انتہائی سیاسی رویے اور سہولت کا ایکٹو ازم

وطن عزیز میں ہر شخص انتہا کے ممبر پر براجمان ہے، ہر ایک کا ”سچ“ وہی ہے جو اس کی انتہائی سیاسی پوزیشن یا مذہبی فکر کو سوٹ کرتا ہے۔ ادھر کوئی قومی سانحہ ہوتا ہے اور ادھر رویوں کی یہ دراڑیں سوشل میڈیا پر منہ چڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔ اعتدال نہ رکھنے کے باعث حق بات کرتے ہوئے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے یا دوبارہ سوچنا نہ پڑتا ہے کہ آپ کے سپورٹر اور فالورز کیا سوچیں گے۔ جب آپ انتہائی پوزیشن پر الفاظ کے ذریعے یا اعمال کے زور پر جا بیٹھتے ہیں تو اکثر آپ گفتگو یا پراسس میں شمولیت کے اہل نہیں رہتے۔

Read more