گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی
راجہ عابد نے چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد میمونہ سے پوچھا کہ گھر سے کیسے بھاگی اور کیا اسے اغوا کیا گیا تھا۔ میمونہ جو اب تک ڈری سہمی رہی تھی اچانک نہ جانے اس میں کہاں سے اتنی ہمت آ گئی۔ اس نے چادر ہٹاتے ہوئے پورے زور سے کہا۔ ”مجھے اس نے اغوا نہیں کیا تھا۔ بختاور مجھ سے بے انتہا محبت کرتا تھا اور میں اس سے۔ اسی لئے میں اس شادی کرنا چاہتی تھی لیکن آپ لوگ مجھے کسی اور کے حوالے کر رہے تھے تو مجھے بھاگنا پڑا۔ “
اس کی بات سن کر ایک شور سا پڑ گیا۔
” توبہ توبہ“
”بہت بد زبان اور بے حیا لڑکی ہے۔ “
”میری ایسی بیٹی ہوتی تو زندہ زمین میں گاڑ دیتا۔ “
”یہ لڑکی آوارہ اور بد چلن ہے جی۔ “
احمد علی برداشت نہ کر سکا اور شدید غصے کے عالم میں اٹھتے ہوئے بولا۔ ”میمونہ کی ماں! اسے یہاں سے لے جاؤ ورنہ میں ابھی اسے گولی مار دوں گا۔ بے شرم، بے حیا۔ “ اس کے بھائی شاریب کا چہرہ بھی غصے سے لال ہو رہا تھا۔ ان دونوں کو فوراً چند ہمدردوں نے پکڑ لیا۔ راجہ عابد نے سب کو خاموش رہنے کی تلقین کی پھر منہ بناتے ہوئے احمد علی کی بیوی سے کہا کہ بیان ہو گیا ہے اب وہ لڑکی کو اندر لے جائے۔
پنچایت میں موجود ہر شخص غصے سے بھرا ہوا تھا۔ وہ اس کیس کا فیصلہ فوری طور پر چاہتے تھے۔ چناں چہ راجہ عابد نے ان کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا اور ان کی امنگوں کے مطابق میمونہ کی موت کا فیصلہ سنا دیا۔ سب نے وہیں پر اس فیصلے کی تحسین و توصیف شروع کر دی کہ یہ بہت درست فیصلہ سنایا گیا ہے اور راجہ عابد نے سزا کا طریقہ کار بھی وضع کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ اسے اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر مارا جائے۔ اس نے مزید یہ کہا کہ میمونہ کا جرم اتنا بڑا ہے کہ یہ سزا ایک طرح سے اس کی سہولت کے لئے دی جا رہی ہے کیوں کہ بہر حال وہ گاؤں کی بیٹی ہے اور زندہ جلا دینے یا چھریوں کے وار سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سزا نہیں سنا رہے۔
احمد علی سے پوچھا گیا کہ وہ اس فیصلے کے بارے میں کیا کہنا چاہتا ہے۔ اس نے اس واقعے کے بعد پہلی بار سر اٹھا کر فیصلے کو جائز قراردیا اور گاؤں کے معززین سے درخواست کی کہ وہ یہ نیک کام اپنے ہاتھوں سے سر انجام دینا چاہتا ہے۔ راجہ عابد نے اس کی اجازت نہ دی کیوں کہ وہ بوڑھا تھا اور اس کے ہاتھوں میں لرزش بھی آ سکتی تھی۔ بہر حال یہ کام گاؤں کے دو صالح نوجوانوں کے سپرد کیا گیا کہ وہ اس کے بھائی سے مل کر میمونہ کا خاتمہ کر دیں۔
سزا پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ساری کارروائی میں رات کے دو اڑھائی بج چکے تھے۔ تینوں نوجوان اشارے کے منتظر تھے۔ راجہ عابد نے زیر لب کچھ پڑھنے کے بعد نوجوانوں کو اشارہ کیا۔ وہ اندر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد گھٹی گھٹی چیخیں سنائی دیں۔ چند منٹ بعد خاموشی چھا گئی۔ نوجوان باہر آئے تو میمونہ کی ماں کے رونے کی آواز سنائی دینے لگی۔
شاریب پتھر کے بت کی طرح ساکت تھا اور احمد علی کے دانت بھنچے ہوئے تھے۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ راجہ عابد، رمضان، افضل، اکبر اور گلفراز احمد علی کے پاس آ گئے۔ جنازے کا کیا کرنا ہے احمد علی بھائی؟ کسی نے پوچھا۔
