ فیصلہ کسی پی ایل ڈی کا حصہ تو نہیں بنتا البتہ لوحِ تاریخ پر رقم ہو جاتا ہے۔ جسٹس منیر کے ’ ’نظریہ ضرورت“ کی کند چھری سے ذبح

Read more

انصاف کا دروازہ اور آئین کی دستک!

زبان و بیان کا سلیقہ بھی ایک طرح کی ساحری ہے۔ روزمرہ کے عمومی اور رسمی مکالموں میں بھی یکایک کوئی خاص جملہ براہِ راست دِل کی طرف لپکتا اور دیر تک خوشبو بکھیرتا رہتا ہے۔ صورتِ حال بعض اوقات برعکس بھی ہو جاتی ہے۔ کوئی ناتراشیدہ جملہ تیر کی طرح دِل میں ترازو ہو جاتا ہے اور پھر برسوں لہو رِستا رہتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران ،

Read more

انصاف کا دروازہ اور آئین کی دستک!

زبان و بیان کا سلیقہ بھی ایک طرح کی ساحری ہے۔ روزمرہ کے عمومی اور رَسمی مکالموں میں بھی یکایک کوئی خاص جملہ براہِ راست دِل کی طرف لپکتا اور دیر تک خوشبو بکھیرتا رہتا ہے۔ صورتِ حال بعض اوقات برعکس بھی ہوجاتی ہے۔ کوئی ناتراشیدہ جملہ تیر کی طرح دِل میں ترازو ہو جاتا ہے اور پھر برسوں لہو رِستا رہتا ہے۔ پنجاب اور خیبرپختون خوا میں انتخابات کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران میں، چیف جسٹس

Read more

سیاست کا سینہ اور’’پیغمبروں‘‘ کا دل!

’’جو کچھ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کرتے رہے، وہ موجودہ حکومت کو عمران اور تحریک انصاف کے ساتھ نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ یہ ہے معصوم ہونٹوں پر تازہ گلاب کی طرح مہکنے والا وہ مُشکبو جملہ جو اِن دِنوں ٹیلی وژن پر جلوہ گَر دانشورانِ خوش بیاں اور میزبانانِ نکتہ ِآفریں کی زبان پر ہے۔ اِس جملے میں عفو و درگزر اور رحمت و التفات کے پیغمبرانہ اوصافِ حسنہ کی خوشبو بکھری ہوئی ہے۔ بلاشبہ وطن عزیز کو

Read more

’قومی ترانہ‘ سے ’قومی پرچم‘ تک!

پرویز مشرف وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔ وہ منزل جسے کوچ نقارہ بجنے اور لاد چلنے سے پہلے ہر بنجارہ بھلائے رکھتا ہے۔ بے جان بدن کاٹھ کے کسی بوسیدہ تختے پر میلی سی چادر میں ہو یا قومی پرچم سے آراستہ آبنوسی تابوت کے اندر خوشبوؤں میں بسے کفن میں لپٹا ہو، دونوں منوں مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں۔ آگے کا سفر بڑا کٹھن ہوتا ہے۔ دنیا کے سب ٹھاٹھ باٹھ یہیں رہ جاتے

Read more

کیا سیاست میں بھی کوئی ”نوبال“ ہوتی ہے؟

کسی پر غداری یا بغاوت کا الزام لگانا، مقدمے داغنا اور ہتھکڑیاں ڈالنا مجھے کبھی اچھا نہیں لگا۔ کچھ دِن پہلے میں نے یہ بات سینٹ میں کہی تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے پی ٹی آئی ارکان نے زوردار ڈیسک بجائے۔ یہ بھی بجا کہ سیاست بنیادی طور پر اقتدار کا کھیل ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت سے جڑے قبیلے کے ہر سیاستدان کی بغل میں اپنے اپنے مفاد کی چھوٹی یا بڑی پوٹلی ضرور دبی ہوتی ہے۔ یہ پوٹلی

Read more

جاگتی آنکھوں کے خواب

نیند میں دیکھے جانے والے خواب، آنکھ کھلتے ہی تحلیل ہو جاتے ہیں۔ بقول غالب تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا ایسا خواب اچھا ہو یا برا، انسان کچھ وقت اس سے کھیلتا، تاویلیں تراشتا، تعبیروں کے زائچے بناتا اور پھر بھول جاتا ہے۔ یہ خواب معمولاتِ حیات کی طرح کھِلتے مرجھاتے رہتے ہیں۔ اِس کے برعکس جاگتی آنکھوں کے خواب بڑے سخت جاں، بڑے پرفریب ہوتے ہیں۔

Read more

ایسے ہوتے ہیں ”بیانیے“؟

شوخ، چنچل، خوبرو اور دِلربا ہونے کے باوجود جھوٹ، جھوٹ ہی رہتا ہے۔ اسے ’بیانیہ‘ کا معتبر نام دے دیا جائے تو بھی اس کی عمر بڑی مختصر ہوتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ کوئی اِس کی جوانمرگی کا ماتم کرتا نہ تابوت کو کندھا دیتا ہے۔ سچ بھلے خوبرو اور جامہ زیب نہ ہو، اپنے جوہر میں بڑی توانائی رکھتا ہے۔ دیر سویر، تقویمِ وقت کی کوکھ سے ایک ایسا لمحہ ضرور پھوٹتا ہے جب جھوٹ آخری ہچکی لیتا

Read more

”تیسرا“

شہرہِ آفاق سپنر، ثقلین مشتاق کی اختراع کردہ ایک منفرد گیند، کرکٹ کی دنیا میں ’’دوسرا‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ گیند آف سپن ہونے کے بجائے، بلّے باز کو جُل دے کر دوسری طرف مڑ جاتی ہے۔ ثقلین نے اپنے پہلے ٹیسٹ کی پہلی وکٹ اِسی گیند پر لی۔ ثقلین کا کہنا ہے کہ جب وہ گیند کر رہا ہوتا تو وکٹ کیپر معین خان ہانک لگاتا ’’ثقی دوسرا‘‘۔ رفتہ رفتہ تمام ملکوں کے کھلاڑی ’’دوسرا‘‘ سے واقف

Read more

تاریخ کے متعفن ترین چھ سال!

میرے دوست، سینیٹر رضاربانی نے تجویز دی ہے کہ حکومت 2023 کو ”سالِ دستور“ کے طور پر منانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے کیوں کہ 14 اگست 1973 کو نافذ ہونے والا آئین پاکستان، اِس برس، 14 اگست کو پچاس سال کا ہو جائے گا۔ میں سینیٹر ربانی کی تجویز میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ تقریبات کی رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کی ایک سنجیدہ مشق کے لئے بھی ایک کمیٹی قائم کر لی جائے۔

Read more

خان صاحب، معیشت اور انتخابات!

