محبت کیسے جیتی؟
یا پھر پوچھو کسی ڈاکٹر سے جس نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ اور لامحدود سرمایہ اس علم و فن کو پیشہ بنانے میں صرف کر دیا،
اور کیا کہہ رہے تھے کہ تم نے میری محبت میں زندگی کا چرخہ کاٹا ہے، کیا تم نے میری شادی کے بعد کبھی جاننے کی کوشش کی ہے، کہ میں کس حال میں ہوں۔ میری شادی ناکام ہوئے پندرہ سال ہوگئے ہیں، لیکن میں نے اپنے سر پر دو بیٹیاں رکھ کر بھی تمہارا انتظار کیا، میں آج بھی اپنے ابا کے اسی پرانے گھر میں رہتی ہوں البتہ تم لوگوں نے اپنا گھر بیچ کر اگلی میں لے لیا ہے اور اس دن جو تم کہہ رہے تھے کہ تمہارے گھر پانی کا ٹینک نہیں ہے اور پرانی بائک رکھی ہے تو تم نے غور نہیں کیا میرے پاس بھی اپنے والد کی پرانی کار ہی ہے جس پر رنگ نیا ہے اور ہمارے گھر پانی کے زمین دوز ٹینک سے پانی رستہ ہے، جس کی وجہ سے ہم اسے خالی رکھتے ہیں کیوں کہ اس کی مرمت کا خرچہ میں برداشت نہیں کرسکتی میں اتنے دنوں سے ہسپتال میں تمہاری محبت میں ہی صرف ذاتی زندگی پر اتنی تنقید برداشت کرتی رہی۔
اور تمہارا مجھ پر تنقید کا حق کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے پندرہ سال ایمانداری سے تمہارے انتظار میں گزارے، معاشرے کی شدید تنقید کے باوجود تمہارا انتظار کیا جب کہ مجھے معلوم ہے، تم آج بھی ویسے ہی بونگے ہو، اور مجھے معلوم ہے تم اپنی نوکری کے دوران فلسفہ پڑھتے رہے ہو اسی وجہ سے تم دل پر اتنی گرفت پر بات کر رہے تھے، میں نے پندرہ سال تمہاری جاسوسی کی ہے تمہاری پچھلی گلی کے وحید انکل جو تمہاری کمانڈ میں فوجی تھے وہ مجھ سے دانتوں کا علاج کرواتے اکثر تمہاری ہر بات بتا دیا کرتے تھے، تم بہت آسانی سے کچھ بھی کہہ دیتے، لیکن میں تم سے صرف یہ کہوں گی، میں اور میرا گھرانہ جیسے جی رہا ہے، ایسے کوئی جی کر تو دکھائے۔ ”
کچن میں کھڑے دلشاد کے لئے چائے بناتے ہوئے یہ سب سن کر مجھ پر بجلیاں گر رہی تھیں۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے، یہ بات تو بالکل سچ تھی کہ میں نے کبھی پلٹ کر اس کے دل کا حال جاننے کی کوشش کی ہی نہیں تھی۔ مجھے احساس ہوگیا تھا کہ کالج کے دنوں میں غلطی میں نے ہی کی تھی۔ مشرقی طرز کے معاشرے میں ایک بار کے لکھے محبت نامے سے کسی کے دل میں امید تو جگائی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ جنونی معاشرے میں مرد کی محبت کے تلوار کے وار عورت کو بے تیغ ہوکر سنبھالنا ہوتا ہے۔ تو کیسے ایک بار کہنے پر دلشاد کیسے کوئی ردعمل دے سکتی تھی۔ یہ سب سوچتے ہوئے پلٹ کر چائے کا کپ دلشاد کو تھمانے لگا تو صرف میری نہیں اس کی بھی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ یہاں بھی صرف میں ہی غلط تھا کیوں کہ چائے بناتے ہوئے میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ صرف مجھے ہی درد ہو رہا ہے،
خاموشی سے چائے کی چسکیاں ایسا سرور دے رہی تھیں، جیسے میدان جنگ میں بغیر کسی نتیجے پر پہنچے دو سپاہی تھک کر بیٹھنے کے بعد ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔ اس کا غصہ ختم ہونے کہ بعد میں دیکھ رہا تھا کہ اس کے چہرے پر مسکان پھیل رہی تھی۔ کیوں کہ میرے چہرے پر ڈر کی وجہ سے رنگ آ جا رہے تھے۔ اور یقیناً وہ آج بھی مجھے بونگا ہی سمجھ رہی تھی۔ لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ میں نے اس کی محبت پا لی تھی۔
میری آنکھیں اب دوبارہ بہنا شروع ہو رہے تھے۔ کیوں کہ مجھے نصیب کی اس وڈیو گیم کی کبھی بھی سمجھ نہیں آئی کہ مجھے میری محبت سے اتنا وقت کیوں دور رکھا۔ جبکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، لیکن جو بھی تھا محبت کی اس تاریخی لڑائی آج پہلی بار ایسا ہوا کہ لڑنے والے فریق شدید مزاحمت کے بعد دونوں ہی جیت گئے۔

