بڈھا گوریو: بالزاک کے عظیم ناول کا اردو ترجمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ناول انسان کے ایثار، بے حسی، شقاوت، تام جھام اور زندگی کی دوڑ میں ہر قیمت پر آگے بڑھنے کے لیے اختیار کردہ حیلوں کی داستان ہے۔ ناول کا مرکزی کردار بڈھا گوریو ہے جس نے خود کو دو بیٹیوں کی خوشی اور آسائش کے لیے وقف کردیا ہے۔ یہ التفات کا وہ روایتی تعلق نہیں جو عام طور سے باپ کا بیٹی سے ہوتا ہے بلکہ اسے آپ مجنونانہ اور بعض صورتوں میں مبالغانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ بیٹیوں کا گھر بسانے سے پہلے گوریو نے ہیرا پھیری سے اس قدر دھن دولت اکٹھی کرلی تھی کہ وہ عمر بھر چین کی بنسی بجائیں۔ دولت ان میں بانٹ کر وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کے ایک کی بجائے دو گھر ہوں گے۔ ہونے کو تو ایسا ہو جاتا ہے لیکن پھر داماد اور بیٹیاں اس سے عاجز آ جاتے ہیں۔ اسے گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور وہ پیرس کے ایک سستے بورڈنگ ہاؤس میں اٹھ آتا ہے، جس کی مالکن ایک چاتر عورت مادام ووکے ہے۔ ہاسٹل کی حالت خاصی دگرگوں ہے، اس کا سستا ہونا ہی ساری خرابیاں گوارا بناتا ہے۔ بڈھے گوریو کے بعد ناول کا سب سے اہم کردار یوژین راستیناک بھی یہیں رہتا ہے۔ وہ پیرس میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے آیا ہے۔ گھر کی امیدوں کا مرکز۔ آنکھ کا تارا۔ اہل خانہ پیٹ کاٹ کر اس کی ضروریات پوری کر رہے ہیں لیکن اس کا حال اسلم کولسری کے اس شعر کے مصداق ہے :

شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

شہر کی چکا چوند میں وہ کھو گیا ہے، طبقہ اشرافیہ کا حصہ بننا چاہتا ہے، اور اعلیٰ سوسائٹی کی کسی خاتون سے رسم وراہ بڑھا کر کامیابی کا خواہش مند ہے۔ اس عمل میں اس کی پھوپھی مدد کرتی ہے اور اسے ایک عزیزہ مادام کونتس دبوسے آں سے ملنے کو کہتی ہے جو پیرس میں ممتاز ہستی ہے۔ وہ اسے کامیابی کے ضامن نسخے بتاتی ہے جس میں سے ایک کچھ یوں ہے ”اس دنیا کے ساتھ تم جتنی سرد مہری سے پیش آؤ گے اسی قدر ترقی کرو گے۔ “ نوجوان اس بات پر یقین لے آیا ہے کہ ”سماجی مشین کے سب سے اونچے درجے پر پہنچنا ہو تو اس مشین کے کسی حصے سے چپک جانا چاہیے۔ “

اونچی سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے کا اولین تقاضا اچھا پہناوا ہے، اس کے لیے راستیناک جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے ماں سے پیسے منگاتا ہے اور یہ بات باپ سے چھپانے پر اصرار کرتا ہے۔ ماں کا معاملہ تو یہ ہے وہ عام حالات میں بھی سب کچھ وار دے اور جہاں نفس مضمون یہ ہو، ”۔ اگر مجھے پیسے نہ ملے تو اس قدر مایوسی ہوگی کہ ممکن ہے میں غم سے دیوانہ ہو جاؤں اور اپنے گولی مار لوں۔ “

اس کے پاس اور چارہ ہی کیا رہ جاتا ہے۔

ماں پر ہی اس نے بس نہ کیا اور بہنوں سے ان کی جمع پونجی اینٹھنے کے واسطے خط لکھا اور کہا کہ کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہو۔ وہ اپنے کیے پر نادم ہوتا ہے، خود کو قصور وار ٹھہراتا ہے لیکن یہ احساس اس حد تک نہیں جاتا کہ وہ چاہنے والوں کے جذباتی و مالی استحصال سے باز رہے۔

بہن کے بھائی کے نام خط کو ممتاز نقاد محمد حسن عسکری نے لڑکیوں کی نفسیات پر پوری ایک کتاب کے برابر قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ لڑکیوں کی نفسیات جاننے میں جیمس جوئس کی ٹکر کا ناول نگار اگر کوئی ہے تو وہ بالزاک ہے۔ اس خط کے منتخب حصے ملاحظہ ہوں :

”میرے پیارے بھائی۔ تمہارا خط عین وقت پر پہنچا، کیونکہ اس وقت میں اور آگاتؔ اپنے پیسوں کو اتنے مختلف طریقوں سے خرچ کرنے کا ارادہ کر رہی تھیں کہ کوئی فیصلہ ہی نہیں ہو رہا تھا۔ تم نے ہمیں ایک فیصلے پر پہنچا دیا۔

