ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے گلاب اور دہشت کا مذبح خانہ


سکینہ کی بائیں آنکھ ایک طاقتور گھونسہ لگنے سے سیاہ ہو چکی تھی۔ ایک گہرا نیلا نشان داہنی کنپٹی پر ابھر رہا تھا۔ منہ سے بھی خون کی ایک پتلی لکیر نکل کر گردن پر بہہ رہی تھی۔ سکینہ کی یہ حالت دیکھ کر مجھے شاک لگا اور رعنا کی بھی آنکھیں نم ہو گئیں۔  سکینہ کے بچے شدید سراسیمہ تھے اوراپنی ماں کو پکارتے ہوئے رو رہے تھے۔  ریاض کہیں فرار ہو چکا تھا۔ میں نے سکینہ کو ہسپتال منتقل کروایا اور پولیس کو ریاض کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔  نواز اور ریاض کے بچوں کو تسلی دے کر میں اور رعنا وہاں سے آ گئے۔

ریاض کو قریبی بس اڈے سے گرفتار کر لیا گیا جہاں وہ دوسرے صوبے کو جانے والی بس میں سوار ہو رہا تھا۔ جب اسے ہتھکڑیاں لگا کر میری عدالت میں پیش کیا گیا تو میں نے عرصے کے بعد اسے دوبارہ قریب سے دیکھا۔ یہ وہ ریاض ہر گز نہیں تھا جو سال بھر پہلے میرے سامنے ہاتھ باندھے ہوئے نوکری کی درخواست لے کر آیا تھا۔ اس ریاض کی آنکھیں کرنجی تھیں اور ان میں وحشت کے لال ڈورے تھے۔  وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑا رہا تھا اور میری طرف دیکھنے کے بجائے دائیں بائیں کچھ تلاش کر رہا تھا۔

 ’کیوں کیا تم نے ایسا ریاض؟ ‘ میں نے اس سے سیدھا سوال کیا۔

وہ کچھ دیر چپ رہا پھر اٹک اٹک کر بولا۔  ’ساب میرے کو غصہ آ گیا تھا اپنی گھر والی پر۔ ‘

 ’ کس بات کا غصہ؟

 ’ ساب وہ زبان چلاتی ہے۔  ہر وقت خرچے کی بات کرتی ہے۔ ‘

اور اس پر تم نے اس کا یہ حال کر دیا؟

 ’ ساب مافی دے دیو میرے کو۔ آگے سے نئیں ہوئے گا۔ ‘

میں نے مزید قانونی کارروائی کے لئے پولیس کو ہدیات جاری کیں اور وہ اسے لے کر وہاں سے چلے گئے۔  سکینہ کی زندگی بچ گئی۔ وہ کچھ دن ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد گھر آ گئی اور پھر جیسے مجھے خدشہ تھا اسی نے رعنا کے ذریعے مجھے ریاض کی رہائی کی سفارش کی۔ چنانچہ میں نے خود ہی ایک وکیل کا بندو بست کر کے ریاض کو ضمانت پر رہا کروا دیا۔ لیکن وہ پھر میرے پاس نہیں آیا۔

خوش قسمتی سے آخری بم دھماکے کے بعد میرے ضلع میں کچھ مہینے سکون کے گزرے۔  غالبا خود کش بمباروں کا تازہ دم سکواڈ ابھی زیر تربیت تھا۔ لیکن انہوں نے بہرحال وقفے کو اتنا لمبا نہیں ہونے دیا کہ ہمارے پرانے زخم پوری طرح سل جاتے۔  اس بار نشانہ ایک اقلیتی برادری کی عبادت گاہ تھی۔ جب تک میں پولیس، میڈیکل ٹیم اور دیگر انتظامی افسروں کے ساتھ جائے واردات پر پہنچا علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع بھی کر دیں تھیں۔  یہاں کے منظر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ لیکن جو دیکھ کر میں ششدر رہ گیا تھا وہ یہ تھا کہ مدد کرنے والوں میں ریاض محمد بھی شامل تھا۔ اس کے کپڑے زخمیوں کے خون اور اس کے اپنے پسینے میں شرابور تھے لیکن وہ انتہائی جاں فشانی سے اور گرد و پیش سے بیگانہ اپنی بھاگ دوڑ میں مصروف تھا۔

