محبت کیسے جیتی؟


”بس بھی کرو، اب تم جذباتی ہو رہے ہو، اور تم کیوں پردہ پوشی کر رہے ہو، اتنی موٹی موٹی تنخواہ ادا ہوتی ہیں ہمارے قیمتی ٹیکس سے، “

”بالکل ادا ہوتی ہیں، اور یہ آج سے نہیں ہو رہی، تم پیغمبری ادروار کا مطالعہ کر سکتی ہو، اور دوسری سب سے اہم بات جو عقل بھی تسلیم کرتی ہے کہ خالی بندوق اور خالی پیٹ کسی بھی صورت جنگ نہیں لڑی جاسکتی، میں برملا کہتا ہوں اور مجھے یہ بات کہتے کبھی کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ ہماری آرمی میں کھوتے بھرتی کیے جاتے ہیں جن کو بعد ازاں شیر بنایا جاتا ہے“

”کھوتے سے تمہارا کیا مطلب“

”کھوتے سے مراد گدھا، اور میرا تم سے سوال ہے کہ تنخواہ صرف فوجی کو اس کے کچھ ذاتی اور اپنے گھر کے اخراجات کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جہاں جان دینے کی بات ہو، وہ بھی اسی تنخواہ کے ایوض ہوتی ہے۔ “

”اگر ہر بار جان جاتی تو تم آج اس طرح قصیدے نہیں سنا رہے ہوتے۔ “

”بات تو تمہاری ٹھیک ہے، فوجی جان دینے کے لئے ہی تنخواہ لیتا ہے۔ لیکن اس بات کو مان بھی لیا جائے تو میرا تم سے یہ سوال ہے کہ فوجی کو بھرتی کرتے ہی گولی کیوں نہیں مار دی جاتی میں نے بھی اپنی نوکری کے دوران بہت بار موت کی آرزو کی کیوں کہ ہر لمحہ ہر وقت موت کو ذہن میں رکھ کر خود کو تیار کرتے رہنا ایک ذہنی کرب سے زیادہ کچھ نہیں، ہمیں پیسے جان دینے کہ ملتے لیکن کوئی ہمیں ان لمحات کے پیسے کیوں ادا نہیں کرتا جن میں ہمیں موت کو محسوس کرنا پڑتا ہے، اس احساس کی قیمت کیا ہے، تم ہی بتا دو۔ کیا یہ صرف چوکیداری ہے، اگر یہ چوکیداری ہے؟ اگر یہ چوکیداری ہے تو پھر میں اپنے لئے ملنے والی تنخواہ تف سے زیادہ کچھ نہیں سمجھوں گا۔

”تم ڈاکٹر کیوں نہیں بن گئے، ویسے بھی تو ہم دونوں ایک ہی کالج میں پڑھا کرتے تھے“

”ہاہاہا! ہاں مجھے یاد ہے سب یاد ہے، میں ان دنوں انتہائی بھونگا لڑکا ہوا کرتا تھا، اور ایک بار تو تمہیں محبت نامہ بھی لکھ بھیجا تھا، تم معترض ہو گئی تھی۔ لیکن میں آج بھی مشکور ہوں کہ تم نے میرے گھر شکوہ نہیں کیا۔ اگر تم ایسا کرتی تو میری صحت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے۔ “

”تم بتاؤ تم کتنا کما لیتی ہو“

”کما لیتی ہو سے کیا مطلب تمہارا! ، یہ پیغمبری پیشہ ہے، ہم ڈاکٹر نہ ہوں تو تمہارا کوئی حال نہ ہو، اور جہاں تک پیسوں کی بات ہے تو ہمیں بھی ایک فوجی کی طرح گھر چلانا ہوتا ہے۔ “

”ہاں گھر چلانے تک تو ٹھیک ہے لیکن تم ہی گزشتہ دنوں مجھے بتا چکی ہو۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم ہی نے ایک بار کہا تھا کہ دانتوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے پاس تو اپنے ذاتی جہاز ہوتے ہیں۔ اور تم ہر آدمی کو دیکھنے کے بدلے ہسپتال کو ملنے والی فیس کا چالیس فیصد کی حصہ دار ہو اگر یہ بات سچ ہے تو تم اکیلی ملک کے سب سے بڑے منسب پر فائز انسان سے کہیں زیادہ کما لیتی ہو، اور میں نے جہاں تک تمہارا معیار زندگی دیکھا اس سے میں با آسانی یہ کہہ سکتا ہوں۔

