ستیہ جیت رے: آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی فلم ہدایتکار


2 مئی 1921 ء تا 23 اپریل 1992ء

فلمی سیٹ پہ کام میں مصروف، منہ میں سگار دبائے، سوچتی آنکھیں، نپے تلے انداز میں گفتگو کرتے چھ فٹ پانچ انچ کے باوقار ستیہ جیت رے ایک متاثر کن شخصیت کے مالک، منفرد فلم ساز اور ہدایتکار تھے۔ جن کی کامیابی اور فنی قامت کا رمز انسانی دوستی، جراتمندی، روایت شکنی، فن شناسی اور سادگی میں پوشیدہ ہے۔ وہ پہلے ہندوستانی فلم ڈائریکٹر ہیں جنہیں 1991 میں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا جو انہوں نے اپنی موت سے ایک ماہ قبل کلکتہ کے ہسپتال میں تیس مارچ 1992 میں وصول کیا اور اپنے پیغام میں اسے فلم کے شعبہ میں ”اپنے کیرئیر کی اعلی ترین کامیابی“ قرار دیا۔

ستیہ جیت رے سے میرا پہلا تعارف ان کی واحد اردو فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“ سے ہوا۔ جس نے مجھے مجبور کیا کہ ان کی مزید فلمیں ( فیچر اور دستاویزی ) بھی دیکھی جائیں۔ جو بنیادی طور پہ بنگالی اور کچھ انگریزی میں ہیں۔ پھر جب ان کے باکمال فن کے رموزکی گرہیں کھولیں تو محسوس ہوا کہ انہوں نے تو ایک زندگی میں کئی زندگیاں بسر کی ہیں۔ وہ محض فلم ہدایتکار ہی نہیں فکشن رائٹر، پبلشر، مصور، خطاط، گرافک ڈیزائنر اور فلم نقاد بھی تھے۔ ان کے کام کی بنیاد پہ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہندوستانی فلم کی تاریخ ستیہ جیت رے کے تذکرے کے بغیر ایسے ہی ہو گی جیسے دلکش اورخوش نما گل و بو سے عاری کوئی ویران و اجاڑ باغ۔

ستیہ جیت رے 2 مئی 1921ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ فن اور ادب ان کا ورثہ تھا۔ ان کے دادا اوپندرا کشور رے ادیب، مصور اور موسیقار تھے تو والد سوکو مار رے کہانی نویس اور شاعر تھے۔ ان کا کام بالخصوص بچوں کے ادب کے حوالے سے اہم تھا۔ تاہم دادا پیدائش سے قبل انتقال کر گئے اور والد ان کی پیدائش کے دو سال بعد۔ اس طرح سے جت رے کی پرورش کی ذمہ داری والدہ اور ننھیال نے اٹھائی۔

کلکتہ میں پلنے والے ستیہ جیت رے کو ابتدا ہی سے فلم، مغربی موسیقی اور شطرنج کھیلنے کا جنون تھا۔ باوجود کمرشل ڈیزائننگ میں دلچسپی کے انہوں نے 1940ء میں سائنس اور اکنامکس جیسے مضامین میں ڈگری لی جو ان کے میلانِ طبیعت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ تاہم ان کی زندگی کا اہم موڑ وہ تھا جب انہوں نے اپنی والدہ کے کہنے پہ رابندر ناتھ ٹیگور کی قائم ویشوا بھارتی یونیورسٹی (شانتی نکتن ) میں تعلیم کا ارادہ کیا۔ جس نے مغربی مزاج ستیہ جیت رے کو ہندوستانی آرٹ اور دیہاتی ماحول کو سمجھنے اور اس میں بسنے کا نادر موقع دیا۔