یا الہی یہ کیا بوالعجبی ہے؟

اس واقعے کے بعد میرے دل میں ریاض کے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا تجسس اور بڑھ گیا تھا۔ چنانچہ میں نے اس اخبار کے مالک سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا کہ جہاں میں نے ریاض کو ملازمت دلوائی تھی۔ اسے ڈھونڈنا زیادہ مشکل ثابت نہ ہوا۔ پہلے تو وہ سر سر کرتا رہا پھر دبی زبان سے استفسار کیا کہ ایک ڈی سی ایک ڈرائیور میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا تھا۔ میں نے نواز کو لے کر کچھ بات بنائی تو وہ مطمئن ہو گیا اور مدد کرنے پر آمادہ ہو گیا۔

کچھ دن بعد میں دفتر میں بیٹھا فائلیں دیکھ رہا تھا کہ میرا پرائیویٹ سیکرٹری میرے کمرے میں آیا اور ایک ملاقاتی کارڈ میز پر رکھ کر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد میری نظر پڑی تو لکھا تھا:

اے۔  بی۔ خاکوانی

چیف کرائمز رپورٹر روزنامہ فلاں

میں نے بلوا بھیجا۔ خاکوانی صاحب پچاس پچپن کے بھاری وجود اور سیاہ رنگت کے آدمی تھے۔  آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک تھی۔ ایک پرانا سفاری سوٹ پہنے تھے۔

میں نے انہیں بٹھایا۔ چائے منگوائی۔ رسمی دعا سلام کے بعد میں اپنے ذہن میں کلبلاتے ہوئے سوالات کو زیادہ دیر تک نہ دبا سکا۔

 ’ جی تو خاکوانی صاحب؟ ‘ میں نے چائے کی پیالی اپنے ہونٹوں سے الگ کر تے ہوئے اپنا سوال دھر دیا۔

 ’ سر مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ شاید ہمارے سابقہ ڈرائیور ریاض محمد کے متعلق کچھ جاننا چاہ رہے تھے‘

 ’جی بالکل صحیح فرمایا آپ نے۔ ‘

 ’ریاض میرے ہی انڈر تھا سر لیکن کوئی بڑا ہی عجیب کیس ہے اس کا بھی۔ مجھے کرایمز رپورٹنگ کرتے ہوئے تیس سال گزر گئے ہیں۔  لیکن ایسا کبھی دیکھا نہ سنا۔ ‘

 ’ کیا مطلب۔ کچھ تفصیل بتائیں گے آپ‘

 ’ سر ریاض پہلے جب ہمارے پاس آیا تو بڑا مناسب اور شریف آدمی تھا۔ ہنس مکھ، تابعدار اور گھل مل جانے والا۔ ڈیوٹی بہت اچھی کرتا تھا۔ اور ہم سب اس سے بڑے خوش تھے۔ ‘

 ’ پھر کیا ہوا؟ ‘

 ’ پھر سر بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلے تو دور دراز علاقوں میں ہوتے تھے پھر ہمارے ارد گرد بھی ہونے لگ گئے۔  ہمیں اکثر بڑی جلدی میں جانا ہوتا تھا۔ ریاض گاڑی نکالتا اور ہم بھاگم بھاگ وہاں پہنچتے۔  کرائم سین پر صرف رپورٹر جاتا ہے ڈرائیورز کو اجازت نہیں ہوتی۔ ان کو ہم ایک فاصلے پر چھوڑ کر آتے ہیں۔

لیکن پھر ایک دن ایسا ہوا کہ، وہ جو جامع مسجد کے اندر خود کش دھماکا ہوا تھا نا، آپ کو یاد ہو گا۔ ؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7