عورتیں کسی سے کم نہیں ہیں
یہ میڈیکل کالج کے دنوں کی بات ہے کہ سارا آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگ بے انتہا جمع تھے اور گزرنے کے لیے راستہ نہیں تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا نام پکارا جا رہا ہے تو انہوں نے ادھر ادھر ہو کر راستہ دے دیا۔ جب میں اسٹیج پر پہنچی تو بے نظیر بھٹو بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ ایک لیڈی آئی ہیں اور پھر انہوں نے میڈل اور ایک لفافہ مجھے دے دیا۔ حالات ایسے ہیں کہ جو لوگ کام کرنا بھی چاہ رہے ہیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا نہیں جا رہا ہے۔ ملالہ نکل جاتی ہے تو سب ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ یہ کیسے آگے نکل گئی۔
ڈاکٹر نائلہ خان کو اوکلاہوما میں لوگ پسند کرتے ہیں۔ ان کے اسٹوڈنٹس جو بھی ان کی کلاس لیتے ہیں سب یہی کہتے ہیں کہ وہ ایک بہترین پروفیسر ہیں۔ میں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ امریکی شہریت لے لیں اور یہاں اوکلاہوما کی گورنر بننے کے لیے الیکشن میں حصہ لیں کیونکہ میری فالن اچھی گورنر نہیں ہے۔ ہمیں لائق، پروگریسو اور دور اندیش لیڈروں کی ضرورت ہے جو اوکلاہوما کو ایک بہتر ریاست بنانے میں مدد کریں۔ لیکن ان کا دل کشمیر کی فکر میں ہے۔ سینکڑوں کتابیں انہوں نے پڑھ لی ہیں۔ ابھی تک پانچ چھ کتابیں خود لکھ چکی ہیں۔ سینکڑوں آرٹیکلز چھپوا چکی ہیں اور کتنی یونیورسٹیوں میں جاکر کشمیر کے مسئلے کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے لیکچر دے چکی ہیں۔ نائلہ خان کو اپنی زندگی میں اپنی کشمیری قوم کی زندگی بدل دینے کا جنون ہے۔
ابھی کچھ دن پہلے وہ کشمیر چلی گئیں اور چھوٹے چھوٹے شہروں اور گاؤں میں جاکر اسکول اور کالج کے اسٹوڈنٹس اور ٹیچروں سے ملیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمارے ملکوں میں خواتین کو اس طرح اہمیت نہیں دی جاتی جیسا کہ امریکہ میں اور ان کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی کہ آپ لائق اور تعلیم یافتہ ہیں۔ اب بتائیے بینظیر کو جان سے مار دیا ہماری قوم نے اور اندرا گاندھی کو بھی۔ جو بھی مر جائے کوئی نہ کوئی مٹھائی بانٹتا ہے۔ بینظیر کے بچے ان کو یاد کرتے ہوں گے۔ امریکہ میں سیفٹی ہے، یہاں لوگ ہمارے کام سے خوش ہیں اور انہوں نے ایک اچھا ماحول فراہم کیا ہوا ہے، صفائی ستھرائی ہے، یہاں ہر ہمارے اچھے گھر ہیں، ہمارے پاس اپنی ضرورت کی ہر چیز ہے اور ہر سہولت ہمیں میسر ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری قوم کو زندگی میں اور زندگی کے مسائل حل کرنے میں نہیں بلکہ مارا ماری میں اور توڑ پھوڑ میں زیادہ دلچسپی ہے۔ روزانہ لائبریری کی خاموشی میں سر جھکا کر پڑھائی کرنا اور آٹھ آٹھ گھنٹے بیٹھ کر امتحان دینا مشکل ہے اور آتش بازی اور بھاگ دوڑ نہایت دلچسپ۔ دنیا میں تبدیلی لانا آسان کام نہیں ہے۔ اس میں نسلیں لگ جاتی ہیں ۔
پچھلی دفعہ جب ہم ملے تو وہ کہنے لگیں کہ اپنے شوہر ڈاکٹر خان سے یہی کہتی ہوں کہ آپ صرف ڈاکٹری کرتے ہیں لبنیٰ کو دیکھیں، اس کو ڈاکٹری سے باہر بھی پڑھنے کا شوق ہے، لکھنے کا بھی شوق ہے، کمیونٹی میں ٹاکس بھی دیتی ہے اور کلچرل ایکٹیوٹیز میں بھی آگے ہے۔ ہمارے بیک گراؤنڈ کی خواتین میں اس طرحکی خواتین کم ہیں۔ وہ بات بالکل ٹھیک ہے یقیناً ایسی خواتین کم ہیں کیونکہ ان کو جس طرح اپنی کمیونٹی کی سپورٹ کی ضرورت ہے وہ حاصل نہیں۔ خواتین کو پیچھے رکھا جائے گا تو ہر کوئی ان کے ساتھ پیچھے رہ جائے گا۔
