ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے گلاب اور دہشت کا مذبح خانہ
’ جیسے حکم بیگم ساب جی۔ ‘ ریاض نے سر جھکا دیا۔ اور جانے لگا تو رعنا پھر بولی۔ ’اور ہاں اگر تم چاہو تو اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے آنا۔ وہ کچن میں میرا ہاتھ بٹا دے گی۔ کچھ پیسے اسے بھی مل جائیں گے۔ ٹھیک؟ ‘
’ جی بیگم ساب۔ ‘ ریاض بولا۔
’ اور کیا نام ہے تمہاری بیوی کا؟ ‘ رعنا نے پوچھا۔
’ سکینہ ہے جی میری بھابھی کا نام۔ سکینہ‘ ریاض سے پہلے نواز بولا جو ریاض کے مقابلے میں زیادہ خوش دکھائی دیتا تھا۔
’ٹھیک ہے ریاض۔ جیسے بیگم صاحبہ نے کہا ہے کل صبح آجانا تم اور سکینہ دونوں‘ ۔ میں نے ان سے کہا ’اب جاؤ تم لوگ۔ ‘ وہ دونوں سلام کر کے رخصت ہو گئے۔
اگلے روز بعد دوپہر جب میں گھر لوٹا تو پورچ میں گاڑی سے اترتے ہوئے میری نظر سامنے والے گھاس کے قطعے پر پڑ گئی۔ فتح کے ساتھ ریاض بھی کھرپا لے کر گوڈی کرنے میں مصروف تھا اور پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے مجھے دیکھا تو اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا۔ میں نے سر کی ہلکی سی جنبش سے اسے جواب دیا اور اندر چلا گیا۔ کھانے کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے یونہی میری نظر کچن میں پڑ گئی تو میں نے سکینہ کو پہلی بار دیکھا۔ وہ گندمی رنگت لمبے قد اور دبلے سراپے کی مالک ایک خوش شکل عورت تھی۔ علاقے کی عام عورتوں کے بر عکس اس کا چہرہ صاف تھا۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھی لیکن میری موجودگی کا احساس ہوتے ہی اس نے گھونگٹ نکال لیا اور ایک طرف کو ہو گئی۔ یوں میں زیادہ دیر تک اسے نہ دیکھ سکا۔
چند دن نہ گزرے تھے کہ ریاض اور سکینہ ہمارے گھر کا گویا حصہ بن گئے۔ ریاض ایک کم گو نرم خو اور تابعدار انسان تھا۔ رعنا دونوں میاں بیوی کے لئے سراپا ستائش تھی۔ اس کی زبانی کئی دلچسپ باتوں کا انکشاف ہوا۔ مثلا یہ کہ ریاض نے نواز کو اپنے بچوں کی طرح پالا تھا اور نواز بھی بڑے بھائی پر جان چھڑکتا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ریاض اور سکینہ کی پسند کی شادی تھی۔ محبت کی شادی اس علاقے کے سنگین قبائلی رسم و رواج کے تناظر میں ایک انوکھی بات تھی خاص طور پر اس لیے کہ دونوں دو مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے۔
رعنا کا کہنا تھا کہ ریاض سکینہ کو ٹوٹ کر چاہتا تھا اور اس نے دونوں خاندانوں کی بھر پور مخالفت کے باوجود سکینہ کو حاصل کیا تھا۔ وہ اتنا ہی محبت کرنے والا باپ بھی تھا اور اپنے تینوں بچوں کو بے حد لاڈ پیار کرتا تھا۔ جس دن سے اس کی نوکری گئی تھی وہ راتوں کو جاگ پڑتا تھا اور سوئے ہوئے بچوں کو چوم کر روتا تھا۔
