محبت کیسے جیتی؟


”تم سگریٹ کیوں پی رہے ہو“

”اس کی بات سنتے ہی میں آنکھیں مچکا کر میں بولا کہ اس سے لڑکیاں متوجہ ہوتی ہیں، “

”لیکن مجھے تو تمہاری سگریٹ سے شدید الجھن ہو رہی ہے“

”تو تم بتاؤ سگریٹ پینے کا کیا نقصان ہے، جو تمہیں ناگوار گزر رہی ہے۔ “

” اس میں ناگواری کی بات ہو نہ ہو لیکن تم بیمار ہو جاؤ گے اور ایک دن موت نقینی ہو جائے گی“

”موت تو ویسے بھی ایک دن یقینی ہے باخدا، لیکن تم ڈاکٹر ہو تو میرا تم سے یہ سوال کہ بیماری کیا ہے“

” یہ بہت آسان سی بات ہے، تم سگریٹ پی رہے ہو اور اگر تم نے اسے مسلسل جاری رکھا تو تمہارے پھیپھڑے سڑ جائیں گے اور تم مارے جاؤ گے۔ “

”ہاں تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن میں اسے کسی بھی صورت بیماری نہیں سمجھتا“

”چلو تم بتا دو بیماری کیا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنا میں ایک ڈاکٹر ہوں تو اپنی بات مکمل دلیل سے پیش کرنا“

”تم دلیل کی قائل کیوں ہو، ؟ لیکن چلو! پھر بھی میں تمہیں کہتا ہوں کہ تمہیں اگر میری بات سمجھ نہ آئے تو تم اسے رد کر سکتی ہو بلکہ میں یہ کہوں گا کہ تم اسے پاوں تلے روند سکتی ہو، لفظ بیماری درحقیقت زندگی کا دوسرا نام ہے، تم نے کہا کہ سگریٹ پینے سے میرے پھیپھڑے سڑ جائیں گے اور موت واقع ہو جائے گی، ہاں تمہاری بات سولہ آنے کھری اور سچی لیکن میں اسے دانستہ طور پر کی جانے والی خودکشی سے تشبیح دیتا ہوں، بالکل ایسے ہی جیسے اتفاقیہ حادثہ جس میں جان چلی جائے، یا پھر میں کلہاڑی کے وار سے اپنی ٹانگ خود کاٹ لوں یہ اتفاقیہ حادثہ یا دانستہ طور پر خودکشی کہا جاسکتا ہے لیکن بیماری نہیں، بالکل ایسے ہی اور بھی بہت سے اعلانیہ اور اتفاقیہ حادثات جیسے گردے فیل ہو جانا یا پھر آج کل کچھ چیزیں بہت عام ہیں، جیسے دل کا اچانک رک جانا یا پھر شوگر لیکن یہ تمام حادثات ہیں، خواہ وہ اتفاقیہ ہوں یا اعلانیہ سگریٹ نوشی سے لیکن یہ کسی بھی صورت بیماری نہیں ہو سکتی بیماری خدا کی طرف سے ہوتی ہے، اس میں انسان کا کوئی چناؤ نہیں ہوتا درحقیقت میں بیماری اسے کہتا ہوں جب کسی زندگی کا وجود آپ کے جسم میں پروان چڑھنے لگتا ہے، پھر ہوتا کچھ یوں ہے کہ بیماری زندہ رہ سکتی ہے یا پھر آپ کیوں کہ دونوں زندگی کی جدوجہد میں آخری حد تک جانے کو تیار رہتے۔

” تم نے حادثے کی کافی لمبی دلیل دے دی میں ڈاکٹر ہوں لیکن چلو میں تمہاری اس بات کو قبول کر لیتی ہوں، میرے پاس وقت بہت مختصر ہے مجھے اپنے مریض کی دانتوں کی سرجری کرنے جانا ہے“