”صبح گیارہ بجے سے پہلے پہلے کر دیں گے۔ میں دیر نہیں کرنا چاہتا۔ “ احمد علی نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
”بالکل صحیح۔ آپ فکر نہ کریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم میں سے ایک آدمی گورکن کی طرف چلا جاتا ہے ایک کو کفن کے لئے بھجوا دیتے ہیں۔ سب انتظام ہو جائے گا۔ “ گلفراز نے کہا۔
احمد علی سب سے گلے ملنے لگا اور ان کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ اگلے دن واقعی گیارہ بجے جنازہ اٹھا لیا گیا۔ جنازے میں شامل افراد دنیاداری کی باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ زیادہ پیچھے چلنے والے تو کسی بات پر ہنس بھی رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی جوان لڑکی کی لاش کو دفن کرنے نہیں جا رہے بلکہ کوڑا کرکٹ سے بھرے بیگ کو ٹھکانے لگانے جا رہے ہیں۔ کسی کے چہرے پر افسوس یا غم کا کوئی تاثر نہیں تھا۔
احمد علی بھی ان کے درمیان چل رہا تھا۔ وہ بھی ان کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ اس کی کسی بات سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ یہ اسی کی بیٹی کا جنازہ ہے۔ وہ بالکل بے پرواہ سے انداز میں ان کے ساتھ یوں چل رہا تھا جیسے راہ چلتے جنازے کو دیکھ کر لوگ تھوڑی دور ساتھ چلتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ اسے بڑا ضروری کام تھا لیکن وہ احمد علی کی وجہ سے رک گیا۔ احمد علی نے بھی اپنی مصروفیات کا ذکر شروع کر دیا۔ اس نے کہا کہ آج اسے دو تین سوٹ سلائی کر کے دینے تھے۔ یہاں سے فارغ ہو کر وہ فوری طور پر کام نبٹائے گا۔
میمونہ کو دفن کر دیا گیا۔ اس کی قبر پر کوئی پھول نہیں تھا۔ لوگوں نے جلدی جلدی مٹی ڈالی اور پھر واپسی کی راہ پر ہو لئے۔ احمد علی بھی ان کے ساتھ واپس چل پڑا۔ قبرستان گاؤں سے کافی دور تھا جب گاؤں قریب آیا تو احمد علی کی رفتار کم ہو گئی۔ پھر وہ سب سے پیچھے رہ گیا۔ ایک جگہ بیٹھ کر وہ اپنا جوتا ٹھیک کرنے لگا۔ سب آگے بڑھ گئے کسی کو خیال نہ آیا کہ احمد علی ان کے ساتھ نہیں ہے۔ جب سب چلے گئے تو احمد علی مڑا اور واپس قبرستان کی طرف جانے لگا۔
جب وہ قبرستان پہنچا تو وہاں ہولناک سناٹا تھا۔ اس کے سوا کوئی ذی روح وہاں موجود نہیں تھا۔ چاروں طرف قبریں تھیں۔ وہ میمونہ کی قبر پر آیا جہاں لوگوں نے پوری طرح مٹی بھی نہیں ڈالی تھی۔ قبر کے قریب پہنچ کر نہ جانے اسے کیا ہوا وہ جیسے غش کھا کر گر پڑا۔ وہ دیوانہ وار قبر سے لپٹ رہا تھا۔ اس کے منہ سے بے ربط لفظ نکل رہے تھے۔ میمونہ۔ مونا۔ میری بیٹی۔ میری مونا۔ وہ کہتا جاتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی کو بھگو رہے تھے۔
پھر اس نے اپنے ہاتھوں سے ہی آس پاس سے تازہ کھدی ہوئی مٹی اکٹھی کر کے قبر پر ڈالنا شروع کر دی۔ دیوانہ وار کوشش سے قبر اپنی اصل شکل میں نظر آنے لگی تو اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی قبرستان میں کئی جھاڑیاں اور پودے اگ آئے تھے۔ کئی پودے ایسے تھے جن کی شاخوں پر چھوٹے چھوٹے پھول تھے۔ اس نے وہی پھول توڑ توڑ کر قبر پر ڈال دیے۔ پھر قبر کے پاس بیٹھ کر زار زار رونے لگا۔ ایک باپ اپنی بیٹی کا ماتم کر رہا تھا۔ یہ گریہ ایک باپ کا گریہ تھا۔ اس بیٹی کے لئے جس سے وہ پیار کرتا تھا، اس بیٹی کے لئے جسے وہ دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتا تھا لیکن وہ بھرپور جوانی میں ماری گئی تھی۔

