محبت کیسے جیتی؟


اور بل آخر اس شخص نے زوردار تھپر سے میری نکسیر پھوڑ ڈالی

” اب اور کس بات کا انتظار ہے، اب تو تم پر اس نے حملہ بھی کر دیا ہے“

دلشاد کی اس بات پر میں بالکل نرم سے انداز میں کہہ گیا کہ چند قطرے خون ہی تو نکلا ہے کون سی موت آن پڑی ہے مجھ پر! خیر میں اپنی پینٹ کی پچھلی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کار سے نکلتے ہی جیب سے ہتھکڑی نکال کر اپنے ہاتھ کمر کے پیچھے لاک کرتے ہوئے کہا

” میجر ازفر علی“ میرا نام سن کر اب سامنے والے شخص کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے! لیکن وہ اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے اپنے ڈر کو چھپاتے ہوئے بولنے لگا کہ

” میجر ہو تو کیا کسی کی بھی کار کو توڑ دو گے“

ہاں مجھ سے آپ کی کار کا نقصان ہوا، اور میں ہرجانے کو تیار ہوں، آپ پولیس کو بلا لیجیے تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے۔ میری بات سنتے ہی اس نے کہا اسے جلدی میں کہیں جانا ہے۔ پیسے دے کر معاملہ یہیں ختم کیا جائے جس پر میں نے اسے کہا کہ میری جیب تو صرف چند سو روپے ہیں البتہ تم میرا نمبر پتہ لے لو، میں آسان اقساط پر تمہیں لوٹا دوں گا، لیکن وہ شخص جان چھڑاتے ہوئے مجھے معاف کر کے کار میں بیٹھ کر چلا گیا، اس کی اس حرکت پر مسکراتے ہوئے مجھے پہلی بار اپنی شناخت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خوشی ہو رہی تھی۔ مسکراتے ہوئے ناک سے بہتے خون کو صاف کرنے کے واسطے ہاتھوں کو ٹٹولا تو یاد آیا کہ ہاتھ تو ہتھکڑی میں لاک ہو چکے ہیں۔

کار میں واپس بیٹھتے ہوئے دلشاد سے ہاتھ آزاد کروانے کے بعد سب سے پہلے ڈرائیونگ سیٹ اس کے حوالے کی اور خاموشی اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات ذہن میں رکھتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔

” تم مجھے بتا سکتے تھے کہ تمہیں ڈرائیونگ نہیں آتی بلاوجہ کی افیشنسی دکھانے کی کیا ضرورت تھی تم بالکل نہیں بدلے تم آج بھی کالج کے دنوں والے بونگے لڑکے ہی ہو، بس صرف اتنا آیا کہ اب تم ایک بونگے میجر ہو، اور تمہارے روئیے سے کسی بھی صورت یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تم فوجی افسر ہو، اور یہ ہتھکڑی جیب میں رکھنے کی کیا تک بنتی ہے، اور عین لڑائی کے وقت ہی تم نے چوڑیاں پہن لی“

دلشاد کی بات کاٹ کر درستگی کرتے ہوئے، میں نے کہا کہ وہ جو میں پہن کر لڑائی میں اترا تھا وہ چوڑیاں نہیں اسے ہتھکڑی کہتے ہیں، اور وہ اس لئے نہیں تھیں کہ میں ڈر گیا تھا، بلکہ اس لئے کہ میری ذات سے اس شخص کو کوئی نقصان نہ ہو جائے، میرا ضبط جواب دے چکا تھا میری آنکھیں چھلک رہی تھیں، اور زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔

” ڈرائیونگ کا اس لئے نہیں بتایا کہ کہیں تم مجھے ساتھ لے جانے سے انکار نہ کر دو، میں کسی بھی صورت تمہارے ساتھ ایک لمحہ گزرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم شادی شدہ ہو اور تمہاری ایک فیملی ہے، میں تو بلاوجہ ہی تمہاری محبت میں مارا گیا۔ تمہیں تو بالکل بھی احساس نہیں تم تو بالکل ہی کاروباری ہو، تمہارے تو دل میں بھی دماغ ہے، میں تو بس یہ سوچ رہا ہوں کہ تم دل کو پمپ کی طرح استعمال کرنے کے باوجود تمہیں ابھی تک کوئی دل کا مرض لاحق کیوں نہیں ہوا، آنسوں سسکیوں میں بدلے اور سنگین خاموشی پھیل گئی۔ سکول پہنچ کر جیسے ہی وہ اندر گئی تو چپکے سے میں گاڑی سے نکل کر گھر آگیا۔

