ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے گلاب اور دہشت کا مذبح خانہ


جب جائے حادثہ سے تمام شہدا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا تھا تو میں وہاں پہنچا۔ کچھ گھنٹے پہلے کا ہنستا بستا بارونق بازار اب میدان وغا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ لیکن یہاں کوئی فاتح تھا نہ کوئی مفتوح۔ صرف خون باقی رہ گیا تھا۔ تازہ سرخ جیتا جیتا انسانی خون جو اس نیم گنجے قطعہ زمین پر جا بجا پھیلا ہوا تھا۔ ایک جگہ پر اکٹھے ہونے والے خون نے ایک بڑے تالاب کی شکل اختیار کر لی تھی۔ یہ تالاب مرکز سے سرخ تھا لیکن کناروں پر سے جم کر ایک سیاہی مائل جیلی کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ خون کے ان تالابوں کے بیچ میں خریداروں کی باقیات پڑی رہ گئیں تھیں۔  تھیلے، ٹوکریاں، بچوں کے جوتے، زنانہ چپلیں، پرس، جلے ہوئے ملبوس کے چیتھڑے اور ان سب کے بیچ بکھری ہوئی سبزیاں اور پھل۔

اس رات دیر گئے جب میں گھر لوٹا تو رعنا بے تحاشا میرے سینے سے لپٹ گئی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئیں تھی۔ شاید وہ دن بھر روتی رہی تھی۔ میری قمیض دل کے قریب جہاں رعنا کی آنکھیں لگی تھیں گیلی ہو رہی تھی۔ رعنا بھی وہی تھی۔ اس کے گداز بدن کے ہوش ربا نشیب و فراز بھی وہی تھے۔  لیکن میں وہاں نہیں تھا۔ اسے باہوں میں لے کر میرے جذبات میں کوئی تموج نہیں آیا۔ یہ ہماری شادی شدہ زندگی کی پہلی رات تھی جو ہم نے ایک ہی بستر پر الگ الگ گذاری۔

ہر اگلی صبح ایک نیا دن ہوتا ہے۔  میں وقت پر بیدار ہوا اور تیار ہو کر وقت پر دفتر پہنچ گیا۔ فضا سوگ وار تھی۔ لوگوں کے چہرے اترے ہوئے تھے اور وہ شدت غم سے خاموش تھے۔  کچھ ساتھی جن کے اعزا شہید یا زخمی تھے دفتر میں نہیں آ سکے تھے۔  باقی حاضری پوری تھی۔ میں نے کچھ دفتری امور کو ملتوی کیا اور پہلے ہسپتال اور پھر کچھ شہدا کے گھروں کا دورہ کیا۔ ان کو پرسہ اور تسلی دینے کے لئے۔  اگلا دن معمول کا تھا۔ اور اس سے آگے اور بھی زیادہ معمولی۔ زندگی پھر سے پٹری پر آ گئی تھی۔

میں نے مقامی پولیس کی مدد سے اور دستیاب وسائل کے مطابق ضلع کے لیے ایک سکیورٹی پلان تیار کیا اور اس کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھا لیے تھے۔  کچھ ہفتے امن سے گزرے۔  لیکن میرے بدترین خدشات جلد ہی حقیقت کا روپ اختیار کر گئے۔

اس بار نشانہ ریلوے سٹیشن تھا۔

اس بار جب مجھے اطلاع ملی تو میں دفتر ہی میں تھا۔ لیکن پہلے واقعے کے برعکس میں فورا دفتر سے نہیں نکلا بلکہ فون پر ہی زیادہ تر ہدایات جاری کر دیں۔  شام کے قریب جب میں جائے وقوع پر پہنچا تو منظر کچھ مانوس سا لگا۔ وہی خون کے چھوٹے بڑے تالاب تھے وہی مسافروں کا اجڑا اور بکھرا ہوا سامان اور وہی دیواروں اور ستونوں پر لہو کے چھینٹے۔  لیکن عجیب طور پر مجھے اس بار وہ شاک نہیں لگا جو پہلے واقعے میں لگا تھا۔ بلکہ میرا رد عمل اس بار کافی حد تک میکانکی تھا۔ میں نے ماتحتوں کو ضروری ہدایات جاری کیں اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔

کچھ ماہ بعد شہر کے مرکزی بازار میں سے گزرتے ہوئے میری نظر ایک دکان کے باہر کھڑے ہوئے کچھ لوگوں پر پڑی جو آپس میں ہنس بول رہے تھے۔  ان میں سے ایک یقینا ریاض محمد تھا۔

میں نے نواز سے کہا۔  ’ارے نواز یہ تو تمہارا بھائی کھڑا تھا۔ ریاض محمد‘

 ’ جی ساب‘ نواز نے دھیمی آواز میں مختصر جواب دیا۔

 ’ یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟ نوکری پر کیوں نہیں گیا؟ ‘

نواز کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا۔  ’ساب بھائی ریاض اب ادر ای ہوتا اے۔  بولتا ہے نوکری چھوڑ دیا۔ ‘

مجھے یہ سن کر تعجب بھی ہوا اور کچھ غصہ بھی آیا۔  ’نوکری چھوڑ دی کیا مطلب؟ اتنی مشکل سے تو لے کر دی تھی نوکری اسے؟ تم نے پوچھا نہیں کیوں؟ ‘

نواز نے گاڑی ڈی سی ہاوس کی طرف موڑتے ہوئے کہا۔  ’ابھی ہم کیا بولے ساب۔ بھائی کچھ بتاتا نہیں۔  میں پوچھا تو گرمی کھا گیا۔ مجھے مارنے کو دوڑا۔ بولتا ہے تیرے کو کیا۔ ‘

 ’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو نواز۔ ریاض تو ایسا نہیں تھا۔ ‘

 ’بھائی ریاض بالکل بدل گیا ہے ساب۔ کچھ پتہ نئیں کیا ہوا اسے۔  کچھ بتاتا بھی نئیں۔  میری بھابھی نے دم درود بھی کرائے پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ ‘ نواز نے افسردہ لہجے میں بتایا کہا۔

نواز کی باتیں میں نے سن تو لیں لیکن مجھے ہضم بالکل نہیں ہوئیں۔  میں نے طے کیا اس معاملے کا سراغ لگا کر چھوڑوں گا۔ اگلے دن میں نے بندہ بھیج کر ریاض کو دفتر بلوایا لیکن معلوم ہوا کہ وہ بغیر بتائے گھر سے غائب تھا۔

کچھ روز بعد کی بات ہے اتوار کی چھٹی کی وجہ سے میں ذرا دیر سے سو کر اٹھا۔ ابھی میں پلنگ کے نیچے سے اپنے چپل اٹھا رہا تھا کہ دوسرے کمرے میں پڑے فون کی گھنٹی بجی۔ رعنا نے فون اٹھایا۔

 ’ہاں نواز کیسے ہو؟ کیسے فون کیا صبح صبح۔ ‘ وہ کہہ رہی تھی۔

جواب میں نواز نے جو کہا اسے سن کر رعنا کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔

 ’ یہ تم کیا کہہ رہے ہو نواز؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ‘

اچھا اچھا تم فکر نہ کرو ہم ابھی پہنچتے ہیں۔  ’

 ’کیا ہوا رعنا؟ خیریت تو ہے؟ ‘ میں نے رعنا سے پوچھا۔

 ’ اتنی بھی خیریت نہیں ہے۔  ریاض نے سکینہ کو بری طرح پیٹا ہے۔  وہ بے ہوش ہے۔  ہمیں فورا پہنچنا چاہیے۔ ‘

میرے پیروں تلے سے زمیں نکل گئی۔ میں نے جیپ نکالی اور رعنا کو بٹھا کر روانہ ہو گیا۔ راستے میں وائرلیس پر پولیس اور دیگر عملے کو ہدایات جاری کیں۔  چنانچہ جب ہم نواز کی گلی میں پہنچے تو یہ لوگ پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔  ہمارے پیچھے پیچھے سول ہسپتال کی ایمبولینس بھی پہنچ گئی۔ گلی کے لوگ تماشا دیکھنے کے لیے چھتوں پر چڑھے ہوئے تھے۔  نواز باہرکھڑا تھا۔ وہ ہمیں گھر کے اندر لے گیا۔ سکینہ کو بان کی چارپائی پر ڈالا ہوا تھا اور محلے کی کچھ عورتیں اسے ہوش میں لانے اور پانی پلانے کی کوشش میں مصروف تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


صفحات: 1 2 3 4 5 6 7