محبت کیسے جیتی؟


میں تم جیسا ہی تو ہوں، مجھے تم میں گھل مل جانے دو، اور وہ میری یہ بات سن کر جب وہ ”جی میجر صاب“ کہتے تو میں چڑ کر خاموشی اختیار کر لیتا۔ لیکن اب مجھے عملے کی اس رویے کی عادت ہوگئی تھی۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے میں دلشاد کے آپریٹنگ کمرے کی طرف نظریں جمائے ہوا تھا۔ میری اس حرکت کو کینٹین کا تمام عملہ دیکھ سن اور محسوس کر کے نظرانداز کر رہا تھا۔ میں خود ہی شرمندگی محسوس کرکے دوسری جانب دیکھتے ہوئے اپنے ماضی میں کھونے لگا۔ جب میں بارہویں جماعت کا طالبعلم تھا اور دلشاد مجھ سے ایک جماعت جونیئر ہوا کرتی تھی۔ سکول میں تو مجھے کبھی ہمت نہ ہوئی کہ دلشاد سے نظر ملا سکوں کیوں کہ محلے میں وہ میری پڑوسن بھی تھی، اور دلشاد کے والد کا حکم تھا، خیال رکھنا اسے کوئی تنگ نہ کرے۔

لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اس کے چاہنے والوں میں میرا نام سرفہرست رہا۔ لیکن اپنے خاندان یا پھر ابا کے ڈر سے کبھی ہمت نہ ہوئی کہ اسے بتا سکوں، لیکن پورا کالج یہ بات جانتا تھا کہ میں دلشاد کو پسند کرتا ہوں۔ اور اپنی اوباش طبیعت کی وجہ سے کسی کی ایسی مجال نہ ہوتی کہ دلشاد کے قریب آسکے، اور بل آخر بارہویں جماعت کے فائنل امتحان سے کچھ دن پہلے کی ہوئی بے وقوفی پر میں آج بھی شرمسار ہوتا رہتا ہوں۔ جب ایک کاغذ پر محبت نامہ درج کرکے پھول بوٹوں کے ساتھ شاعری لکھ کر اسے تھمایا۔

میری اس حرکت پر دلشاد تھوڑی جھلا گئی لیکن میں اس کے احسان تلے آج بھی دبا سا رہتا ہوں کہ اس نے میرے خلاف سنگین قدم نہیں اٹھایا۔

اس حرکت کے بعد دلشاد اور میرا کبھی آمنا سامنا نہیں ہوا اور پھر میں آرمی افسر بھرتی ہوگیا، میری ٹریننگ مکمل ہوئی تو وہ بھی ہاوس جاب کرنے لگی، میں اکثر محلے کی ایک خالہ سے ان کے گھر کی باتیں نکلوایا کرتا تھا، اور وہ خالہ رازداری سے یہ سب کام کرنے کے مجھ سے اچھی خاصی رقم بٹور لیا کرتی تھی۔ دلشاد کی اچانک شادی ہوگئی جس پر مجھے شدید صدمہ ہوا لیکن میں ایک فوجی افسر تھا۔

اور کسی بھی صورت میں اپنے جذبات کا کھل کر اظہار نہیں کرسکتا تھا۔ کیوں کہ اس کے دو پہلو تھے، پہلا تو کچھ یوں تھا کہ میں فوجی افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سرکاری ملازم بھی تھا اور اس بات کے اظہار سے میری پیشہ ورانہ کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن سکتا تھا۔ اور دوسری بات یہ تھی کہ ہماری قوم نے فوجی کو ایک دیوہیکل انسان سمجھ رکھا ہوتا ہے اور کسی بھی صورت یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ فوجی کسی سے محبت میں ناکامی پر آنسو بہا سکتا ہے۔

تو کل ملا کر میری صورتحال بھی ایک عورت جیسی تھی۔ جو اپنے سو درد چھپا کر ہر دم مسکراتی رہتی ہے۔ میں پرانی باتیں یاد کرتا جا رہا تھا۔ اور اپنے ہاتھ زور سے کس رکھے تھے، میرا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا جیسے کہ سینہ پھاڑ کر باہر آنے والا ہو، میری آنکھیں نم تو ہمیشہ سے تھی لیکن آج بھرتی جا رہی تھیں۔ مجھے ادھیڑ عمر میں بھی انیس سال پرانی محبت کی طلب چھوٹے بچنے کی طرح تلملانے پر مجبور کر رہی تھی۔ میں کسی بھی صورت اپنی ہار تسلیم کرنے کو آج بھی تیار نہیں تھا۔ دلشاد کے کلینک کا دروازہ پٹخنے کی آواز سے میرا خیالی بھنور ٹوٹنے پر مجھے احساس ہوا کہ کینٹین کا عملہ میری آنکھوں سے نکلے ایک آنسو سے ساری کہانی بھانپ چکے تھے۔