اس تجربہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا اور واپس آکر مشرقی ادب بالخصوص ٹیگور کا گہرا مطالعہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں میں مجھے ٹیگور کے ادب کا رنگ نظر آیا ہے۔ گویا ٹیگور کے افسانوی اور شاعرانہ تخیل کو ستیہ جیت نے فلمی پوشاک اڑھا دی ہو۔ وہی دیہات کی پرسکوت اور قدرتی مناظر سے مرصع فضا، ڈھلتی شام کے دھندلکوں میں لپٹی خاموش پراسراریت، جھینگروں کا شور، پرسکوت ندی پہ ڈولتے پتوں کا رقص، دیہاتیوں کی معصوم خوشیاں اور غربت سے منسلک مسائل، اس کے علاوہ معیشت کی جنگ میں پستے شہروں میں رہنے والوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل۔ غرض عام انسانی زندگی سے جڑنے اور سماج کی نبض پہ ہاتھ رکھنے کا ہنر ہی انہیں بہت سے دوسرے فنکاروں سے ممتاز کرتا ہے۔

ستیہ جیت رے کا نوجوانی کا زمانہ سامراجی تسلط، آزادی کی جدوجہد اور بنگال کے قحط اور غربت کا تھا۔ گو 1943  میں گرافک ڈیزائنر کے طور پر کام کر رہے تھے مگر فلم کا خواب سجائے وہ فلم کے فن سے متعلق کتابیں پڑھتے رہتے۔ دورانِ ملازمت 1950 میں ملازمت کی جانب سے انہیں بحری سفر کے دوران لندن جانے کا موقع ملا۔ اس سولہ دن کے بحری سفر میں وہ اپنی مخصوص ڈائری میں نوٹ بناتے رہے۔ ان کا مصمم ارادہ اپنی پہلی فلم ”پتھر پنچلی“ بنانے کا تھا۔

اپنے لندن قیام کے چھ ماہ کے عرصے میں انہوں نے سو فلمیں دیکھ ڈالیں اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا کہ ان کی فلم کی بنیاد حقیقی زندگی پہ رکھی جائے گی۔ ساتھ ہی شوٹنگ اسٹوڈیو سے زیادہ حقیقی مقامات پہ ہو گی۔ جس زمانے میں ہندوستان میں روایتی پیار ومحبت کی غیر حقیقی داستانوں پہ مبنی فلموں اور ان میں کئی گانوں کا مصالحہ بھر کر ڈبوں میں فروخت کیا جاتا ہو، علمیت اور متانت اور گہری بصیرت رکھنے والے انتیس ( 29 ) سالہ رے کا فیصلہ جراتمندی اور روایت شکنی کی مثال تھا۔

ان کی پہلی فلم 1955 میں مکمل ہوئی تاہم انہوں نے اس فلم کے کردار ”اپو“ کی زندگی پہ مزید دو فلمیں بنانے کا فیصلہ بھی کیا۔ جس کو۔ ”اپو ٹرالوجی“ کا نام دیا گیا۔ یہ منفرد تجربہ تھا۔ یہ ستیہ جیت کی خوش نصیبی تھی کہ ”نیویارک میوزیم آف ماڈرن آرٹ“ نے فلم کے محض چند اسٹلز دیکھ کر ہی انہیں ”ورلڈ پریمیم“ کی پیش کش کر دی۔ اس کے علاوہ موسیقار روی شنکر نے صرف آدھی فلم دیکھنے کے بعد ہی گیارہ گھنٹے لگاتار اس فلم کی موسیقی ترتیب دی۔ ”پتھر پنچلی“ ایک تجرباتی فلم ہونے کے باوجود انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔

اس فلم اور ان کی بعد کی فلموں نے نہ صرف رے کو مغرب مں روشناس کروایا بلکہ فلموں کے توسط سے مشرق اور ان کے مسائل اور ثقافت سے بھی آگہی ہوئی۔ پہلی فلم کو ملکی اور غیر ملکی گیارہ ایوارڈز ملے۔ ”پتھر پنچلی“ کی کامیابی کے بعد انہوں نے کبھی مڑ کے نہیں دیکھا اور کم و بیش چالیس سال تک فلمی صنعت کے بے تاج بادشاہ رہے۔ انہوں نے ان سالوں میں چھتیس 36 فیچر اور دستاویزی فلمیں بنائیں۔ حقیقی زندگی پہ بنیاد رکھی جانے والی فلموں میں محض دکھ اور المیہ ہی نہیں خوشیاں اور طنز و مزاح بھی ہے۔