محبت کی یہ مایوسی اب مجھے نفسیاتی مرض کی جانب دھکیل رہی تھی۔ چالیس کی اس عمر میں جذبات کو قابو میں رکھنا آسان ہوتا ہے کیوں کہ انسان پریکٹیکل زندگی دیکھ چکا ہوتا ہے، لیکن میں تو آج تک کالج کے اس بچپنے سے نکل ہی نہیں سکا، میں تو بس بوڑھا ہوتا جا رہا تھا، بزرگی تو میرے نصیب میں ابھی تک آئی ہی نہیں تھی۔

کینٹٰین جانے کا تو اب سوال ہی نہیں بنتا تھا۔ تو اپنی بالکونی سے ہی ہسپتال کو دیکھ کر تسلی کر لیتا۔

مجھے جھٹکا اس وقت لگا جب میں نے دلشاد کو اپنی گلی سے گزر کر جاتے دیکھا کیوں کہ وہ شادی کے بعد دوسرے علاقے میں شفٹ ہو گئی تھی، میں نے وقت نوٹ کیا اور روزانہ اس وقت بالکونی سے اسے دیکھنا شروع کردیا اسے بھی اندازہ ہوگیا کہ میں اسے چھپ کر چائے اور ہوا خوری کے بہانے سے دیکھتا ہوں۔

لیکن سب عجیب ہو رہا تھا، نہ میں دیکھنے سے باز رہا نہ اس نے راستہ بدلا۔

جاگنگ پر جاتے ہوئے ایک دن صبح اچانک دلشاد کی آواز پر پلٹتے ہی میں نے جواب دیا کہ میں ہرگز تمہیں فالو نہیں کر رہا تھا۔ لیکن وہ اتنے غصے میں تھی کہ اس کے گالوں کو لالی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس کی آواز اس قدر تیز تھی۔ گلی میں تماشا لگنے ہی والا تھا۔ میں نے زندگی بہت شرافت یا پھر یہ کہنا بہتر ہوگا کہ بہت ڈر کر گزاری تھی اور شاید اسی وجہ سے محبت کے میدان چت ہونے کے بعد طویل قید گزاری۔

اس کا غصہ کم کرنے کے واسطے میں نے اس اسے اپنے گھر چائے کی دعوت دی۔ جسے اس نے لال گالوں اور لمبی سانسوں کے ساتھ قبول کر لیا لیکن گھر میں داخل ہوتے،

اس کا لہجہ مزید تلخ ہوگیا، اور مشرقی ماحول کی وجہ سے میں کسی بھی الزام کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے شدید گھبراہٹ کا شکار تھا۔

”کیا کہا تھا تم نے میں کرپشن کرتی ہوں، اور ملنے والی فیس کا چالیس فیص حصہ لیتی ہوں۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کچھ بھی کہہ جاتے ہو اور تمہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ سامنے والے کے دل پر کیا گزر جاتی ہے۔ ہاں میں لیتی ہوں چالیس فیصد حصہ اور اس سے کم ایک ٹکہ بھی نہیں لوں گی، اور اگر میرے پاس اتنے مریض ہوتے تو پورا دن کینٹین بیٹھ کر تمہاری بے تکی کہانیاں کیوں سنتی، تمہیں شاید اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے ملک میں بہت کم لوگ ہم جیسے ڈاکٹروں سے اپنے قیمتی دانتوں کا علاج کرواتے ہیں زیادہ تر لوگ تو صدر بازار میں خریداری کرتے ہوئے روڈ پر بیٹھے حجام نما دندان ساز سے کچھ پیسے دے کر دانت لگوا دیتے ہیں جس سے کسی بھی موضی مرض کا خدشہ رہتا ہے، اور جو تم کینسر پر راگ الاپ رہے تھے، تمہیں بتاتی چلوں کہ روڈ پر علاج سے بھی کینسر ہوتا ہے۔ اور تم میرے پیشے پر کیسے انگلی اٹھا سکتے ہو، تمہیں معلوم بھی ہے اس کا علاج کتنا قیمتی نازک اور مہنگا ہوتا ہے۔ میں نے حجام کی دکان نہیں کھول رکھی، اس کی قیمت تمہیں اس شخص سے پوچھنی چاہیے جس نے بڑھاپے میں ساری رقم دانت لگوانے میں خرچ کر دی، کیوں کہ وہ کھانا کھانے سے قاصر ہو چکا تھا،

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6