معیشت کی زبوں حالی میں کوئی کلام نہیں۔ لیپا پوتی کے باوجود اِس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ہماری معاشی تباہ حالی کی تاریخ خاصی طویل ہے۔ آج ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت کے زرمبادلہ ذخائر چھ سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ بنگلہ دیش چالیس ارب ڈالر لئے بیٹھا ہے۔ ہم ایک ایک دو دو ارب ڈالر کے لئے دنیابھر کے گلی گوچوں میں ”فریادِیتیم“ گاتے ہوئے مقفل دروازوں سے سرپھوڑ رہے ہیں۔ اِس صورتِ

Read more

وہ ایک آدمی!

جانے یہ ستّر کے پیٹے کا کیا دھرا ہے یا کچھ اور کہ عمران خان یکایک ”اس ایک آدمی“ کا نام بھول گئے ہیں جو کبھی ان کے دل میں گلاب بن کر مہکتا اور اب خاربن کر کھٹکتا ہے۔ کچھ دِن قبل، گھنٹہ بھر کے خطاب میں انہیں اس کا نام یاد نہ آیا۔ بولے… ”آٹھ ماہ پہلے ’ایک آدمی‘ نے فیصلہ کرکے ملک پر جو ظلم کیا وہ کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا۔ اس ایک آدمی نے

Read more

عمران خان، پارلیمان اور ہیجان ! (مکمل کالم)

عمران خان صاحب کی سیاست کچھ ایسے کیمیائی اور طبیعاتی عناصر کا مرکب ہے جو ہماری نہایت ہی مشّاق سیاسی تجربہ گاہ کے لئے بھی عجوبے سے کم نہیں۔ نظام حکومت صدارتی ہو یا پارلیمانی یا کچھ اور، اگر وہ اپنا رشتہ جمہوریت سے جوڑتا ہے تو لازم ہے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کرے، ووٹ کی طاقت کو تسلیم کرے اور اس دستاویزِ مقدس کے تقاضوں کی پاسداری کرے جسے آئین کہتے ہیں۔ جمہوری سیاست بالعموم فراخ

Read more

ایکسٹینشن کا ”شیش ناگ“!

”ایکسٹینشن“ کے عنوان سے میرا گزشتہ کالم انگریزی محاورے کے مطابق محض ”نوک تودہ برف“ (Tip of the Iceberg) تھایا یوں کہہ لیجیے کہ یہ اس ”شیش ناگ“ کی ہلکی سی سسکاری تھی جو اکثروبیشتر پوری قوت سے پھنکارتا اور زہرکا چھڑکاؤ کرتا رہتا ہے۔ مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ان کی جنبش لب اور اشارہ ابرو جمہوری حکمرانوں کے آئینی اور صوابدیدی اختیارات سے بہت قوی ہوتے ہیں۔ مارشل لا سے گریز کرنے یا

Read more

"ایکسٹینشن“

وزیراعظم آفس کی شمالی کھڑکی کے باہر پھیلی دھوپ سرسبز گھاس سے کھیل رہی تھی۔ ذرا پرے مارگلہ کے شاداب پہاڑوں کی چوٹیاں بھلی لگتی تھیں۔ میں وزیراعظم نوازشریف کے عین سامنے بیٹھا، فائل میں دھرے نوٹس کا پلندہ کھولنے کو تھا کہ وہ بولے __ ’’آپ یہ فائل مجھے دے دیں۔ میں پڑھ کر آپ سے بات کرلوں گا۔‘‘ میں نے کچھ کہے بغیر فائل اُن کی طرف بڑھا دی۔ پانامہ کا آتش فشاں پھٹ چکا تھا۔ لاوا تھامے

Read more

سید عاصم منیر کا عہد!

سردیوں کا مختصر سا دن ہو یا دہکتی گرمیوں کا طویل، سورج کو غروب ہونا ہی ہوتا ہے۔ تین سال ہوں یا توسیع یافتہ چھ برس، ایک دن وردی اتار کر آبنوسی چھڑی نئے سپہ سالار کے حوالے کرنا ہی ہوتی ہے۔ سو! جنرل قمر جاوید باجوہ، اقتدار کلی کے قصر پرشکوہ سے نکل کر، ریٹائرڈ جرنیلوں کے حجرہ بے آب و رنگ میں جا بیٹھے ہیں۔ جاتے جاتے وہ آبنوسی چھڑی کے ساتھ ساتھ پہاڑ جیسا چیلنج بھی سید

Read more

سراج الحق صاحب کے ارشاداتِ عالیہ !

میں شعوری طور پر ”خیالِ خاطرِ احباب“ کے سنہری اصول پر کاربند رہتا ہوں کہ آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔ آج کل تو آفاق کی کار گہِ شیشہ گری کی نزاکتیں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہیں۔ آبگینے کو ذرا سی ٹھیس بھی پہنچ جائے تو ایسا چھناکا ہوتا ہے کہ اَرض و سما لرز اٹھتے ہیں۔ عالی مرتبت سراج الحق صاحب کی میرے دل میں بے پناہ قدر و منزلت ہے۔ وہ سید مودودیؒ کی مسندِ فضیلت پر

Read more

وزیر آباد وقوعہ اور ”قائم قنونیا“

سیاسی آلودگی جانچنے کا کوئی معتبر پیمانہ ہوتا تو پاکستان یقیناً دنیا کا سب سے آلودہ ملک قرار پاتا۔ گرد و غبار کہیں یا آندھی، دھند کہیں یا سموگ، قومی زندگی کا ہر شعبہ سیاسی آلودگی کی زد میں ہے۔ سیلاب متاثرین، غربت، مہنگائی، بیروزگاری، امن وامان، عالمی مالیاتی اداروں کی دھونس، ہچکیاں لیتی معیشت، سبھی کچھ میلے اور پرانے کپڑوں والی سیلن زدہ کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ ہی نہیں کہ کیسے طرح طرح کے عوارض

Read more

جھوٹ کی فراوانی اور سچ کی لب کشائی

یاد نہیں پڑتا کہ آئی ایس آئی کے کسی سربراہ کو براہ راست میڈیا کے سامنے آ کر اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ 1980 ء کی دہائی میں افغانستان پر روسی حملے کے خلاف مزاحمتی تنظیموں کا دست و بازو بنتے ہوئے آئی ایس آئی پیشہ ورانہ مہارت کی نئی بلندیوں تک پہنچی اور اس کا شمار دنیا کی صف اول کی ایجنسیوں میں ہونے لگا۔ یہ سب کچھ سانحہ بہاولپور میں شہید ہونے والے جنرل

Read more

قصہ ایک’’کالے قانون‘‘ کا!

عالی مرتبت چیف جسٹس پاکستان عمر عطابندیال نے فیصل واوڈا مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہتاحیات نا اہلی کا قانون ایک کالا قانون ہے۔جمعرات کو اسی مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے مزید فرمایا کہ’’کسی عوامی نمائندے کو تا حیات نا اہل قرار دینا اتنا آسان کام نہیں، آرٹیکل 62ون۔ایف کا ڈکلیئریشن صرف مجاز عدالت ہی ٹرائل کورٹ کی طرف سے شواہد قلمبند کرنے کے بعد جاری کر سکتی ہے، اس کے بغیر کسی کو بھی بددیانت اور

Read more

خان صاحب اور نومبر!

