میسی کا خواب
جاڑے کی بارش تمام گاؤں والوں کو گھروں میں محصور کیے ہوئے تھی۔ کوئی باہر نکلتا تو کھانستا ہوا واپس آتا۔ بارش ہڈیاں صاف کر چھوڑتی۔ سرد ہوا سینہ باندھ دیتی۔ کیچڑ غریب غربوں کی طرح پاؤں پکڑ لیتی۔ میسی کی مرغیاں ظہر کے ساتھ ہی صحن کے پیپل میں جا دبکی تھیں۔ اندھیرا عصر ہوتے ہی اتر آیا تھا۔ میسی نے سارا دن دروازے کے پاس رکھی اپنی چوکی پر بیٹھے بیٹھے ابا کی باتیں سننے، اماں کی گھوریاں
Read more
