1977 کا مارشل لا: بھٹو حکومت کے خاتمے کو امریکی سفارت خانہ کیسے دیکھ رہا تھا؟

امریکہ اور پاکستان کے بنتے، بگڑتے تعلقات کی ہماری آج کی کہانی ڈی کلاسیفائیڈ یا افشا کیے گئے ان ٹیلی گرامز، ایرگرامز(خطوط) اور پیغامات پر مبنی ہے جن کا تبادلہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت کے درمیان پاکستانی تاریخ کے اہم ترین برسوں میں سے ایک، 1977 میں ہوا۔

Read more

ہم جو درخت غریب ہیں!

تب ابھی جھولے پڑنے کو باغ میسر تھے۔ تب ابھی ٹاہلیاں پیار کی باتوں کی گواہ ہوتی تھیں۔ تب ابھی موسم روٹھے نہیں تھے۔ تب ابھی بارشیں مہرباں تھیں اور سورج بھی نامہرباں نہ تھا۔ تب ابھی راتیں تاروں بھری تھیں۔ تب ابھی جگنوجلتی بجھتی روشنی سے من آنگن منور کرتے تھے۔ تب ابھی بچوں کو پیچھے بھاگنے کو تتلیاں نظر نواز ہوتی تھیں۔ تب ابھی زندگی دھواں دھواں نہیں ہوئی تھی۔ تب ابھی درختوں کی جگہ کنکریٹ اگنا شروع

Read more

تلاش اک آشیانہ کی

سیمینار ختم ہوتے ہی شرکا میں سے ایک صاحب منتظمین کی جانب لپکے۔ دھیرے سے پوچھا کہ آیا اسٹیج کے پس منظر کے طور پر استعمال ہونے والی فلیکس انھیں مل سکتی ہے۔ منتظمین کیلئے سیمینارکے بعد ان کی اہمیت ختم ہو چکی تھی مگر پھر بھی ان میں سے ایک نے ان کی طلب کی وجہ جاننے کیلئے سوال کیا کہ وہ کیا کریں گے اس کا۔ وہ صاحب بولے کہ وہ بیوی ، دو بچوں اور بوڑھی ماں

Read more

ایوب دربدر: پاکستان کا ہم جولی

محمد ایوب لاہور کے مال روڈ پر دھلی دھلائی، سفید رنگ، قدیم مگر شان دار باوا ڈنگا سنگھ بلڈنگ میں رہتے ہیں۔ مگر ان سے ملنا ہو تو گرد، استعمال شدہ سرنجوں اورسگریٹ کے ٹکڑوں کے درمیاں خود سے بیگانہ سوئے، میلے چکٹ، نشے کے شکار افرادسے بچتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ حنا رنگ بال، سفید شلوارقمیص پہنے، طویل قامت ایوب سیڑھیوں اور ایک لمبی راہ داری سے گزرکرایک خستہ حال کمرے کی جانب اشارہ کرکے اسے اپنا گھر

Read more

کیا فرق پڑتا ہے؟

کیا فرق پڑتا ہے کہہ کرعبداللہ نے میری دکھتی رگ چھیڑ دی تھی۔ میرے ان دوست کا استدلال یہ تھا کہ لفظ کے غلط املا یا استعمال سے کچھ فرق نہیں پڑتا، بات سمجھ میں آگئی تو بس ٹھیک ہے۔ بحث جو کمرے سے شروع ہوئی تھی سڑک تک آن پہنچی تھی۔ مجھے کہیں جانا تھا ،سو رکشا کے لئے ہاتھ ہلانا شروع کردیا۔ اتنے میں ایک رکشا تھمتا تھمتا چل دیا،نہ جانے کیوں؟۔ مگراس کا نہ رکنا میرے لئے

Read more