بعض مختصرفلمیں سائنس فکشن پر مبنی ہیں۔ انہوں نے موضوعات کو محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پہ اپنی فلموں کی بنیاد رکھی۔ ان کے مرکزی کرداروں میں اچھائیاں ہی نہیں انسانی کمزوریاں بھی ہیں۔ کوئی باقاعدہ پیغام دینے کی بجائے عام انسانوں کے مسائل کو ان کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی تناظر میں پیش کیا تاکہ دنیا کو اس آئینہ میں جھانکنے اور سوچنے کاموقع ملے۔ کیونکہ تبدیلی کا عمل کسی فردِ واحد کے بجائے اجتماعی امر ہے۔

Satyajit Ray with Ravi Sankar recording for Pather Panchali

ان کی نظر میں فلم کے مکالمے سب سے اہم ہوتے ہیں اور انہیں کردار اور سچویشن کے لحاظ سے بالکل درست ہونا چاہیے۔ ان کی واحد ہندی فلم شطرنج کے کھلاڑی کامیاب ترین فلموں میں سے تھی جس کے مکالمے انہوں نے بنگالی میں لکھے۔ اور ہندی اردومیں ترجمہ ہوئے۔ جو آسان کام نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے محض بنگالی اورانگریزی زبان میں ہی فلمیں بنائیں۔

گو ٹیگور اور ستیہ جیت رے کے درمیان ایک نسل کا تفاوت ہے مگر ان دونوں کے مابین حیرت انگیز حد تک فکری اور شخصی مماثلت ہے۔ اس کی وجہ محض بنگالی زبان یا مشترکہ خطہ نہیں جہاں انہوں نے جنم لیا، بلکہ دونوں کا براہمو سماج سے تعلق تھا۔ جو روایتی ہندو مذہب سے بغاوت کی جدید اور بہترین شکل تھی۔ جس نے بنگال کی نشاۃالثانیہ اور سماجی انقلاب کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلابی سوچ کا اثر ان دونوں عظیم فنکاروں کے کام پہ یکساں نظر آتا ہے۔ ٹیگور کی انقلابی فکر اور ہنر نے انہیں نوبل پرائز کا حقدار قرار دیا۔ ستیہ جیت نے ٹیگور کے ادبی کام کو فلموں میں ڈھال کر اپنا خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وہ اپنی فلم ”چارولتا“ کو اپنی بہترین فلم قرار دیتے ہیں۔ جو ٹیگور کی کہانی پہ بنیاد ہے۔

ان کی انقلابی سوچ کی عکاس چند فلموں کے نام دیوی 1960، پتھر پنجلی 1955، چارولتا 1964، جلسہ گھر 1958، دی بگ سٹی 1963، وغیرہ ہیں۔

انہوں نے بچوں کے لئے بھی فلمیں بنائیں بلکہ رسالوں کو بھی شائع کیا، کتابوں کے سرورق بنائے، نئے کردار تخلیق کیے۔ دستاویزی فلمیں بنائیں اور اپنے کام کے معیار کو حتی المقدور قائم رکھنے کی کوشش کی۔ اور کسی صورت بھی انسانوں سے اپنا ربط نہیں منقطع کیا۔ بقول ان کے انہوں نے ”پیسے تو کمائے مگر اپنا طرزِ زندگی سادہ رکھا۔ پیسوں سے محبت نہیں کی۔ اپنی ضروریات محدود کر کے کتابیں اور فلم کے ریکارڈ خریدے۔ “ اپنی انسان دوستی، علمیت، جراتمندی اور محنت کی وجہ سے آج بھی ان کا نام دنیا کے عظیم ترین فلم ڈائریکٹرز کی فہرست میں نمایاں ہے۔ تبھی تو جاپان کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر آکیرا کروساوا نے کہا۔ ”جس نے ستیہ جیت رے کا سینما نہیں دیکھا وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ چاند اور سورج سے عاری دنیا میں رہا۔

(ستیہ جیت رے نے اپنی فنی خدمات پر بہت سے قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے۔ بعد ازوفات بھی وہ بھارت کے سب سے بڑے سول اعزاز۔ ”بھارت رتن“ کے حقدار ٹھہرے۔ )

۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں