بی بی رانی بینظیر بھٹو کی کہانی


کہانی کراچی کے پنٹو ہسپتال سے شروع ہوتی ہے۔ یہیں نصرت بھٹو نے گلابی چہرے اور لانبی انگلیوں والی اک خوبصورت پیاری بچی کو جنم دیا۔ وہ بیشک ایک بینظیر بچی تھی۔ سو اس کا نام بھی بینظیر ہی رکھا گیا۔ ذو الفقار علی بھٹو ان دنوں لندن میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ پھر بہت کچھ ہوا۔ لاڑکانہ کے اس جاگیردار گھرانے میں اقتدار آیا بھی اور چھینا بھی گیا۔ یہ 19 ستمبر 1977 کا ایک دن تھا۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پابند سلاسل بیرسٹر ذو الفقار علی بھٹو اپنی اس بہادر بیٹی سے کہہ رہے تھے۔ ”تم نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے۔ اگر تم انگلستان واپس جانا چاہو اور بحفاظت اپنی زندگی گزارنا چاہو تو میری طرف سے اجازت ہے۔ لیکن اگر تم یہیں رہنے کا سوچو تو جان لو کہ ہمارے لئے سخت موسم کا سامنا ناگزیر ہے“ .۔ بینظیر نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ ”میں اپنے ملک ہی میں ٹھہروں گی پاپا“۔

صدیوں پہلے چشم فلک نے دیکھا تھا کہ ایک قافلہ سخت جاں کے امیر نے بھی اپنے ساتھیوں اور گھر کنبے کے افراد سے کچھ اسی لہجے میں کچھ ایسی ہی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ”چراغ گل کر دیے جائیں۔ میری جانب سے اجازت ہے۔ جو بھی جانا چاہے اندھیرے میں چلا جائے کہ سخت موسم کا سامنا ہے۔ ابھی اور کڑے دن آگے آنے والے ہیں“ .۔ 29 ستمبر 1977 ءکو بینظیر بھٹو کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ پھر گرفتار کیا جاتا رہا۔ اتنی مرتبہ گرفتاری، نظر بندی اور رہائی ہوئی کہ بینظیر بھٹو کی گرفتاری نظر بندی اور رہائی میں کوئی خبریت نہ رہی۔ یہ عام معمول کا سا معاملہ ہو کر رہ گیا۔ پنجاب ہائیکورٹ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا کا حکم سنایا جا چکا تھا۔ اس حکم کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی۔

انہی دنوں کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک سماجی تقریب میں دونوں جج صاحبان موجود تھے۔ چیف جسٹس انوار الحق، جسٹس صفدر شاہ کو اک طرف لے جا کر سمجھانے لگا۔ ”بھٹو بے گناہ سہی لیکن پاکستان کو بچانے کے لئے اس کو ختم کرنا ضروری ہے“ .۔ پھر روٹی کپڑا اور مکان والے بھٹو کی قربانی دے کر پاکستان کو بچا لیا گیا۔ لاڑکانہ سے پندرہ میل یا شاید 20 کلو میٹر کے فاصلے پر گڑھی خدا بخش بھٹو کے قبرستان میں بھٹو اکیلا دفن نہیں۔ یہاں اس کے پیچھے اس کے دو نوجوان بیٹے بھی آن پہنچے ہیں۔ پھر شوہر اور ان دو جواں نعشوں کے غم میں خوشیاں اور غم کی منزل سے آگے گزر جانے والی نصرت بھٹو بھی پہنچ گئی تھی۔ ابھی گڑھی خدا بخش کے قبرستان کو شاید اور انتظار ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک شمارے میں بینظیر بھٹو کا خاکہ یوں بیان کیا تھا۔ ”فقرے اس کے مبہم برطانوی لہجے سے تیر کی طرح باہر نکلتے ہیں مگر زباں سے پھسلتے جاتے ہیں۔ دریں اثناء اس کے ہاتھ بھی متحرک ہوتے ہیں۔ کبھی پیشانی پونچھتے ہوئے کبھی بالوں کی لٹ کریدتے ہوئے“ .۔ اس سراپا کو ذہن میں رکھتے ہوئے امریکی خاتون اول نینسی ہیلری کلنٹن کی یاد داشتوں کی ورق گردانی کرتے ہیں۔ ”مجھے بینظیر بھٹو کو قریب سے دیکھنے اور اس کے ساتھ مکالمہ کا موقعہ ملا۔ وہ ایک ذہین پرکشش شخصیت کی مالک ہیں۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو 1971۔ 1977 کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ 1977 کے فوجی انقلاب کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی موت کے بعد بینظیر کو برسوں تک قید و بند کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ 1980 کے عشرہ میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بن گئیں۔ پھر انتخابات جیت کر ملک کی اولین خاتون وزیر اعظم بنیں۔ بینظیر بھٹو دنیا کی ممتاز شخصیات میں وہ واحد شخصیت ہیں جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مجھے قطار میں کھڑے ہو کر خاصی دیر انتظار کرنا پڑا۔


یہ 1989 کی بات ہے جب وہ بحیثیت وزیر اعظم پاکستان لندن کے دورے پر تھیں۔ میں اپنی بیٹی چیلسی کے ساتھ لندن میں مٹر گشت کر رہی تھی۔ ہم نے انٹر ہوٹل کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھا تو ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ اس نے بتایا کہ بینظیر بھٹو اس ہوٹل میں مقیم ہیں اور تھوڑی دیر بعد یہاں پہنچنے والی ہیں۔ یہ سن کر ہم بھی قطار میں کھڑے ہو گئے۔ ہم نے بینظیر بھٹو کو قریب سے گزرتے دیکھا۔ وہ لیموزین کار سے اتریں اور بڑے باوقار اور پرسکون طریقے سے قدم اٹھاتی ہوئی ہوٹل کی لابی میں داخل ہو گئیں۔ انہوں نے زرد رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا تھا اور بڑی اسمارٹ لگ رہی تھیں“ .۔
آگے چل کر ہیلری کلنٹن لکھتی ہیں۔ ”بینظیر بھٹو نے انہیں ایک طویل ملاقات میں اپنے ملک میں بدلتے ہوئے حالات پر روشنی ڈالی تھی۔ بینظیر نے ان مشکلات کا اعتراف کیا جو روایت سے ہٹ کر عوامی زندگی میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی خواتین کو پیش آتی ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنی مشکلات کا موازنہ ان چیلنجوں سے کیا جو وائٹ ہاؤس میں قیام کے دوران مجھے پیش آئے تھے۔ اس ملاقات میں بینظیر بھٹو نے اپنے شوہر آصف زرداری کے مقام و مرتبہ کی بابت یہ لطیفہ سنایا کہ اخبارات کے مطابق ملک کے اصل وزیر اعظم آصف زرداری ہیں“ .۔ ہیلری کلنٹن نے بینظیر بھٹو کی ساری سیاسی روئداد ایک جملے میں یوں لکھی۔ ”بینظیر بھٹو کو دو دفعہ اقتدار ملا۔ مگر دونوں بار کرپشن کا الزام لگا کر برطرف کر دیا گیا“ .۔
ادھر سیاست آسان نہیں۔ موت سمیت اس میں سارے خطرے موجود رہتے ہیں۔ تبھی برادرم کالم نگار وجاہت مسعود نے سیاستدانوں کی تمام تر کوتاہیوں

اور کرپشنوں کے باوجود انہیں آج کا صوفی قرار دیا ہے۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ بینظیر بھٹو کا جسد خاکی بھی گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں پہنچ گیا۔ بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی بھٹو پارٹی رہی نہیں۔ وہ روٹی کپڑا مکان اور جاگیرداری ٹھاہ جیسے سبھی انقلابی نعرے بھلا بیٹھی ہے۔ اب وہاں عوامی مفادات کی بجائے صرف اقتدار کی سیاست ہے۔ البتہ سندھی ہاریوں اور غریب عوام کی بھٹو فیملی سے عقیدت اور محبت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یہ محبت اب یک طرفہ محبت ہے اور یک طرفہ محبت کہتے ہیں اکیلے آگ کے دریا میں ڈوب مرنے کو۔ اک ایسی ہی مبتلا سندھی گداگر خاتون کا واقعہ۔ ان دنوں ابھی بینظیر بھٹو کی قبر تازہ تھی کہ وہ گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں پھول بیچنے والوں کے پاس پہنچی۔ اپنا ”چبا کھڑبا“ سلور کا کاسہ آگے بڑھایا۔ دکاندار اس میں ایک سکہ ڈالنے لگا تو بول اٹھی۔ ”نہیں۔ سکہ نہیں۔ گلاب کی تھوڑی سی پتیاں“۔ دکاندار نے حیرت سے پوچھا۔ ”انہیں کیا کرو گی؟“ بولی! ”اندر بی بی رانی کی قبر پر ڈالوں گی“۔

Facebook Comments HS