یا تو تم بہت کرپشن کرتی ہو یا پھر یہ پیشہ تمہارے لئے محض کاروبار ہے، کیوں کے خدمت کے ایوض اتنے ہی پیسے جائز بنتے ہیں جن سے شام کی لالی پھیلنے تک گزارہ ہوسکے۔ کیوں کہ مجھے مرشدﷺ کی خوبصورت بات یاد ہے دولت پر انسان کا صرف اتنا حق جس سے بس ضرورت پوری ہوسکے اور ضرورت صرف وقتی ہوتی ہے۔ میں تو آج بھی اس بات پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہوں میرے بنک اکاونٹ خالی ہیں، اور سب سے عمدہ بات جسے میں اپنی کل زندگی کا فخر مانتا ہوں وہ یہ کہ میرے گھر میں آج بھی پانی جمع کرنے کے واسطے پانی کا زمین دوز ٹینک نہیں موجود۔ اور آ ج بھی وہی سکوٹر ہے جو ہمارے والد محترم نے میری پیدائش سے چند ماہ پہلے بنا سود کے آسان اقساط پر خریدہ تھا۔ ”

جو بھی ہے تمہیں میں بچپن سے جانتی ہوں بہت ہی دل پھینک تھے،

”دل پھینک تو تھا لیکن میں نے آج دن تک پھر شادی کیوں نہیں، تم اگر اس مخمسے کو حل کر دو تو میں جانوں!

”مجھ پر ایسی کون سی آفت آن پڑی جو میں اپنا سارا کام چھوڑ کر تمہاری بتائی ہوئی پہیلی پر اپنا دماغ وقت اور انرجی کا ضیاع کرتی رہوں۔ “

”ہاں تم ٹھیک کہتی ہو، تم کیوں کر یہ سب کرو گی اور ویسے بھی یہ سب باتیں دل کی ہوتی ہیں، کاروباری حضرات کے بس کی بات ہی نہیں۔ “

”میں ڈاکٹر ہوں، مجھے مزید بحث میں نہیں پڑنا میں اب گھر جا رہی ہوں تم چاہو تو گھر جاؤ ورنہ اب یہ کینٹٰن والے تمہیں نکال باہر پھینکیں گے، آفیت جان کر میں بھی گھر کو چل دیا۔

اگلی صبح کینٹین میں اس کے داخلے کے بعد عام لوگوں سے ہٹ کر میں صرف دلشاد کی آنکھوں پر غور کر رہا تھا۔ جو ہمیشہ کی طرح مجھے تلاش رہیں تھیں، لیکن مجھے دیکھ کر تسلی کرنے کے بعد انجان رہنے کی اداکاری کا جو لطف میں نے اس کے نہ دیکھنے میں دیکھا، ایسا سرور مجھے پہلے کبھی میسر نہیں آ یا،

اچانک اس کے ٹیبل تھپ تھپانے پر میں نے بھی چونک جانے کی تھوڑی سی اداکاری کر ہی ڈالی۔

”تم ہمیشہ کی طرح یہیں ملتے ہو، کوئی اور کام نہیں کیا تمہارے پاس۔ “

”نہیں تو میں نے تمہیں بتایا تو میں ایک فارغ فوجی ہوں۔ “

”صرف فارغ نہیں بلکہ فارغ الوقت و دماغ بھی ہو آپ۔ “

”یہ جو آپ میرے لئے اتنے خلوص سے کبھی کبھی آپ استعمال کرتی ہیں یہ تکلف نہ کیا کریں۔ “

”اوہ! مجھے علم نہیں تھا کہ فوجی طنز بھی کرنا جانتے ہیں۔ “

”بالکل فوجی طنز بھی کرتے ہیں، اور اکثر مزاح بھی کرتے ہیں۔ میں اس کے ساتھ باتوں میں مصروف ہی تھا کہ اچانک ایک ادھیڑ عمر کا فرد چہرے پر سنگین تاثرات تھامے ہماری ٹیبل پر پہنچا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر صاحبہ یہ میری دل کی رپورٹ ہے۔ آپ دیکھ لیجیے مجھے ایک ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کہا ہے کہ مجھے دل کی بیماری ہے۔ “

”لیکن میں تو دانتوں کی ڈاکٹر ہوں میں کیسے دیکھ سکتی ہوں دل کی رپورٹ۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6