ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے گلاب اور دہشت کا مذبح خانہ


 ’ جی بالکل یاد ہے آپ بتائیں۔ ‘

 ’ میں اور میرا سٹاف یہ انسیڈنٹ کور کر رہے تھے۔  پتہ نہیں ریاض کو کیا سوجھی کہ وہ وین سے نکل کر مسجد کے اندر آ گیا۔ سر بڑا ہی کوئی بھیانک سین تھا اندر۔ نمازیوں کی کٹی ادھڑی ہوئی لاشیں، اعضا، خون اور خون کے اوپر تیرتے ہوئے قرآن پاک کے شہید ہوئے ورقے۔  استغفر اللہ۔ ریاض تو یہ منظر دیکھ کر شاید اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا۔ وہ اس منظر کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا تھا اور ایک ہی بات دہراتا جاتا تھا۔ ‘ اللہ تیرے گھر میں بھی۔ اللہ تیرے گھر میں بھی ’۔ ہم لوگوں نے اسے پکڑ کر قابو کیا اور زبردستی واپس وین میں بند کر کے آئے‘ ۔

میں دم بخود سن رہا تھا۔ خاکوانی بولتا گیا۔

 ’سر جی اس کے بعد تو دھماکے اتنے زیادہ ہونے لگ گئے کہ ہمیں گنتی بھول گئی۔ آج یہاں تو کل وہاں اور پرسوں کہیں اور۔ ہمیں ریاض پر نظر رکھنے کا کوئی ہوش نہ رہا۔ پتہ نہیں اس نے اس طرح کے کتنے سین دیکھ لیے۔  لیکن ہمیں اندازہ اس وقت ہوا کہ جب ہمیں ریاض کے بی ہیویر کے متعلق شکایتیں ملنے لگیں۔  وہ بہت چڑ چڑا اور بد مزاج ہو گیا تھا۔ بات نہیں سنتا تھا اور تلخ کلامی بھی کرتا تھا۔ میں نے بلا کر پیار سے سمجھایا بھی لیکن اسے کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر وہ بغیر اطلاع کے ڈیوٹی سے غائب رہنے لگا۔ اس طرح کوئی کرے گا تو نوکری کتنے دن چلے گی اس کی۔ آخر مجھے مالکوں کو رپورٹ کرنی پڑی۔ انہوں نے ریاض کو نوکری سے فارغ کر دیا۔ اب کافی عرصے سے اس سے سامنا نہیں ہوا۔ ‘

 ’ اوہ‘ میں صرف ایک سرد آہ بھر سکا۔

 ’ اور سر اس سے بھی زیادہ کچھ عجیب باتیں سننے میں آئی ہیں ریاض کے متعلق۔ واللہ اعلم کس حد تک درست ہیں۔ ‘

 ’ وہ کیا؟ ‘

 ’ اس کے کچھ جاننے والوں نے بتایا ہے کہ ریاض راتوں کو ادھر ادھر گھومتا رہتا ہے۔  مسجدوں میں، بس اڈے پر ریلوے سٹیشن پر۔ کبھی کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں گھس جاتا ہے اور پوچھتا ہے۔ ‘ آج کوئی دھماکا نہیں ہوا کیا؟ کوئی لاشیں کوئی زخمی نہیں آئے آج؟ ’

میں بالکل پتھر ہو چکا تھا۔ خاکوانی بھی چپ تھا۔ کئی لمحات تک ہم دونوں یونہی سر جھکائے بیٹھے رہے۔  آخر خاکوانی اٹھ کھڑا ہوا۔

 ’اچھا سر جی اب مجھے اجازت دیں۔  واپس اپنی ڈیوٹی پر پہنچوں۔  امید ہے کہ جو آپ جاننا چاہتے تھے وہ آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا۔ ‘

 ’ جی بالکل‘ میں بھی اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور خاکوانی سے الوداعی مصافحہ کیا ’آپ کے آنے کا بہت شکریہ۔ اپنے مالکان کا بھی شکریہ ادا کر دیجئے گا میری طرف سے۔ ‘

 ’ آپ کا بھی شکریہ سر۔ ‘ اس نے کہا۔  ’ایک گذارش ہے۔ ‘

 ’جی فرمائیے۔ ‘

کہ اگرآپ کو کہیں ریاض مل جائے تو اسے ضرور کسی دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل کروا دیجیے گا۔ شاید اس طرح وہ بہتر ہو جائے۔  اللہ آپ کو اجر دے گا۔  ’

 ’ جی ضرور۔ کوشش کریں گے۔  اور آپ کو اس کے بارے میں اگرکوئی اطلاع ملے تو میرے ساتھ ضرور شئیر کیجئے گا۔ ‘

 ’ جی سر بالکل کروں گا۔ ‘ اس نے جانے کے لیے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔  پھر رکا اور پلٹا۔  ’مجھے ابھی یاد آ گیا سر۔ جو آخری اطلاع مجھے ریاض محمد کے بارے میں ملی تھی وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسری نوکری ڈھونڈ لی ہے۔ ‘

 ’ اچھا۔ وہ کہاں؟ ‘ میں نے اچنبھے سے پوچھا۔

 ’ مذبح خانے میں جہاں گائیں کٹتی ہیں۔  ’

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7