باون پتے اور بھابھی
پنجاب کے تھڑے روایات، ثقافت اور خبر کا ذریعہ رہے ہیں۔ آج بھی دیہات میں موجود کسی پیپل کی گھنی چھاؤں کے نیچے بیٹھے حقا کشی کرتے پینڈ کے طاقتور ویلے، سیانے تاش کے باوں پتے تقسیم کرتے ہوئے۔ سیاست، مذہب اور وارث شاہ کو یاد کرنا نہیں بولتے۔ ”ماں دایا خصما اے پتے پھینٹے نی“ کہنے کے بعد جونہی پتوں کی تقسیم ہوتی ہے، وہیں سے سیاست شروع۔ بھابھی ٹھولا کھیل ہے بھی کچھ ایسا ہی کسی کے ہاتھ
Read more