عمران خان کی، ایشیائی معشوقاؤں جیسی ہزار شیوہ، سیاست کی گتھیاں سلجھانے بیٹھیں تو دماغ کی نسیں چٹخنے لگتی ہیں۔ ان دنوں ان کی شعلہ بار خطابت نے، نومبر میں ہونے والی ایک تقرری کے حوالے سے الاؤ بھڑکا رکھا ہے۔ گزشتہ ماہ، 15 اگست کو انہوں نے اپنے معروف کھردرے اسلوب سے ہٹ کر کمال متانت اور سنجیدگی سے نئے آرمی چیف کی تقرری پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا۔ ”میرا تو اب اس میں کوئی اشو نہیں۔

Read more

یہ خان صاحب کا درد سر نہیں!

پونے چار سال تک ”ایک پیج“ کو اپنی سیاسی حکمت کاری کا اعجاز، اپنی مدبرانہ سیاست کا طرہ امتیاز اور خود اپنی دانش و بصیرت کے لئے ”سرمایہ اعزاز“ سمجھنے والے عمران خان کے ہنستے بستے چمن پر، عین موسم بہار میں، پت جھڑ کی ایسی رت آئی کہ وہ ابھی تک اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکے۔ فوج کے سیاسی کردار پر تنقید پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔ پرانی روش کا اعادہ ہوا تو آئندہ بھی ہو گی۔

Read more

ہمارا انصاف اندھا نہیں!

جب سے عمران خان کی حکومت گئی ہے، قانون و انصاف سے دلچسپی رکھنے والے پاکستانی بڑی توجہ سے صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایوان عدل کے افق سے کس نوع کا سورج طلوع ہوتا ہے، درخشاں و تاباں یا گہنایا ہوا؟ ادھر خان صاحب کے سیاسی مخالفین کا خیال ہے کہ کردہ گناہوں کی بنا پر خان صاحب کے ساتھ کم ازکم وہ سلوک تو ضرور ہو گا جو نا کردہ گناہوں پر نواز شریف کے

Read more

نا انصافی کا ازالہ ضروری ہے!

’’مجھے اور مریم کو انصاف نہیں ملا۔ میرا اور مریم کا سیاسی قتل کیا گیا ہے۔ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی اور جج ارشد ملک کےبعد اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟‘‘ موسموں کے جبرِ ناروا کا شکار، تین بار پاکستان کا وزیراعظم رہنے والا یہ شخص کچھ نہیں مانگ رہا، صرف انصاف کی دہائی دے رہا ہے۔ میں محمد نواز شریف نامی شخص کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ اس کا سینہ رازوں کا دفینہ ہے۔ وہ

Read more

آخر ادارے کیا کریں؟

تین دن قبل سابق وزیر اعظم عمران خان نے دھمکی، تنبیہ اور سرزنش کے انداز میں کہا ”اب بھی وقت ہے نیوٹرلز اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ کیا انہیں ملک کی کوئی فکر نہیں؟ آپ جتنا کہیں نیوٹرل ہیں تاریخ آپ کو مورد الزام ٹھہرائے گی“ ۔ اس سے قبل اپنے ایک خطاب میں عمران خان نے دھمکی دی تھی۔ ”اسٹیبلشمنٹ (فوج) نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی، ایٹمی اثاثے چھن جائیں گے، پاکستان

Read more

"معجزہ” کہاں کھو گیا ہے؟

آج تین سال مکمل ہو گئے۔ حسن بن صباح کی خود ساختہ جنت الفردوس کی طرح، عہد حاضر کی خانہ ساز’’ریاست مدینہ‘‘میں جب 26جولائی 2019 کی صبح جمیل طلوع ہوئی تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والی رات مجھے رمنا تھانے کی حوالات اور اس سے اگلی شب اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں گزارنا ہوگی۔ رات ساڑھے گیارہ بجے کے لگ بھگ درجنوں ڈالوں پر سوار پولیس، اینٹی ٹیررسٹس فورس اور مسلح سفید پوشوں

Read more

سینٹ یا سوالات کا مقتل

توشہ خانہ ہی پہ کیا موقوف، خان صاحب کی ”ریاست مدینہ“ کی شفافیت اور جوابدہی کا یہ عالم تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کے سوالات بھی صحرا کی گونج بن کر رہ جاتے تھے۔ میں نے ایک سال کے دوران جو کچھ سینٹ میں دیکھا، وہ ”ریاست مدینہ“ کی روح کے منافی ایسی بے ننگ و نام روش تھی جس کے لئے مجھے اردو لغت میں کوئی مناسب لفظ نہیں مل رہا۔ چند ہی دن پہلے سینٹ نے اپنی کارکردگی کی

Read more

جس ”دھج“ سے کوئی مقتل کو گیا!

25 جولائی 2018 کی شب، آر۔ ٹی۔ ایس کی مرگ ناگہانی کے بعد ، و تعز من تشآء و تذل من تشآء کے یادگار ٹویٹ کے جلو میں، فتح و کامرانی کے پھریرے لہراتے ہوئے خان صاحب کی باضابطہ سہرا بندی کے لئے 18 اگست کی تاریخ طے پائی۔ نواز شریف اور مریم نواز کئی ماہ پہلے جیل ڈالے جا چکے تھے۔ عمران خان گزشتہ کئی برس سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو تختہ مشق بنائے ہوئے تھے۔

Read more

خوبرو دوشیزہ، وزیر اعظم اور رخصتی

گاؤں کی خو برو دوشیزہ، رات کے پچھلے پہر، اپنے چاہنے والے نوجوان کے ساتھ پڑوس کے گاؤں چلی گئی۔ ماں آہ و زاری کرتی پنچایت پہنچی، سرپنچ نے پوچھا۔ ”تم کیوں اسے واپس لانا چاہتی ہو۔ اس نے پسند کی شادی کر لی۔“ بوڑھی ماں نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ ”جی یہ بات نہیں۔ وہ بیشک اس سے شادی کرے۔ جگ جگ کرے، میں تو بس یہ چاہتی ہوں کہ ایک بار وہ گھر آ جائے۔ میں

Read more

قبضہ گیر وزیر اعظم کی زخم خوردہ انا کی آخری ہچکی

عمران خان کا آفتاب جہاں تاب افق مغرب سے آن لگا ہے۔ انہونی کا نقارہ بج رہا ہے اور میرے دوست، اظہار الحق کے بقول غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے یہ آسمان کیوں ٹوٹا؟ خان صاحب کو فرصت ملے تو تین سو کنال پر پھیلے اپنے گھر کے سبزہ زار میں کسی تختہ گل کے پہلو میں بیٹھ کر اس سوال کی گتھیاں سلجھا سکتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تسبیح ہر