ایک صاحب نے لکھا کہ میں نائلہ کے خاندان سے متاثر ہو گئی ہوں۔ خاندان ان کا متاثر کن ہو یا نہ ہو لیکن ان کے خیالات اور معلومات نہایت متاثر کن ہیں۔ یعنی جو بات جیسے ہے وہ اس کو ویسے ہی آبجیکٹولی سمجھتی ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے بھی مجھے یہی اندازہ ہوا کہ ہمارے خیالات ملتے جلتے ہیں۔ میں خود بھی دنیا کے دیگر ممالک کے انسانوں کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتی ہوں۔ دنیا کے کسی بھی بیک گراؤنڈ کے انسان اچھے یا برے ہوسکتے ہیں۔ شیخ محمد عبداللہ کا ہاتھ سے لکھا ہوا تین صفحے کا خط پڑھا جو انہوں نے ایک دوست کو لکھا تھا اس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اپنے زمانے میں کن مشکل حالات کا سامنا کر رہے تھے۔ یہ بات وقت کے ساتھ پتہ چلی کہ چاہے میری دوست کولمبیا کی مارتھا ہو یا دبئی کی مونا، ہم لوگ تکثیری ماحول میں وقت گزارنے، گریجوئیٹ ایجوکیشن حاصل کرنے، دنیا کے مختلف لوگوں کے ساتھ پڑھنے اور کام کرنے سے یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ساری دنیا مل کر ہمارے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہی بلکہ ہر کوئی اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ہر کوئی اپنی جگہ جدوجہد میں لگا ہوا ہے۔ یہ کلیرٹی ایک تحفہ ہے۔
مارتھا کی پی ایچ ڈی تھیسس کا فوکس ان ہسپانوی افراد کی زندگی کے بارے میں تھا جو امریکہ میں اپنی فیملیز کو سپورٹ کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر داخل ہو جاتے ہیں اور بارڈر پر سختی کے باعث بغیر پکڑے واپس نہیں جا سکتے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تو ان کے امریکی بچے پیچھے رہ گئے۔ اس نے ان غریب افراد کا کیس ایک انسانی المیے کے طور پر پیش کیا۔ اس موضوع پر ریسرچ سے ہی اس طرح کے واقعات سامنے آئے جن میں بچے اسکول گئے ہوئے ہیں اور ان کو واپس لینے کوئی نہیں آیا کیوں کہ ان کے والدین کو پکڑ کر ملک سے نکال دیا گیا تھا۔ اسی طرح شعور بڑھنے سے ٹلسا میں ایک پولیس والے کو پکڑ کر سزا دی گئی جو غیر قانونی افراد کو روک کر ان کے پیسے نکلوا لیتا تھا۔ نہ ان کے پاس بینک اکاؤنٹ ہوتا ہے اور نہ شناختی کارڈ۔ شکایت کرنے سے بھی وہ ڈرتے تھے کہ ان کو ہی پولیس تھانے میں بند کرے گی اور ڈی پورٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ پچھلے سال میں نے دو خواتین کو تھائرائڈ کے کینسر کے ساتھ دیکھا جو امریکہ میں غیر قانونی تھیں۔ ہم لوگوں نے ان کا اچھے طریقے سے علاج کیا اور ہسپتال نے بھی سرجری وغیرہ کے پیسے نہیں لیے۔ ان کو کسی نے جا کر تھانے میں بند نہیں کرایا۔ ہمارا کام مریضوں کی مدد کرنا ہے چاہے وہ کوئی بھی ہوں اور کسی بھی حالات میں ہوں۔
دبئی کی مونا سے میری انٹرنیشنل ہارورڈ کورس کے دوران دوستی ہو گئی تھی۔ وہ لوکل 10 فیصد لوگوں میں سے ہے۔ اس کی ریسرچ کا فوکس مختلف ہیلتھ انشورنس والے لوگوں کی صحت میں فرق دیکھنا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ دبئی میں تنخواہ اچھی ملتی ہے اور امریکہ کی طرح ٹیکس نہیں دینا ہوتا۔ ایک ماسی بھی رکھ سکتے ہیں جو سارا گھر کا کام کرے لیکن میں نے اس کو کہا کہ اتنے سال امریکہ میں رہ کر ہمیں یہاں رہنے کی عادت ہو گئی ہے اور یہی ہمیں اچھا لگتا ہے۔ مونا بہت ذہین اور لائق خاتون ہے۔ اس نے ایک ریسرچ پراجیکٹ پر بہت محنت سے کام کیا اور بہت اچھی پریزنٹیشن دی تو میں نے اس سے متاثر ہو کر کہا کہ تمہیں اپنے ملک میں لیڈر ہونا چاہیے، تم سب ٹھیک کردو گی تو وہ خوب ہنسی اور بولی ہمارے ملک میں بادشاہت ہے اس لیے ایسا بول کر تم مجھے جیل مت کرا دینا۔
جو خواتین یہ مضمون پڑھ رہی ہیں، میں آپ سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اپنے ذہن میں سے یہ بات نکال دیں کہ آپ میں کوئی کمی ہے۔ آپ میں کمی نہیں ہے۔ آپ دنیا میں کچھ بھی کرسکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آپ محنت کرتی رہیں اور آگے بڑھیں۔ آپ میں سے کتنی ایم بی بی ایس کر کے گھر بیٹھی ہیں؟ چار دوست مل کر اپنا ایڈوکرائن سینٹر اور ذیابیطس سینٹر کھولیں۔ اس سے آپ لوگ پیسے بھی کمائیں گی اور لوگوں کی صحت بھی بہتر ہوگی۔ میں پڑھا دوں گی آپ لوگوں کو۔
