منٹو کا بشن سنگھ

لیونارڈود ا ونسی (Leonardo Da vinci) کی شخصیت کے متعلق پڑھنے سے اس کی ذات سے متعلق پراسراریت کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتی ہے۔ اس کا بنایا ہوا مونالیزا کا پورٹریٹ چودھویں صدی کے اٹلی میں نسوانی جمالیات کے رجحان جاننے میں مدد دیتا ہے۔ کسی فن پارے کے عمرانی و نفسیاتی تجزیے سے اس فنکار کی شخصیت کے متعلق کچھ اصولوں کا استخراج کرنا، اس کے فن کی تفہیم میں آسانی دیتا ہے۔ نفسیاتی تنقیدکے ذریعے کسی ادبی تخلیق میں موجودکردار، واقعات اور دیگر جزئیات کے مطالعے سے تخلیق کار کی نفسی اساس کی دریافت اور تخلیقی صلاحیت کا بہتر اندازہ ممکن ہوتا ہے۔ جدید نفسیات کی روشنی میں ”لاشعور“ کے دخل نے فنکاروں کے طریقہ اظہار میں تبدیلی پیدا کردی ہے۔ سگمنڈ فرائڈکے نظریہ لا شعور اور ژونگ کے بمطابق اجتماعی لاشعور (collective unconciousness) کی روشنی میں افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا مطالعہ سعادت حسن منٹو کے فن کی تفہیم میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔

Read more

حبیب جالب کی ’’مشیر‘ ‘

حبیب جالب صاحب جب ترنم کے ساتھ نظم پڑھتے تو سارے مجمع پر سحر طاری ہو جاتا ، یہ موسیقی کا بھی اپنا اعجاز تھا اور شاعری کی بھی بدولت تھا ۔ حبیب جالب سٹیج پہ آ ئے اور یہ نظم پڑھنے لگے کہ ، ـ ’’میں نے اس سے یہ کہا یہ جو دس…

Read more

سلطان باہو کا ’’ہو‘‘

کسی بھی لفظ کے معانی و مطالب کے علاوہ اس لفظ کا صوتی آہنگ اور اس میں موجود موسیقیت اس لفظ کی اثر آفرینی کا تعین کرتے ہیں ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض الفاظ میں پا ئی جا نے والی نغمگی ان الفاظ کے معنی پہ غالب آجاتی ہے۔صوفیا ء کی شاعری…

Read more

سچ کا المیہ

انسان کو اگر خدا پیٹ کے دھندوں میں الجھنے نہ دیتا اور مخلوق کے لئے اوراس کے اہل وعیال کے پیٹ بھڑنے کے لئے من و سلوی بہم پہنچا تا تو انسانیت کی ایک بالکل نئی تصور عیاں ہونی تھی، ایک نیا جہاں آباد ہونا تھا جہاں علم صرف داخلی ذات کی بازیابی اور خارجی…

Read more
––>