ہم جنسیت جرم نہیں


 Dr. Alfred Kinsey. (Photo by Arthur Siegel/The LIFE Images Collection)

وولفنڈن رپورٹ گزشتہ 64 برس میں انفرادی شہری آزادیوں کے بارے میں تشکیل پانے والے تمام جدید قوانین کی اساس کہلاتی ہے۔ اسی رپورٹ کی روشنی میں 1967ء میں برطانیہ میں ہم جنسیت کو مجرمانہ افعال کی فہرست سے خارج کیا گیا۔ دراصل وولفنڈن رپورٹ قانون کے ارتقا میں دو بنیادی اصولوں کا بیان ہے۔ اول یہ کہ قانون کو جرم سے غرض ہے، گناہ سے نہیں۔ قانون کا مقصد شہریوں کو گناہ سے روکنا یا نیکی کی ترغیب دینا نہیں بلکہ معاشرے سے جرائم کو ختم کرنا ہے۔ گناہ اور نیکی کے تصورات مذہب کی اقلیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان پر بات کرنا مذہبی پیشواﺅں کا کام ہے۔ جدید ریاست عقائد کی بنیاد پر شہریوں میں امتیاز نہیں برتتی۔ ایک مذہب کے پیروکاروں کے لیے جو افعال گناہ کے ذیل میں آتے ہیں عین ممکن ہے دوسرے مذہب کے پیروکاروں میں انہیں گناہ نہ سمجھا جاتا ہو۔ چنانچہ ریاست کا کام قوانین کی مدد سے جرم روکنا ہے۔ گناہ کے تعین کا کام فرد کے ضمیر پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دوسرا اصول جرم کی تعریف سے تعلق رکھتا ہے۔ جدید قانونی لغت میں صرف وہی فعل جرم قرار پاتا ہے جس سے کسی دوسرے شہری کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔ دو بالغ شہری باہم رضامندی سے اپنی خلوت میں جو افعال کرتے ہیں ان سے کسی تیسرے شہری کو جسمانی، ذہنی یا مالی اعتبار سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں۔

ہم جنسیت کے بارے میں مختلف ادوار اور مختلف معاشروں میں مختلف رویے رائج رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں ایسے معاشرے بھی موجود رہے ہیں جہاں ہم جنسیت پر سخت ترین سزائیں دی جاتی تھیں۔ ایسے معاشرے بھی انسانی تاریخ کا حصہ ہیں جہاں ہم جنسیت کو معمولات زندگی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے معاشروں کی بھی کمی نہیں رہی جہاں ہم جنسیت کو کھلے بندوں تحفظ دینے کی بجائے محض نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ 19 ویں صدی کے اواخر میں نفسیات کی سائنس کے فروغ سے ہم جنسیت کا مطالعہ بھی شروع ہوا۔ ابتدائی طور پر ماہرین نفسیات ہم جنسیت کو کج روی قرار دیتے تھے۔ 1952ء میں امریکا کے ادارہ برائے نفسیاتی امراض نے اپنے نصاب میں ہم جنسیت کو ایک مرض قرار دیا۔ تاہم 1973ء وہ پہلا برس تھا جب اسی ادارے نے اپنے نصاب پر نظرثانی کرتے ہوئے ہم جنسیت کو انسانی امراض کی فہرست سے خارج کیا۔

اس دوران عمرانیاتی مطالعوں سے واضح ہوا کہ تمام معاشروں میں ایک خاص تعداد میں ہم جنس پرست پائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں 1953ء میں شائع ہونے والی کنسے رپورٹ (Kinsey Report) نے اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر کنسے نے پہلی مرتبہ سائنسی انداز میں واضح کیا کہ کسی بھی انسانی معاشرے میں دو سے لے کر دس فیصد تک ہم جنس پرست موجود ہوتے ہیں۔ اس میں صنف کی قید نہیں۔ یہ افراد بیک وقت اپنے ہم جنسوں اور جنس مخالف کی طرف میلان بھی رکھ سکتے ہیں اور کلی طور پر صرف اپنے ہم جنسوں میں کشش بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کم عمری سے لے کر بلوغت کے بعد تک کسی بھی مرحلے میں اپنی جنسی ترجیحات دریافت کر سکتے ہیں۔ یہ افراد اپنی جنسی ترجیحات پر اسی طرح شعوری اختیار نہیں رکھتے جس طرح انسان اپنے خدوخال، جلد کے رنگ اور بالوں کی ساخت پر اختیار نہیں رکھتے۔

مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کو مجرمانہ میلانات کا حامل سمجھنا غلط ہے۔ اوسط درجے کے انسانوں کی طرح ہم جنس پرستوں کے باہم تعلقات میں بھی بہت تنوع پایا جاتا ہے۔ یہ لوگ پائیدار تعلقات اور ذمہ دارانہ معاشرتی کردار کے پوری طرح اہل ہیں۔ البتہ سماجی امتیاز، عدم تحفظ اور اخلاقی احتساب کے مسلسل خوف کے باعث ان کے نفسیاتی رویوں میں پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ جن کا تدارک جسمانی سزاﺅں سے نہیں بلکہ انہیں معمول کی زندگی کے مواقع فراہم کرنے سے کیا جا سکتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک عام خیال تھا کہ علاج معالجے کی مدد سے ہم جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کو معمول کی جنسی زندگی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ ہم جنسیت کے حامل افراد کی جنسی ترجیحات کو طبی علاج معالجے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسا کرنے سے ان میں دوہری شخصیت اور اپنی ذات پر عدم اعتماد جیسے رجحانات پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان افراد کو صحت مند لیکن مختلف شناخت کے حامل شہری سمجھا جائے جو اپنی تخلیقی، پیداواری، علمی اور تمدنی صلاحیتوں سے انسانی معاشرے میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے ہم جنسیت کو فروغ نہیں دیا بلکہ صرف یہ کیا کہ قانون کی ازسرنو تعریف متعین کر کے حقیقی جرم یعنی کسی شہری کی رضامندی کے بغیر اس سے جنسی فعل نیز ایسے کم عمر افراد کے ساتھ جنسی افعال کو جرم قرار دیا ہے جس سے معاشرے میں ضرر کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح عدالت نے لاکھوں انسانوں کو ناجائز ذہنی دباﺅ، معاشرتی امتیاز، احساس عدم تحفظ اور غیر ضروری مجرمانہ ذہنیت سے نجات حاصل کرنے کا راستہ فراہم کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہم جنس پسند افراد کی تعداد 25 لاکھ ہے۔ بھارت کے قومی لا کمیشن نے 2000ء میں قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 377 ختم کرنے کی سفارش کی تھی تاہم مختلف سیاسی اور معاشرتی وجوہ کی بنا پر اس سفارش پر اب تک عمل نہیں ہو سکا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایک خوشگوار پہلو یہ تھا کہ اس سے جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی ایک ضروری بحث شروع ہوئی۔ بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تعلیم یافتہ متوسط طبقے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اصولی طور پر قانون کا لفظ کسی معاشرے کو راتوں رات تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تاہم اگر معاشرتی ارتقا موزوں نقطے پر پہنچ چکا ہو تو قانون میں مناسب تبدیلی معاشرتی تبدیلی کی رفتار بڑھا دیتی ہے۔ بھارت میں وشوا ہندو پریشد، راشٹریہ سیوک سنگھ، اکالی دل اور دوسری بہت سی انتہا پسند مذہبی تنظیمیں موجود ہیں تاہم بھارتی معاشرے میں جنم لینے والی تبدیلیوں کا اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جامعہ ملیہ دہلی کے طالب علموں نے کچھ برس قبل اپنی درس گاہ میں ایک ڈرامے کے ذریعے ہم جنس پرستوں کے لیے یکساں شہری، قانونی، معاشی اور سیاسی حقوق کا مطالبہ کیا تھا۔ جامعہ ملیہ کی بنیاد مولانا محمد علی جوہر نے رکھی تھی اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے جید عالم برس ہا برس تک اس درس گاہ کے مہتمم رہے تھے۔ جامعہ ملیہ دہلی ہندوستان کے تعلیمی نقشے پر مضبوط مذہبی شناخت رکھتی ہے۔ اگر اس درس گاہ کے طالب علم لڑکے اور لڑکیاں ہم جنسیت کے بارے میں عمومی رویوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو جان لینا چاہیے کہ اس خطے کے باشندے تمدنی طور پر ایک نئے عہد میں داخل ہونے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3