آصف فرخی: میرے دوست
یہ سن چوراسی یا پچاسی کا واقعہ ہے۔ میری طالب علمی کے طویل ترین دور کا ابتدائی زمانہ ہے۔ مجھے جرمنی آئے ہوئے شاید تین یا چار سال ہی گزرے ہوں۔ ایک دن مجھے میری یونیورسٹی کے کچھ سنیئر طلبا نے بتایا کہ ایک نوجوان طالب علم آیا ہے، کراچی سے تم اس سے مل لو۔ میں نے بخوشی ان سے ملنے کا عندیہ دے دیا۔ یوں آصف فرخی سے میری پہلی ملاقات ہافن پلٹز کے ہاسٹل میں ایک کھانے
Read more