”صاب چائے دوبارہ گرم کر لاوں“

بیرے کی آواز پر میں نے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے کہا کہ سورج کی روشنی بہت تیز ہے، آنکھوں میں انفیکشن ہوگیا ہے۔ میری بات مکمل ہونے پر بیرے نے مسکراتے ہوئے کہ

”صاب یہ انفیکشن نہیں اسے محبت کے جالے کہتے ہیں“

بوڑھے بیرے کی بات سنتے ہی میرا دل لرز گیا، جسم میں میں ایڈرنالین کی شرح بڑھ کر خون میں شامل ہونے لگی میرا دل چاہا کہ اسے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دوں، لیکن میں اتنا ہی کہہ سکا کہ میرے لئے دوسری چائے لے آو۔

دلشاد بہت تیزی سے میرے پاس سے گزری جیسے بہت جلدی میں ہو، میں پلٹ کر اسے دیکھ رہا تھا کہ کاش یہ رک جائے، میرے پاس بیٹھ جائے۔ لیکن سر جھکا کر میں نے خود تسلی کر لی کہ میرا نہ ہی اس پر کوئی حق ہے اور نہ ہی کوئی اختیار اور سب سے ضروری بات یہ کہ وہ ایک شادی شدہ عورت ہے۔ اور میں کسی بھی صورت اپنے محبت کے اس مخمسے میں اس کی گھریلو زندگی پر اثر انداز ہونا انسانیت سے پرے ہے۔

یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ دلشاد پلٹ کر واپس میری ٹیبل پر آگئی

” فارغ تو تم ہو ہی آو تمہیں گھما لاوں“

” ہاں میں تیار ہوں، لیکن جانا کہاں ہے“

اپنی کار کی چابی تھماتے ہوئے اس نے بتایا کہ اسے اپنی بیٹی کے سکول جانا ہے۔ آج فیس جمع کروانے کا آخری دن ہے۔

ہم دونوں سیڑیوں سے کودتے پھاندتے پارکنگ میں پہنچے تو میں نے کار کی چابی تھماتے ہوئے کہا تم کار چلاؤ۔

جس پر اس نے بتایا کہ کار کی انشورنس ختم ہو گئی ہے، اور ڈرئیونگ لائیسنس بھی گھر بھول آئی ہے۔

ڈرائیونگ سیٹ پر خاموشی سے بیٹھتے ہوئے میں یہی سوچ رہا تھا کہ مجھے تو کار چلانی آتی ہی نہیں۔ خیر یہ بات میں دلشاد کو بتا کر کسی بھی صورت ہاتھ آیا موقع جانے نہیں دے سکتا تھا۔ پارکنگ سے نکلتے ہی دلشاد اور میں آہستہ آہستہ جا رہے تھے اور ساتھ خوش گپیاں جاری تھیں، اور میں اس کو باتوں میں الجھائے جا رہا تھا تاکہ اس کا دھیان میری ڈرائیونگ پر کسی صورت نہ جائے۔

مرکزی شاہراہ پر جاتے ہی تیز گاڑیوں کے ریوڑ دیکھتے ہی میرے ہاتھ پاوں پھولنے لگے اور کچھ سوچنے سے پہلے ہی میں اپنی کار آگے جانے والی کار کے ساتھ ٹکرا چکا تھا۔ زیادہ نقصان تو نہیں ہوا تھا۔ لیکن معاشرے کے اصولوں کے مطابق بد مزگی ہونا لازم تھی، دلشاد کچھ کہتی اس سے پہلے ہی سامنے والے ڈرائیور نے شیشہ نیچے کرتے ہی مجھے کھری کھری سنانا شروع کردی۔

” وہ تمہیں بے عزت کر رہا ہے“ دلشاد کی بات پر میں نے اسے جواب دیا کہ مجھے اس کی بے عزتی سے فرق نہیں پڑتا۔ میری بات سن کر ڈرائیور مزید تیش میں آگیا اور کچھ سنگین کلمات کہہ دیے لیکن میں بے حس ہو کر سنے جا رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6