Read more

خان صاحب کا قصر حکمرانی اور منہ زور آندھی

شگفتہ گو شاعر، نذیر احمد شیخ کی ایک یاد گار نظم ہے۔ آندھی۔ کیا عمدہ منظر کشی ہے۔ کمال سلاست و روانی سے آندھی کا ایسا بھرپور نقشہ کھینچا ہے کہ پڑھنے والا خود کو بگولوں میں گھرا محسوس کرتا ہے اور اس کی آنکھوں میں ریت چبھنے لگتی ہے۔ کھڑکی کھڑکے، سر کی سرکے، پھڑکے روشن دان ناکہ بندی کرتے کرتے، گھر سب ریگستان جھاڑو، جھاڑن، موج منائیں ان کا اپنا راج پیپا بیٹھا ڈھول بجائے، کتھک ناچے چھاج

Read more

سو چھید والی جھولی، کوچہ رقیب، اور جناب وزیر اعظم

فیصلے کی گھڑی، ٹلنے کے باوجود، آہنی ہتھوڑے کی طرح سر پر برس رہی ہے۔ خان صاحب کا خفقان، ہیجان میں بدل رہا ہے۔ اعصاب شل ہو رہے ہیں۔ ان کے حواس پر تشنج کی وہی کیفیت طاری ہے جو بھونچال کے لمحے تھرتھراتی زمین پہ ہوتی ہے۔ ”دہن“ کے ”دہانہ“ بن جانے کے باوصف ان کی بدن بولی کا چونچال پن سنولاتا جا رہا ہے۔ عالمی صورت حال بھی اچھی نہیں۔ مستند ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکی صدر جو

Read more

وزیر اعظم کا ”امر بالمعروف“ اور مولانا کا ”نہی عن المنکر“ جلسہ

عزت ماب جناب وزیر اعظم عمران خان کی آتش بیانی جاری ہے لیکن ”لاوا فشانی“ میں کمی آ رہی ہے۔ آسمان سے ہم کلام شعلوں کی لپک جھپک قدرے مدھم پڑنے لگی ہے۔ آتش فشاں کے سینے میں لاوے میں ڈھلتے کیمیائی اجزائے ترکیبی کی حدت اور شدت تو موجود ہے لیکن جوش و خروش مدھم پڑ گیا ہے جو آتشیں لاوے کو دہانے تک لاتا اور فوارے کی صورت اگلتا ہے۔ خان صاحب کی بدن بولی میں بھی آہوئے

Read more

جناب وزیراعظم۔ ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے؟

غالب کی معروف غزل کا مطلع ہے ؂ آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے بغض و حسد کے مارے لوگ کچھ بھی کہتے رہیں، مجھے تو ذرہ برابر شک نہیں کہ ہماری تاریخ میں نہ پہلے کوئی فرد، عمران خان نامی بطل جلیل جیسا آیا، نہ آئندہ آئے گا، تاہم سیانے کہتے ہیں کہ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے اور دما دم صدائے ”کن فیکون“ آ رہی ہے اس

Read more

وزیر اعظم :میلسی سے دیر اور دہن سے دہانہ تک

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نے ایک تلاطم بپا کر رکھا ہے۔ دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؛ نتائج سے قطع نظر اس تلاطم کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ دنوں میلسی اور گورنر ہاؤس کراچی میں خان صاحب کی دو تاریخ ساز یا تاریخ شکن تقاریر، کسی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ یہ بڑا قومی زیاں ہے۔ ویسے تو کھیل کود کے زمانے سے ہی وزیراعظم عمران

Read more

محمد رفیق تارڑ بھی رخصت ہو گئے

محمد رفیق تارڑ بھی رخصت ہو گئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ کیا بھر پور شخصیت تھی۔ اپنے انداز میں یکتا، اپنے ڈھب میں منفرد، اپنے اسلوب میں بے مثل، اپنے اطوار میں بے لچک، اپنے اصولوں میں پختہ کار۔ ان کے بارے میں نہ جانے کیسی کیسی کہانیاں گھڑی گئیں۔ ان کے دامن پر کیسے کیسے داغ تھوپے گئے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ رفیق تارڑ ان میں سے تھے جن کو پوری طرح سمجھا ہی نہیں گیا۔

Read more

چار جنرل استعفیٰ مانگنے آئے تو صدر تارڑ نے کیا کہا؟ (عرفان صدیقی کا ناقابل اشاعت کالم)

آج سے بیس برس پہلے کا ذکر ہے۔ جون کے آگ برساتے سورج کو مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے چھپے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ رات کا پہلا پہر ڈھل رہا تھا۔ باد شمال ہرے بھرے شہر کی شادابیوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ ایوان صدر کا پرتکلف عشائیہ ختم ہو چکا تھا۔ معزز مہمانان گرامی متصل ڈرائنگ روم میں اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے۔ ماحول پراسرار سے تناو کی گرفت میں تھا۔ شکم سیری کے باوجود مہمانوں کے چہروں

Read more

عطاءالرحمن ___ رحمان کی عطا تھے !

عطاءالرحمن واقعی رحمان کی عطا تھے! صحافت کی حُرمت، لفظ کی عصمت، نظریے کی استقامت، قلم کی آبرو، آئین کی سربلندی، جمہوریت کی کارفرمائی، قانون کی پاسداری، فکر کی استواری، موقف کی پائیداری، استغنا شعار طرحداری، مشرقیت میں گندھی وضعداری، حد کمال کو چھوتی سادہ شعاری اور ہرموسم میں راستی کے راستے پر چلنے کی پختہ کاری کا نام عطاءالرحمن تھا۔ میں اس مردِ درویش سے اپنے تعلق کو کوئی نام نہیں دے پا رہا۔ بے شک بعض تعلق، رشتہ

Read more

نواز شریف کے خلاف واردات کی گواہی، واردات سے پہلے

میں آج پٹاری سے کسی آڈیو یا وڈیو کیسٹ کا سنپولیا یا شیش ناگ نہیں نکال رہا نہ کسی پہلے سے زیر گردش کیسٹ کی صداقت پر بحث کرنا مقصود ہے میں ایک ایسی شہادت ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں جسے جھٹلانا کسی سیاسی فنکار کے لئے ممکن نہیں ہو گا

Read more

چودہ برس پہلے: نواز شریف پر کیا گزری

تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے معتوب ومغضوب فرد، محمد نوازشریف نے حال ہی میں کسی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح ضیا دور کے جنرل چشتی جیسا بانکپن اور طمطراق رکھنے والے جنرل محموداحمد نے 12 اکتوبر1999 کو وزیراعظم ہاﺅس پہ قبضہ کیاتھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ نوازشریف دفتر کے بجائے وزیراعظم ہاﺅس کے رہائشی حصے میں تھے۔ نوازشریف بتاتے ہیں کہ جنرل موصوف اس شکوہ کے ساتھ انکی طرف بڑھے جس

