محبت کیسے جیتی؟
”لیکن آپ ڈاکٹر تو ہیں نا، “
”جی بالکل! “
”تو پھر آپ رپورٹ دیکھ کر بتائیں کہ میں کیا کروں اب۔ “
”اوہ! یہ بات تو میں بنا رپورٹ دیکھے بھی بتا سکتی ہوں کہ آپ کو کسی اچھے ماہر امراض قلب کو دکھانا چاہیے، “
”دلشاد اور اس مریض کی گفتگو سنتے ہوئے مجھ سے رہا نہ گیا تو میں مجبورا بیچ میں کود پڑا
لاؤ میں دیکھ لیتا ہوں تمہاری رپورٹ میں دل کا ڈاکٹر ہوں، میری بات سنتے ہی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں کہ مفت میں چیک اپ ہو جائے گا۔ دلشاد کا سٹیٹوسکوپ اپنے کانوں میں ٹھونستے ہوئے جب میں اس مریض کی چھاتی ٹٹولنے لگا تو دلشاد میری جانب عجیب انداز سے دیکھنے لگی جس پر میں نے اسے انگریزی میں کہا کہ مجھے ایسے مت دیکھو ورنہ مریض کو شک ہوجائے گا کہ میں ڈاکٹر نہیں، اور وہ دوسری جانب دیکھنے لگ گئی۔ مریض کی چھاتی ٹٹولتے ہوئے سٹیٹوسکوپ خلائی مخلوق کا احساس دلا رہا تھا۔
میں نے تمہاری چھاتی کا بھی معائنہ کیا ہے اور رپورٹ بھی دیکھی ہے، لیکن مجھے ایسا کچھ بھی محسوس نہیں ہوا جس سے میں یہ کہہ سکوں کہ تم کسی امراض قلب میں مبتلا ہو۔ لیکن پھر بھی تمہیں یہ مشورہ نما حکم دیتا ہوں کہ روزانہ پانچ میل جاگنگ کرو اور اپنی خوراک میں کمی کے ساتھ ساتھ گھی کا استعمال ختم کردو اور سبزی کا استعمال زیادہ کرو۔ اگر ایسا نہ کیا تو پھر کسی دن اچانک تم مریض بن جاؤ گے لیکن فلحال تم بالکل تندرست و توانہ ہو۔
میری بات مکمل ہوتے ہی دلشاد نے میرے ہاتھ سے رپورٹ چھین کر پڑھنے لگی، لیکن اس کے بعد خاموش ہی رہی۔ اور میرا راز راز ہی رکھا۔ مریض کے جانے کے بعد وہ میری جانب پلٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی پہلے پہل تو مجھے گمان ہوا کہ اسے دمہ کا اٹیک آیا ہے لیکن میرا یہ وہم جلد ہی دور ہوگیا۔ ”
”تم ایسا کیسے کر سکتے ہو، “
”میں نے ایسا کیا کر دیا آپ بتائیے“
”کیا تم نے اس مریض کی رپورٹ پڑھی، “
”نہیں تو! میں ایک فوجی ہوں، مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں، “
”تمہیں شاید یہ بات نہیں معلوم کہ اس مریض کا کولیسٹرول لیول بہت زیادہ ہے اور کسی بھی وقت سے دل کا دورا پڑ سکتا ہے۔ “
”لیکن میں تمہاری بتائی ہوئی پرہیز سے سو فیصد متفق ہوں اور اگر اس نے ایسا کیا تو یقینی طور پر اس مرض سے اس کی جان چھوٹ جائے گی“
”طنز کرتے ہوئے میں نے اسے کہہ دیا کہ جب میری بات اتنی وزن دار ہے تو پھر مجھ میں اور ایک ڈاکٹر میں کیا فرق رہا سوائے اس کے کہ جب یہ مریض ڈاکٹر سے ہو کر ہمارے پاس آیا تو شدید گھبرایا ہوا تھا اور شاید اس گھبراہٹ سے اس کا دل رک جاتا اور اس کی موت ہوجاتی البتہ ہم سے رخصت ہوتے، اس کی آنکھوں میں زندگی سے محبت اور امید کی کرن ایک ساتھ جگمگا رہیں تھیں۔ میں ذاتی طور پر فوجی ہوں لیکن طبیعت سے ایک ریسرچر ہوں اور ہر بات کو بہت باریکی سے دیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں، جس پر اس نے جواباً کہا کہ ریسرچر کی جگہ اگر لفظ کھوجی کا استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا، جس پر مسکراتے ہوئے میں نے کہا کہ چلو ایسا ہی سہی۔ “