میں نے ریاض کی نوکری کے لیے ادھر ادھر کئی جگہ کہہ رکھا تھا۔ بالآخر کچھ ہفتوں کے انتظار کے بعد ریاض کی نوکری کا بندو بست ہو گیا۔ یہ ایک اخبار کے دفتر میں سٹاف رپورٹرز وین کے ڈرائیور کی نوکری تھی۔ اخبار متصلہ ضلع سے ایک مقامی زبان میں شائع ہوتا تھا اور کافی پڑھا جاتا تھا۔ وہ تنخواہ بھی مناسب دے رہے تھے۔ میں نے نواز کو بتایا تو اس کی خوشی کے مارے باچھیں کھل گئیں۔ وہ مجھ سے اجازت لے کر ڈی سی ہاوس کی طرف بھاگا۔ کچھ دیر بعد دونوں بھائی میرے دفتر میں موجود تھے۔ اجازت لے کر اندر آئے تو خوشی کے مارے دونوں بھائیوں کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ میں اگر نہ روکتا تو ریاض محمد تو شاید میرے پیروں میں گر جاتا۔
’ کوئی بات نہیں ریاض محمد۔ کوئی بات نہیں۔ ‘ میں اس کے کندھے پر ہاتھ کر اسے تسلی دی۔ ’اب جاؤ شاباش ابھی بس پکڑو اور ڈیوٹی پر پہنچو۔ ‘
’ جی ساب جی۔ ‘ ریاض اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔
’ اور ہاں اپنا کام ٹھیک سے کرنا۔ مجھے کوئی شکایت نہ آئے ہر گز۔ ‘ میں نے فہمائش کے انداز میں اسے بتا دیا۔
’ نئیں ساب جی۔ کبی نہیں۔ آپ نے امارے واسطے بوت مہربانی کیا۔ اللہ آپ کا بھلا کرے۔ کبی شکایت نئیں ہوئے گی آپ کو۔ ‘ وہ متواتر میرے پیروں کی طرف لپک رہا تھا اور میں اسے روک رہا تھا۔
’ چلو شاباش بس۔ بس ٹھیک ہے ریاض۔ اب جاؤ تم دونوں شاباش۔ ‘
’ دونوں بھائی مسلسل میرا شکریہ ادا کرتے اور سلام کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
اس دن کے بعد میری ریاض محمد سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی۔ لیکن نواز کی زبانی اس کی خیریت کا علم ہوتا رہتا تھا۔ اس کے مطابق ریاض اپنی نوکری ڈٹ کر کر رہا تھا اور وہ اور اس کا مختصر خاندان اب خوش باش تھے۔
صبح و شام کے تسلسل میں میری ڈپٹی کمشنری کا ایک سال کب مکمل ہوا مجھے خود پتہ نہیں چلا۔ میرے افسران بالا میری کار کردگی سے بہت مطمئن اور خوش تھے خصوصا اس بات پر کہ عام رواج کے برعکس میں نے یہاں سے تبادلے کے لیے کوئی سفارش نہیں کروائی تھی۔ مجھے سالانہ رپورٹ بھی بہت اعلی درجے کی دی گئی تھی مع ایک عدد تعریفی خط کے۔ میں نہال تھا۔
دفتر کے اندر تو سب اچھا چل رہا تھا لیکن دفتر کے باہر سب اچھا نہیں چل رہا تھا۔
میں نے پچھلے کچھ عرصے میں اپنے ماحول میں ایک غیر محسوس تبدیلی کا ظہور ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ اپنے پیشرو افسروں کے برعکس میں بند کمروں میں بیٹھ کر افسری کا بول بالا کرنے کا قائل نہیں تھا بلکہ عوام الناس کے ساتھ قریبی رابطے استوار رکھتا تھا۔ اس لئے مجھے اس تبدیلی کا ادراک اپنے افسران بالا سے کہیں پہلے ہو گیا تھا۔
میں نے محسوس کیا تھا کہ میرے ارد گرد کے ماحول میں ہنستے مسکراتے مطمئن چہرے تیزی سے ناپید ہو رہے تھے اور ان کی جگہ بل دار پیشانیاں سکڑے ہوئے دہانے اور جھریوں میں قید آنکھیں لے رہی تھیں۔ لوگ باگ بہت سنجیدہ بلکہ کھوئے کھوئے سے رہتے تھے۔ وہ کسی انجانی فکر میں مبتلا تھے یا پھر کوئی نامعلوم خوف ان کو اندر سے جکڑے ہوئے تھا۔ کوئی ایسا خوف کہ وہ جس کا اظہار بھی نہیں کر پا رہے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