Read more

قصہ ایک صدی کا! 1919 کے راولپنڈی سے 2020 کے دوہا تک

”دو دہائیوں کے بعد ، کسی طمطراق سے عاری اور کسی فاتحانہ تفاخر سے محروم، آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے رخصت ہو گیا۔ پیر کی رات، تاریک بیں سبز روشنی میں ڈوبے، میجر جنرل کرس ڈوناہو (Chris Donahue) کے پاؤں میں پڑے افغانستان کی سرزمین کو چھوڑنے والے دو آخری بوٹ تھے۔ وہ ائرفورس سی 17 کی عقبی ڈھلوان سے طیارے میں سوار ہو گیا۔ جونہی، جنگی وردی میں ملبوس، سر پر ہیلمٹ سجائے، دائیں ہاتھ میں رائفل تھامے، 82 ویں ائر بارن ڈویژن کا کمانڈر طیارے میں داخل ہوا، افغانستان میں عاقبت نا اندیشانہ امریکی مہم جوئی، اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ پانچ امریکن سی۔ 17 طیاروں میں سے آخری طیارے کے پہیے، ٹھیک گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر افغانستان کی مٹی کو چومتے ہوئے فضا میں بلند ہوئے تو امریکی سپاہ کے کمانڈر میجر جنرل ڈوناہو نے اپنے سپاہیوں کو آخری پیغام بھیجا۔

Read more

وزیراعظم کو پی ٹی وی سے علم ہوا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے

تازہ ترین موضوع تو افغانستان ہی ہے۔ لیکن اس حوالے سے میں، بلغاریہ نژاد امریکی خاتون جولیانہ کی کہانی کچھ دن بعد سناﺅں گا۔ سفید فام لیکن امریکیوں سے کچھ مختلف نظر آنے والی خوش مزاج سی جولیانیہ نے واشنگٹن میں ویت نام اور کوریا کی جنگوں کا ایندھن بن جانے والوں کی خوبصورت یادگاروں کے بیچوں بیچ، محمود شام سمیت جنوبی ایشیا کے پانچ جید صحافیوں کی موجودگی میں میرے کندھے پہ اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا ”Mr.

Read more

نواز شریف کا ویزا اور اہل دربار کا جشن مسرت!

اہل سرکار و دربار کے چہروں پر آسودگی اور بشاشت کی شفق بکھری ہوئی ہے۔ اونچے ایوانوں سے مبارک سلامت کی صدائیں اٹھ رہی ہیں۔ احساس کامرانی سے پیشانیاں دمک اٹھی ہیں۔ فتح مبین کے اعلانات کی گونج تھمنے میں نہیں آ رہی۔ اس فاتحانہ تفاخر اور چکا چوند کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے پاکستان یا عوام کے لئے کوئی تاریخی کارنامہ سرانجام دے ڈالا ہے۔ پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ منزل مراد تک آن پہنچا ہے۔ عوام کا لہو چوستی مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی بے ہنگم بے روزگاری کو لگام ڈال دی گئی ہے۔ اب ہمیں کشکول اٹھا کر گلی گلی صدا لگانے اور تماشائے اہل کرم دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آئی۔ ایم۔ ایف کی زنجیریں کٹ گئی ہیں۔ پاکستان اب دوسرے ممالک کو اربوں ڈالر کے قرضے دینے لگا ہے۔ نگر نگر سے اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد نوکریاں تلاش کرنے پاکستان آرہے ہیں۔

Read more

ہتھکڑی کی دوسری سالگرہ

21 جون کو سرکارکی طرف سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینٹ) میں ایک بل پیش کیا گیا۔ اس بل کا نام تھا "The Islamabad Capital Territory Senior Citizen Bill, 2021” یعنی ’’اسلام آباد کے سینئر شہریوں کا بل‘‘۔ قومی اسمبلی پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکی تھی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی اس کی چھان پھٹک کرلی تھی۔ بل پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا تھا تاہم میں نے اپنے سامنے لگے مائیک کا بٹن دبا دیا۔

Read more

پاکستان کے ایوان صدر پر دو روزہ امریکی قبضے کی کہانی

چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، بن مانس جیسے چوڑے شانے، لحیم شحیم، تربوز جتنا منڈا ہوا سَر، آنکھوں پہ سیاہ چشمہ، دونوں کانوں میں سفید رنگ ٹونٹیاں جن کے تار گہرے نیلے رنگ کے کَسے ہوئے سوٹ کے اندر کہیں گم ہوگئے تھے، دائیں ہاتھ میں ایک چرمی بریف کیس۔ تن وتوش سے ایک خونخوار باکسر دکھائی دینے والا امریکی گارڈ نیم روشن راہداری کے بیچوں بیچ، صدر مملکت کے دفتر کی طرف رُخ کئے، دیوقامت مجسمے کی طرح

Read more

صدر کلنٹن کا دورہ – ایوان صدر پر کیا گذری؟ پہلی مرتبہ انکشافات

انکشاف بھری کہانی، عرفان صدیقی کی زبانی۔

چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، بن مانس جیسے چوڑے شانے، لحیم شحیم، تربوز جتنا منڈا ہوا سر، آنکھوں پہ سیاہ چشمہ، دونوں کانوں میں سفید رنگ ٹوٹیاں جن کے تار گہرے نیلے رنگ کے کسے ہوئے سوٹ کے اندر کہیں گم ہو گئے تھے، دائیں ہاتھ میں ایک چرمی بریف کیس۔ تن و توش سے ایک خونخوار باکسر دکھائی دینے والا امریکی گارڈ نیم روشن راہداری کے بیچوں بیچ، صدر مملکت کے دفتر کی طرف رخ کیے، دیوقامت مجسمے کی طرح ساکت و صامت کھڑا تھا۔ اور میں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایوان صدر کی چوتھی منزل کی اسی برآمدہ نما راہداری کے جنوبی گوشے میں، اپنے چھوٹے سے دفتر کے اندر ”لے سانس بھی آہستہ“ کی تصویر بنا سکڑا سمٹا، کمرے کی مغربی کھڑکی سے، مارچ کی ڈھلتی سہ پہر کے دراز ہوتے سائے دیکھ رہا تھا۔ راہداری کی شمالی سمت، آخری کمرہ صدرمملکت کا دفتر تھا۔ دونوں دفاتر کے درمیان کوئی سو سوا سو قدم کا فاصلہ تھا۔

Read more

سینیٹر عرفان صدیقی کا ناقابل اشاعت کالم: کچھ اہل دانش کی مختصر آرا

سینیٹر عرفان صدیقی کے ناقابل اشاعت کالم پر کچھ اہم اہل دانش کی مختصر آرا موصول ہوئی ہیں۔ جو کہ حاضر خدمت ہیں۔ اصل کالم پڑھنے کے لئے ذیل کے لنک پر کلک کیا جا سکتا ہے۔ چار جنرل استعفیٰ مانگنے آئے تو صدر تارڑ نے کیا کہا؟ (عرفان صدیقی کا ناقابل اشاعت کالم) ان دنوں حقیقت پر مبنی ہر تحریر ناقابل اشاعت ہےآپ کو معلوم ہونا چاہیے تھا "سچ آکھیاں بھانبڑ مچدا اے”۔ (عطا الحق قاسمی) اس تحریر کی