کچھ لمحات کی خاموشی پھیلنے کے بعد اس نے دوسرا سوال داغ دیا کہ تم دل کے بارے میں کیا جانتے ہو، میں جاننا چاہوں گی کہ تمہاری دل کتنی اور کس قسم کی ریسرچ ہے
”دل! میں ڈاکٹر تو نہیں لیکن ہاں میرا ایک الگ انداز اور زاویہ ہے، اور دل پر میں نے کافی ریسرچ کی ہے، میں آج کل دل کی بیماریوں اور نوجوان نسل میں ہارٹ فیل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کافی غور کر رہا ہوں۔ اور میں نے کچھ خاص نتیجے اخذ کیے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان نسل نے دل کو صرف خون پمپ کرنے والہ ایک آلہ یا پھر ایک پمپ سمجھ لیا ہے۔ اور کسی بھی پمپ کی زندگی بہت کم ہوتی ہے۔ دل تک تو میری رسائی نہیں لیکن اس کے علاوہ میں نے گھر میں موجود پانی اور گاڑی کے پمپ پر کافی تجربے کیے ہیں ان کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے۔
بالکل اسی طرح دل کو بھی اگر پمپ کی طرح استعمال کیا جائے تو اس کی زندگی بھی بہت چھوٹی ہو جاتی ہے اور بہت جلد جام ہو جاتا ہے، یا کوئی دوسرا مسئلہ نکل جاتا ہے۔ مجھے معلوم ہے تمہارے ڈاکٹر دماغ میں اب یہ سوال گھوم رہا ہوگا کہ اگر دل خون پمپ کرنے کے لئے نہیں تو پھر کس کام ہے ہے؟ تمہارے اس سوال کے پوچھنے سے ہی میں جواب دے دیتا ہوں کہ جسے تم پمپ سمجھ کر استعمال کر رہے ہو وہ گوشت کا ایک سخت لوتھڑا ہے۔ دل وہ نہیں جو خون پمپ کرے، دل تو وہ جسے درد ہوتا ہے، دل تو وہ جو کسی کے بہتے آنسو دیکھ کر رو جائے، دل تو وہ جو کسی بری بات سن کر جلنے لگ جائے، دل تو وہ جو کسی محبت بھری باتیں سن کر پگھلنے لگے، دل تو وہ جو کسی کو درد میں دیکھے تو رونے لگے، ہاں دل دیکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے، محسوس بھی کرتا ہے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ دل سوچتا بھی ہے، دل تو وہ جب ماں اپنے بچے کو خوش دیکھے تو اس کا دل مسکرانے لگے، میری باتیں تمہیں بے تکی سی لگ رہی ہوں گی، اسی لئے تمہاری آنکھیں پھیل رہی ہیں، اور ایک بات کے ساتھ اپنی بات ختم کروں گا کہ جسے خون رواں رکھنے کے لئے پمپ درکار ہے، سینے سے اس دل کو نکال کر دیوار پر پٹخ دے اور بازار سے ایک چھوٹا پمپ لے کر اس میں معمولی پھیر بدل کرکے استعمال کرے، وہ اتنی آسانی سے پاش پاش نہیں ہوگا۔ ہماری یہ بحث وقفے وقفے سے رات تک جاری رہی کیوں کہ وہ بار بار اپنے مریض بھی دیکھنے جاتی رہی۔
اگلی صبح ہمیشہ کی طرح میں تیار ہو کر گھر کے سامنے ہسپتال میں دانتوں کے دیپارٹمنٹ کی کینٹین میں تشریف لے گیا۔ بیرے نے میرے التجائی حکم کا انتظار کیے بنا ہی چائے کا کپ میرے لئے بنانا شروع کردیا۔ اس کینٹین سے انسیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہاں کا عملہ مجھے ایک حاضر سروس فوجی کی طرح ہی پروٹوکول دیتا تھا۔ مجھے اس بات پر اکثر ان سے شکایت رہتی کے میرے ساتھ امتیازی سلوک مت کیا کرو۔ میں اب بالکل سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