” اچھا اچھا میں بیماری پر مختصر دلائل دینے کی کوشش کرتا ہوں، مثال کے طور پر کسی مریض کو خونی سرطان کی شکایت ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض کو اس بات کا الہام اس وقت ہوتا ہے، جب کینسر کو قابو کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اور سو فیصد موت ہو جاتی ہے، میں صرف کینسر اور کچھ دیگر بیماریوں کو بیماری مانتا ہوں کیوں کہ یہ زندہ رہنے کے لئے بہت سیاست کرتی ہیں اور آخر وقت تک ظاہر نہیں ہوتی اور جب ظاہر ہوتی ہیں تو پھر ایک زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے، مجھے خونی سرطان کا زیادہ نہیں معلوم لیکن اتنا پکا کہہ سکتا ہوں یہ جو بھی ہے یہ انسانی خون میں زندہ ہوتا ہے اور اس کا وجود ہماری موت پر منحصر کرتا ہے، میں نے ایک عزیز کو دیکھا ہے اس کے آخری لمحات میں رات کو اسے بے تحاشا خون لگایا گیا لیکن اگلی صبح اس کا خون دوبارہ کم ہونے لگ گیا تھا، ہو سکتا ہے کینسر اس کا خون کھانے لگ گیا ہو، میں اسے بیماری کہتا ہوں، اور میں اس پر تحقیق کر رہا ہوں اور میں ایسی تمام بیماریوں کا بہت جلد بغیر کسی بھی دوا کے علاج ممکن بنا دوں گا کیوں کہ بیماری زندگی رکھتی ہے اور میں نے میدان میں جنگ ختم کرنے کے دو ہی طریقے دیکھے ہیں پہلا تو بہت عام سا ہے جس میں یوں ہوتا ہے کہ میدان میں دو میں سے ایک سر بچتا ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تم جنگ شروع ہونے سے قبل ہی خودساختہ طور پر زمین بوس ہو جاو، میں نے کبھی بھی ایسا نہیں دیکھا کہ کسی نے اپنے حریف کو زمین سے اٹھا کر اس سے جنگ کی ہو، وہ مسکراتے ہوئے گھڑی دیکھ رہی تھی تو میں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ جس کی تم سرجری کرنے جارہی وہ مریض نہیں عین ممکن ہے اس کے ساتھ کوئی اتفاقیہ حادثہ ہوا ہو یا پھر کوئی اعلانیہ خودکشی۔

آپریشن تھیٹر سے باہر نکلتے مجھے اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ نظریں بچا کر مجھے کینٹین میں تلاش رہی تھی، چائے کا کپ تھامے میں اس تمام منظر سے محظوظ ہو رہا تھا۔

”تم، ابھی تک یہاں بیٹھے ہو“

”ہاں میرے پاس بھی کچھ کرنے کو نہیں تھا تو بیٹھ گیا، “

بنیادی طور پر میں ٓپریشن سے پہلے میں اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس کے ذہن پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا لیکن میرا جانے انجانے میں بھی ایسا ویسا کوئی ارادہ نہیں تھا،

”تم فوجی بھی نا“

”بولو، بولو تم رک کیوں گئی، تم اپنی بات مکمل کرو، اب میں حاضر سروس فوجی نہیں جو جوش میں آکر سیخپاہ ہو جاوں“

”میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ جنگ تو ہوتی نہیں تو بلاوجہ فوجیوں کی پر آسائش زندگی پر سرمائے کا لامحدود خرچ کسی بھی صورت دانشمندی نہیں“

”کیا کہا تم نے، پر آسائش، “

”ہاں پر آسائش، “

”لیکن کیسے، “

”میں نے سنا ہے، افسران کو لامحدود سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، نیز ان کی تربیت پر ہی لاکھوں خرچ ہو جاتے ہیں، “

”ہاں، تمہاری بات سے کچھ حد تک میں اتفاق کرتا ہوں لیکن میں چاہوں گا کہ تم میری بات مکمل ہونے تک خاموشی اختیار کیے رہو، تاکہ میں اپنا موقف مفصل انداز میں بیان کر سکوں، “

”ہاں، ہاں تم بولو

”پہلی بات جو تمہارے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگوں کے ذہن میں بالکل غلط گردش کر رہی ہوتی ہے کہ فوجی کو مراعات سے نوازا جاتا ہے،

میں ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ میں خود ایک فوجی ہوں، ہاں میں مانتا ہوں میں اب حاضر سروس نہیں، لیکن تمہیں یہ بات قبولنی ہی ہوگی کہ زندہ ہاتھی لاکھ کا ہے تو مرا سوا لاکھ کا، اور فوجی کو ملنے والی مراعات کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح ہی ہوتی ہیں بس فرق صرف اتنا ہوتا ہے وہ تمام مراعات سے فوجی کسی بھی طرح لطف اندوز نہیں ہو سکتا، کیوں کہ وہ عہد میں جیتا ہے اور اس عہد کی پاسداری اس کا جینا مرنا ہووتا ہے، اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ سب کو موت آنی ہے لیکن ہم میں سے صرف سزائے موت کے قیدی، اور حفاظت پر معمور اہلکار ہی اس موت کا ہر پل انتظار کرتے ہیں ہر لمحا مومن کی طرح موت کو یاد رکھنا پڑتا ہے اب تم اسے موت کا ڈر کہو یا حب الوطنی لیکن ہمیں تنخواہ اس بات کی نہیں ملتی، اس بات کے لئے ہی تو فوجی کو حصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے، میں نے بھی ایسے وقت دیکھے ہیں، جب نیند سے زیادہ زندگی پیاری لگی، میں کسی بھی صورت خود پر حب الوطنی کی مہر نہیں لگاؤں گا لیکن مجھے اس وقت میں گزری اذیت کا ازالہ چاہیے مجھے کفارہ چاہیے ان لمحات کا جو میں نے اکثر جھیلے یا گزارے یا پھر اپنے لئے خود چنے

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6