Read more

عرفان صدیقی کا کالم: نواز شریف کا پیغام

محترم صدیقی صاحب میرے خیال میں یہ ایک ادبی شہ پارہ ہے۔ آپ کے بہترین کالموں میں سے ایک۔ ناقابل اشاعت اس لئے کہ سچ اور حقیقت پر مبنی بات کہنا بہت بڑا جرم بن چکا ہے— لیکن آپ اسی حوصلے کے ساتھ یہ جرم کرتے رہیے۔ محمد نواز شریف چار جنرل استعفیٰ مانگنے آئے تو صدر تارڑ نے کیا کہا؟ (عرفان صدیقی کا ناقابل اشاعت کالم) https://www.humsub.com.pk/397937/irfan-siddiqui-52/

Read more

خیر خواہ بریگیڈیئر کا نواز شریف کو فرار کا مشورہ

میں اپنے ڈرائیور کے ہمراہ گھر سے نکلا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں واقع دفتر تک جانا ممکن نہ تھا۔ زبردست ناکہ بندیوں سے بچتا بچاتا، مارگلہ روڈ سے ایک کچی پگڈنڈی سے ہوتا، بری امام کو جاتی سڑک کے ذریعے میں وزیراعظم ہاؤس کے عقبی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ وزیراعظم نواز شریف اپنے دفتر میں، اپنی مخصوص نشست کے بجائے مہمانوں کے لیے وقف ایک کرسی پہ بیٹھے تھے۔ وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ بھی تشریف فرما تھے۔

Read more

دھاندلی، پاکباز ووٹنگ مشینیں اور دست ہنر مند

سال ہا سال سے عوامی رائے کا تعین ہمارے لیے ایک نہ حل ہونے والا مسئلہ کیوں بن گیا ہے؟ انتخابات کی شفافیت پر ہمیشہ انگلیاں کیوں اٹھتی ہیں؟ نتائج کیوں نا معتبر ٹھہرتے ہیں؟ ووٹر کو کیوں یقین نہیں ہوتا کہ اس کا ووٹ واقعی اس کے پسندیدہ امیدوار کے حق میں گنا جائے گا؟ تمام تر حفاظتی تدابیر اور ناکہ بندیوں کے باوجود انتخابات کی ساکھ کیوں قائم نہیں ہو رہی؟ برسوں سے ہم ان گنجلک سوالوں کی گرہیں کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں ’جن کا واضح اور غیر مبہم جواب ذرا سی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا طفل مکتب بھی جانتا ہے۔ علامہ کے شعر کا پہلا مصرع قومی سطح کے اسی بے مثل ”تجاہل عارفانہ“ کی ترجمانی کرتا ہے۔

برسوں کے سفر رائیگاں کے بعد آج کل ہم ایک اور سراب کی طرف لپک رہے ہیں۔ اس کا نام ہے ”الیکٹرانک ووٹنگ مشین“ (ای وی ایم) ۔

Read more

سفیروں کی ناقص کارکردگی اور وزیراعظم کا خطبہ

اگرچہ یورپی قرارداد میں پاکستان پر جو فرد جرم عائد کی گئی ہے اس کا تمام تر تعلق ملک کی داخلی صورت حال، بدانتظامی، ناقص حکومتی کارکردگی اور نا اہلیت سے ہے لیکن متعلقہ سفیر کیا کر رہے تھے؟ اگرچہ جواباً جناب وزیراعظم سے پوچھا جاسکتا ہے کہ جہاں یورپی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت ہمارے مخالف 681 اور ہمارے حق میں صرف 6 ووٹ پڑیں تو افلاطونی ذہانت کا مالک کوئی سفیر بھی کیا کر لیتا؟ وہاں تو آر۔ ٹی۔ ایس قسم کی کوئی چیز بھی نہ تھی کہ اس کا تار کھینچ لیا جاتا۔

کہا جاتا ہے کہ یورپی یونین کی یہ قرارداد ’فاٹف‘ کا شکنجہ مزید سخت کر سکتی ہے جس کا اجلاس اگلے ماہ ہو رہا ہے۔ یہاں پھر وہی نواز شریف اور اسحاق ڈار یاد آتے ہیں جو پاکستان کو بلیک سے گرے اور گرے سے وائٹ میں لائے تھے۔ پھر وسیع تر قومی مفاد میں ایک انقلاب عظیم بپا ہوا اور آج گرے سے نکلنے کے لالے پڑے ہیں۔ فاٹف کا کوئی ایک بھی مطالبہ پاکستانی سفیروں کے حوالے سے نہیں، اس کی ساری چارج شیٹ پاکستان کے داخلی معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔

Read more

وزیراعظم کا اظہار فخر اور کج بحثیاں: ناقابل اشاعت کالم

(ایک شگفتہ سا کالم۔ میرے اخبار کو جس کی اشاعت کا حوصلہ نہ ہوا)۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے اڑھائی سالہ عہد حکومت کی کارکردگی پر اظہار فخر کیا کیا، گویا بارود خانے کو آگ دکھا دی۔ آتشبازی ہے کہ تھمنے میں نہیں آ رہی۔ کیا سیاست دان، کیا سوشل میڈیا کا چنچل نگارخانہ، کیا سرشام ٹی۔ وی چینلز پر درس حکمت دیتے دانشور اور کیا پیہم چرکے لگانے والے قلم کار، سبھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں نکل آئے۔ کہنا یہ ہے کہ آخر وزیراعظم نے اپنے کون سے کارناموں کی بنیاد پر خود کو مجبور پایا کہ عاجزانہ انکساری، درویشانہ کسر نفسی اور فقیرانہ بے نیازی سے دستکش ہو کر، اتنے کھلے ڈلے اور دبنگ لہجے میں اظہار تفاخر کر دیا؟

بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ کوئی کمر توڑ مہنگائی کا رونا رو رہا ہے۔ کوئی غربت کی لکیر سے نیچے لڑھکتے عوام کا ماتم کر رہا ہے۔ کوئی بے روزگاری کی دہائی دے رہا ہے۔ کوئی واویلا کر رہا ہے کہ کاروبار تباہ ہو گیا۔ کسی کو گلہ ہے کہ ہر شعبے میں رشوت عام ہو گئی ہے۔ کوئی سیاپا کرتی عورتوں کی طرح ہاتھ نچا نچا کر طعنے دے رہا ہے کہ سیاسی مخالفین، یا عرف عام میں چوروں اور ڈاکووں سے لوٹی گئی رقم واپس لینے کے بجائے، عوام کے خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے تاوان میں دے ڈالے۔

Read more

بلڈوزروں کی آنکھیں نہیں ہوتیں!