”اب سنو کہ ہم نے تمہارا خط ملتے ہی کیا کیا۔ ہم خوشی خوشی اپنے پیسے لے کر سیر کے بہانے گھر سے نکلے اور جونہی بڑی سڑک پر پہنچے۔ بھاگ کھڑے ہوئے اور جا کر وہ رقم ڈاک خانے میں موسیوگراں ؔ بیر کے حوالے کر دی۔ واپسی پر ہم اپنے آپ کو بہت ہلکا محسوس کر رہے تھے اور آگاتؔ کا تو خیال تھا کہ خوشی نے ہمیں پر عنایت کر دیے ہیں۔ ہم نے ہزاروں باتیں کیں جن کا میں تم سے ذکر نہیں کروں گی، کیونکہ، پیرس کے باسی وہ سب تمہارے ہی بارے میں تھیں۔ پیارے بھائی ہمیں تم سے بے انتہا محبت ہے۔ بس یہی اس سب کا خلاصہ سمجھو۔ جہاں تک اس کو راز میں رکھنے کا تعلق ہے پھپھی کے قول کے مطابق ہم ایسی چھوٹی چھوٹی بندریاں ہیں کہ کوئی بات ہم سے بعید نہیں، یہاں تک کہ ہم اپنی زبان بھی بند رکھ سکتے ہیں۔

”اچھا پیارے بھائی اب رخصت۔ آج تک کسی نے اپنے بھائی کی کامیابی کے لئے اتنی دعائیں نہ مانگی ہوں گی، جتنی ہم مانگ رہے ہیں اور نہ کسی کو اپنے بھائی سے اتنی محبت ہو گی جتنی ہمیں ہے۔ امید ہے اِس دفعہ جب تم گھر آئے۔ تو ہمیں سنانے کے لیے تمہارے پاس بہت سی باتیں ہوں گی۔ مجھے تو تمہیں ہر بات بتا دینا چاہیے، کیونکہ میں سب میں بڑی ہوں۔ پھپھی نے اشارتاً ہمیں بتایا ہے کہ تمہیں کچھ سماجی کامیابیاں ہوئی ہیں۔

”وہ کسی خاتون کا ذکر کرتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ “

واقعی آج کل خاندان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اچھا یوژینؔ اگر تم چاہو تو ہم رومالوں کی بجائے تمہیں قمیصیں بنا کر بھیج سکتے ہیں۔ مجھے اس کا جواب جلدی دینا۔ اگر تمہیں اچھی سِلی ہوئی قمیصیں جلدی درکار ہوں تو ہمیں بغیر کسی تاخیر کے کام شروع کر دینا چاہیے اور اگر پیرس میں کوئی ایسے فیشن ہوں جنہیں ہم نہ جانتے ہوں تو نمونے کے لیے ایک قمیص روانہ کر دو۔ خصوصاً آستین کے کفوں کا نمونہ۔

”خدا حافظ، خدا حافظ۔ میں تمہاری پیشانی پر بائیں طرف کنپٹی کے پاس والی جگہ کے لیے بوسہ بھیج رہی ہوں، کیونکہ وہ جگہ صرف میری ہے۔ میں دوسرا صفحہ آگاتؔ کے لئے چھوڑ رہی ہوں اور اُس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میرا لکھا ہوا خط نہیں پڑھے گی۔ لیکن میں اپنی تسلی کے لیے اس کے قریب ہی رہوں گی جب تک کہ وہ اپنا خط ختم نہ کر لے۔

تمہاری پیاری بہن

لورورؔ استیناک ”

بورڈنگ ہاؤس کی ایک مکین وکتورین ہے، جس کے باپ نے جائیداد میں اس کا حصہ غصب کرکے بیٹے کو دینے کے لیے سب کچھ بیچ باچ کر نقدی کی صورت پیسہ اکٹھا کر لیا ہے۔ بیٹی کو گزربسر کے لیے معمولی رقم دیتا ہے۔ اس کا دل صاف ہے اس لیے وہ دعا مانگتی ہے کہ خدا باپ کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دے اور بھائی کا دل موم کردے، لیکن کیا کیا جائے ستم گروں کی خو دعاؤں سے بدلنے لگے تو دنیا جنت ارضی نہ بن جائے۔ وکتورین، راستیناک سے لو لگانا چاہتی ہے، لیکن اس کی دال گلتی نہیں۔ بورڈنگ ہاؤس کے ایک اور کردار ووتراں، راستیناک سے کہتا ہے کہ وکتورین کے بھائی کو راستے سے ہٹا کر اس سے شادی کرلے۔ واحد وارث کی صورت میں وہ باپ کی ساری دولت کی حقدار ہو جائے گی اوراس کے دن سنور جائیں گے۔

بورڈنگ ہاؤس کے رہائشی ایک دوسرے سے بے اعتنائی برتتے ہیں، انھیں اس بات سے سروکار نہیں کہ ایک دوسرے کی داستانِ غم میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کی آمیزش کس قدر۔ ان میں ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں۔ گوریو کی موت پران کی بے حسی پریم چند کے افسانے ”کفن“ کی یاد دلاتی ہے۔ مالکن نے گوریو کو موٹی آسامی جان کراس کا قرب حاصل کرنا چاہا لیکن دوسری طرف سے لفٹ نہ کرائی گئی تو اس سے نفرت کرنے لگی۔ اس رویے کے باب میں لکھتے ہوئے بالزاک نے بڑی پتے کی بات کی ہے :

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •