ہیرو کون ہوتا ہے

ہمیں بچپن میں بتایا گیا تھا کہ خاکی وردی میں ملبوس، کڑکتی دھوپ اور کڑاکے کی سردی میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجی جوان ہیرو ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ ملک کے لیے قربانی کے جذبے سے ہمہ تن سرشار ہوتے ہیں۔ اس بات میں رتی بھر شک کی بھی گنجائش باقی نہیں۔ بعد ازاں کرکٹ کے کھلاڑی ہمارے ہیرو ہوتے ہیں۔ پھر جیسے جیسے شعور و جوانی کی بلندیوں کی طرف پرواز بھرتے ہیں تو فلموں اور ڈراموں کے فرضی

Read more

ڈسپلن اور ہم سب

کشتی اور چپو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کشتی کو چلانے کے لیے چپو نہ ہو تو اس کا کنارے لگنا مشکل ہے۔ اسٹیشن پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ٹرین پٹڑی سے نہ اترے۔ ٔ گھوڑے کو لگام ڈالی جاتی ہیں کہیں وہ غلط سمت کو نہ ہو لے۔ اندھے کے ہاتھ میں لاٹھی ہو تو ٹھوکر لگنے کا احتمال نہیں رہتا۔

مندرجہ بالا مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے جسے نظم و ضبط یا ڈسپلن کہتے ہیں۔ سمندر میں چپو کشتی کا نظم برقرار رکھتا ہے۔ پٹڑی ٹرین کو اور لگام

Read more

رنگوں کا سراب

عموماً ہمارے تخیل کی دنیا میں رنگوں کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ محض نیلا، پیلا، سبز یا لال ہونے تک محدود ہے حالانکہ رنگوں کا ایک جہاں اور بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رنگوں کی یہ دنیا ہمہ وقت ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے لیکن اس کا ادراک و فہم تجسس سے مزین لوگوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ رنگوں کی یہ دنیا کیا ہے اور عام رنگوں سے کس طرح مختلف ہے یہ جاننے اور سمجھنے کی لیے ضروری ہے اس رنگ برنگی دنیا کا رخت سفر باندھا جائے۔

مثال کے طور پر رنگوں کا تعلق دھوکے سے بھی ہوتا ہے۔ جب سیاستدان عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں وہ بھی تو رنگ ہوتا ہے۔ کچھ رنگ الفت و شادمانی کے بھی ہوتے ہیں۔ دلہے کی آنکھوں میں لگا سیاہ سرمہ اور دلہن کے ہاتھ کی مہندی بھی تو رنگ ہوتا ہے۔ کچھ رنگ علامتی ہوتے ہیں۔ وکیل کا کالا کوٹ، ڈاکٹر کا سفید چغہ، قلی کی لال قمیض، سپاہیوں کی خاکی وردی، افسر شاہی کی ٹائی، وڈیرے کی پگ، مزدور کا صافہ، جج کا ترازو اور تاجر کی تکھڑی کا بھی تو رنگ ہوتا ہے۔

Read more