گزشتہ دنوں خبر آئی کہ تین دہائیاں پرانا ریکارڈ نکال کر محکمہ مال کے چند ماہرین نے ایسی دستاویز مقدس تیار کی ہے جس کی بنا پر جاتی عمرہ کے کچھ گھروں پر بلڈوزر چلانا واجب ہو گیا ہے۔ طے پایا کہ قانونی اور عدالتی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے، رات کی خاموشی میں یلغار کی جائے اور جب تک کسی کو خبر ہو، انصاف کام دکھا چکا ہو۔ اس فیصلے کی بنیاد جناب وزیراعظم کا یہ قول ہے کہ ”قانون سب کے لئے برابر ہے“ البتہ قانون کی تعبیر اور ”سب“ کی تشریح حکومت کا اپنا استحقاق ہے۔ حملے میں ایک دن کی تاخیر ہو گئی اور ایک عدالتی حکم امتناعی کے باعث ”قانون سب کے لئے برابر ہے“ کی ایک درخشندہ مثال، لوح تاریخ پر رقم ہوتے ہوتے رہ گئی۔

Read more

جہلم کا خرقہ پوش

شاہد حمید نامی مرد ہنرکار بھی رخصت ہو گیا۔ رخصت تو ایک نہ ایک دن ہم سب نے ہو جانا ہے لیکن تیزی سے بانجھ ہوتی اس دھرتی میں کتنے ہوں گے جو رخصت ہو جائیں اور انھیں اس طرح یاد کیا جائے جیسے گھر کا کوئی فرد جدا ہو گیا ہو، جیسے کوئی یار عزیز بچھڑ گیا ہو، جیسے کوئی ہمدم دیرینہ الوداع ہو گیا ہو۔

وہ کوئی نامور لکھاری نہ تھا۔ میڈیا کی چکا چوند سے بھی اس کا کچھ تعلق واسطہ نہ تھا۔ وہ کسی بڑے صحافتی ادارے کا مالک و منتظم بھی نہ تھا۔ وہ اہل سیاست میں سے بھی نہ تھا کہ لوگ اس کی شعلہ فشاں تقریروں اور آئے دن کی سیاسی کروٹوں کے حوالے سے اسے جانتے پہچانتے۔ وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے کسی بڑے شہر کا باسی بھی نہ تھا کہ وہاں کی علمی، ادبی اور سماجی تقریبات اس کی پہچان بنتیں۔ وہ تو ہنگامہ ہائے زیست سے بہت دور جہلم نامی ایک چھوٹے سے شہر میں کسی درویش خدا مست کی طرح بکل مارے بیٹھا تھا۔ اس کی اپنی دنیا تھی اور اپنا جہان۔ اپنی زمین اور اپنا آسمان۔

Read more

رؤف طاہر بھی چلا گیا

لاہور سے ایک دوست کا فون آیا۔ اس کی آواز میں ارتعاش تھا۔

”رؤف طاہر کا انتقال ہو گیا۔“ اندر ایک دیوار سی گری۔ دل ملبے تلے دبتا ہوا محسوس ہوا۔ یقین نہ آیا تو ڈرتے ڈرتے شامی صاحب کو فون کیا۔ غم سے بوجھل آواز نے سب کچھ کہہ دیا۔ ہمدم دیرینہ کی اچانک موت کا صدمہ ایسا تھا کہ ان سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ لرزتی انگلیوں سے میں نے سیل فون پر رؤف طاہر کا نمبر ملایا۔ آج اس کی گونج دار آواز کے بجائے، اس کے بیٹے آصف کی سسکیاں سنائی دیں۔ میں کیا پوچھتا اور وہ کیا بتاتا؟

Read more

عرفان صدیقی کی غزل ۔۔۔ وہ حساب آج چکا دیا

زبان انسان کا اظہار ہی نہیں، پیچیدہ ترین انسانی تخلیق بھی ہے۔ انسان نے محض دانتوں کے بیچ رکھے پارہ لحم کو وائلن کے تاروں کی نفیس لرزش جیسی مرتب حرکت کی مدد سے سپاٹ حیوانی آواز کو معنی ہی نہیں دیا، آوازوں کی اس جلترنگ کو بغیر غلطی کئے گرامر کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنا بھی سیکھا اور پھر اس سے بڑا کارنامہ یہ کہ کاسہ سر میں جنم لینے والے خیالات کو کسی رکاوٹ کے بغیر زبان

Read more

آشفتہ سری کے موسم میں عرفان صدیقی کی غزل – بہ کلک شاعر

  مکرمی عرفان صدیقی کو غداری کے ایک موہوم مقدمے سے ابھی نجات ملی ہے. ان پر الزام تھا کہ لاہور کی ایک مجلس میں "کسی” کی تقریر سنتے ہوئے پائے گئے۔ پراچین ہندوستان میں وید سننے پر شودروں کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ ریاست مدینہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ لیکن صدیقی صاحب اپنی روش سے ٹلنے والے نہیں۔ رتن ناتھ سرشار کے خوجی کی زبان میں، "واللہ ہے، ہٹ کے پکے ہیں، باز نہیں

Read more

بلریا گنج سے جنت البقیع تک

اعظم گڑھ (بھارت) سے مدینۃ النبیﷺ تک پھیلی ایک مُشکبو کہانی کا آخری باب بھی تمام ہوا۔ کٹر ہندو خاندان کا بیٹا ’’بانکے رام‘‘ اپنے عہد کا سب سے بڑا محدث بن کر ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی کے نام سے وہاں چلا گیا جہاں ہم سب کو جانا ہے۔ ’’بلریا گنج‘‘ کی مٹی، جاودانی رفعتوں سے ہم کنار ہو کر جنت البقیع کی کہکشاں میں جذب ہو گئی۔ پندرہ برس پہلے لکھا گیا اپنا کالم ’’گنگا سے زمزم تک‘‘ میرے

Read more

چیف جسٹس کے مور پنکھ اور فریم والی تصویر کی اصل کہانی

جسٹس (ر) ارشاد حسن خان کے پہلے جوابی کالم کا آغاز بڑا زوردار تھا، میرے بارے میں فرمایا ’’محترم‘‘ کالم نگار تاریخ لکھ رہے ہیں یہ پروا کیے بغیر کہ تاریخ کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں یا اپنے قارئین کو غلط معلومات دے رہے ہیں۔ میں نے اِن کے دونوں کالم نہایت غور سے ایک سے زیادہ بار پڑھے۔ کاش وہ کسی ایک بھی خلافِ حقیقت بات یا تاریخی غلطی کی نشاندہی کر دیتے۔ میں نے تو صرف

Read more

’جمہوریت کی آخری نشانی‘ اور آزاد عدلیہ کی ’ضرورت‘ شناس فعالیت

صدر محمد رفیق تارڑ کو ’’جمہوریت کی آخری نشانی‘‘ خود جنرل پرویز مشرف نے قرار دیا تھا۔ ابتدائے عشق کی ایک دو بےتکلف محفلوں میں جنرل صاحب نے صدر تارڑ سے کہا ’’سر صحافیوں کے شوشوں پر نہ جایا کریں۔ آپ ’جمہوریت کی آخری نشانی‘ ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہمیں سفارتی محاذ پر بڑی مدد ملتی ہے۔ آپ کو ہم کہیں نہیں جانے دینگے‘‘۔ ایک دن اپنے دو رفقاء کی موجودگی میں جب جنرل مشرف نے تیسری بار صدر

Read more

مشرف کی حلف برداری پر جسٹس ارشاد حسن خان نے کیا پھڈا ڈال دیا؟

ایوان صدر ”جمہوریت کی آخری نشانی“ کے آسیب سے پاک کر دیا گیا تو ساری توجہ جنرل پرویز مشرف کی رسم تاج پوشی پر مرکوز ہو گئی۔ میں نے پہلی بار پانچویں منزل پر کتوں کو بھی دیکھا جن کی باگیں اہلکار تھامے ہوئے تھے اور وہ کونوں کھدروں میں لمبی تھوتھنیاں آگے بڑھائے کچھ سونگھتے پھر رہے تھے۔

سیکورٹی کے ایسے سخت انتظامات تھے جیسے آج پہلی بار کوئی صدر اس ایوان میں داخل ہو رہا ہو۔ میں پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی کے کمرے میں جا بیٹھا۔ فیکس پر ایک فرمان موصول ہوا۔

اس کا سرنامہ تھا ”چیف ایگزیکٹیو کا آرڈر نمبر 3 مجریہ 2001 ء“ اس کا اہم ترین حصہ تھا: ”خود کو حاصل تمام تر اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف ایگزیکٹیو بصد مسرت و انبساط اس فرمان کا اجرا کرتا ہے کہ کسی بھی وجہ سے صدر مملکت کا عہدہ خالی ہو جانے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف ایگزیکٹیو، اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کا صدر بن جائے گا“ ۔

Read more

سید زادی کا کنگن اور واجپائی کی مبارکباد

14جون 2001کو، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمود، ساڑھے آٹھ بجے شب، صدر محمد رفیق تارڑ کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے گفتگو وہیں سے شروع کی جہاں گزشتہ شب ٹوٹی تھی۔ ’’سر بےحد ندامت ہے۔ سخت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے…‘‘ صدر نے اُنہیں یہیں ٹوک دیا۔ بولے، کل بھی میں یہی سنتا رہا ہوں۔ آج بھی آپ نے آتے ہی شرمندگی کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ جب کربلا میں قیامت

Read more

جب صدر رفیق تارڑ نے جرنیلوں کو استعفیٰ دینے سے انکار کیا

فائل میں سجی سمری اور منسلک آرڈیننس کا موضوع صدرِ مملکت کی تنخواہ، پنشن اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ تھا۔ یہ ایک طویل فہرست تھی جس میں درج نہایت ہی اشتہا انگیز مراعات و سہولیات کا تعلق صدرِ مملکت کی فراغت کے بعد سے تھا۔ صدر کا رویہ بے لچک تھا، طارق عزیز سے ملاقات سے قبل انہوں نے ہم سے اس فائل پر بات کرتے ہوئے کہا تھا۔ ان لوگوں نے مجھے گھر بھیجنے کی ٹھان ہی لی

Read more

19برس پہلے: اس پراسرار فائل میں کیا تھا؟

صورتحال یہ تھی کہ صدر تارڑ کی فراغت اور ان کے منصب پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لینے کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کا کیمپ رسمی طور پر سب اچھا کی خبر دے رہا تھا۔ 21 اپریل 2001 کو عمان کے بادشاہ سلطان قابوس کے استقبالیہ گارڈ آف آنر کے لئے جنرل مشرف کچھ لمحے پہلے آ گئے۔ پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور میں باہر ہی کھڑے تھے، جنرل صاحب پریس پہ برسنے لگے ’’بھلا یہ کوئی موقع ہے

Read more

ڈاکٹر قدیر خان نے کیا راز فاش کر دیا؟

17اگست 1988 کے بعد 12 اکتوبر 1999 کا خوانِ نعمت گیارہ برس کی تشنگی بجھا چکا تھا۔ وزیر اعظم اپنی حکومت سمیت لقمہ تر بن چکا تھا۔ اگلے برس 2000 کے آغاز میں خوئے شکار نے انگڑائی لی تو اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے لئے پی سی او کا ہانکا لگایا گیا۔ چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت متعدد خودسر ججوں کا لہو دلوں کو گرما گیا۔ اب 2001 گزرا جا رہا تھا اور شکار گاہ سونی پڑی تھی۔

Read more

عزیزم وجاہت مسعود کی گمراہ خیالی اور ’شفاف آئینی سیاست‘

وجاہت بھائی! آپ کا کالم پڑھا، "زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ"۔ آپ کی تحریر دل پذیر کا نخچیر ہوں۔ خوبصورت تحریر، پر کشش، شوخ رنگ، زرق برق لباس جیسی ہوتی ہے، جس کی چکا چوند کسی بھی بزعم خویش حسینہ کے خد و خال چھپا لیتی ہے اور شاید اس آتش بازی کا مدعا بھی یہی ہوتا ہے۔ آپ کا معاملہ دوسرا ہے۔ شعر و ادب اور تاریخ و تہذیب کی چاشنی چڑھی تحریر، اس عہدِ بے حرف

Read more

آئینہ شکنی

وطنِ عزیز میں ’’آئین شکنی‘‘ تو مانوس و معروف اصطلاح ہے لیکن ’’آئینہ شکنی‘‘ اپنا ٹھوس وجود رکھنے کے باوجود ابھی تک کسی سیاسی یا سماجی اصطلاح میں نہیں ڈھل سکی۔ آئین شکنی کو ہمارے دستور میں جرمِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے جسے عرفِ عام میں غداری کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ جرم بہ تکرار ہوتا رہا ہے لیکن کسی آئین شکن کو ملامتی یا علامتی سزا نہیں دی جا سکی۔ پرویز مشرف کے بارے میں ایک خصوصی

Read more

فواد حسن فواد کی پیش بینی اور میرے واہمے

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں بالعموم لوگ اپنی سوچ اور پسند کے مطابق کسی شخص کا خاکہ تیار کرتے، اس میں اپنے ذوقِ نظر کے مطابق رنگ بھرتے، اس کی تصویر کو ایک مخصوص چوکھٹے میں جڑتے اور پھر نفرتوں کے کباڑ خانے میں پھینک دیتے یا محبتوں کے نگار خانے میں سجا لیتے ہیں۔ بڑے عہدوں تک رسائی پا لینے یا نام بنا لینے والوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ ان کی جانچ پَرکھ

Read more

فواد حسن فوادؔ ۔۔۔ کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

فواد حسن فواد کبھی صرف فواد تھا۔ ایک دبلا پتلا دھان پان سا لڑکا جو ہاکی اور کرکٹ میں جُتا رہتا تھا۔ 14 جنوری کو وہ ساٹھ برس کا ہوا تو لاہور کے کیمپ جیل میں تھا۔ اُس دن وہ ہم سب گھر والوں کو بہت یاد آیا۔ وہ کوئی نصف صدی سے ہمارے گھر کا فرد ہی تھا۔ میری بیگم، جو ہر نماز اور تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد اُس کے لیے دعا کرتی تھی، چونک کر بولی ”ساٹھ

Read more