پشتون تحفظ موومنٹ اور وزیرستان


 وزیرستان میں سیکیورٹی کی مخدوش صورت حالات کے مدنظر انہیں مجبورا ڈیرہ اسماعیل خان میں رہنا پڑا جہاں 2009 کے فوجی آپریشن کے باعث اور بھی بہت سے لوگ پناہ گزین تھے۔ علی یاد کرتے ہیں کہ ”وہ طویل اور تاریک وقت تھا جب ہمارے لوگوں کو ہر ممکن مصائب کا سامنا کرنا پڑا“ وہاں بہت سے فوجی آپریشن ہوئے لوگ بے گھر ہو گئے اور بازار مسمار کر دیے گئے۔ ٹارگٹ کلنگ اور خود کش حملے روزانہ کا معمول تھے۔ علی نے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ریاست صرف اپنی قوتوں کی حفاظت کرنا چاہتی تھی۔

 ”طالبان اور القاعدہ باقاعدگی سے عدالتیں لگاتے تھے اور سزائیں سناتے تھے لیکن حکومت کی رٹ محض دفاعی اداروں کے کیمپوں تک محدود تھی“۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جب اپنے ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی تو انہیں مجبوراً پچھلے سال فروری میں پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ علی کے مطابق ”پشتون تحفظ موومنٹ نے پشتون نوجوانوں کو ایک ایسی طاقت میں بدل ڈالا ہے جو واضح انداز میں اپنی تکالیف اور ان مظالم کا ذکر کرتی ہے جن سے وہ گزرے ہیں۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی کے اداروں نے چیک پوسٹ پر چیکنگ کے اس عمل کو آسان بنا دیا ہے جو پہلے شہریوں کو وزیرستان آنے اور جانے والوں کو گھنٹوں تک کھڑا کرکے انتظار کرواتے تھے۔ ان اداروں نے وزیرستان کے باشندوں کے لئے خصوصی بائیو میٹرک کا نظام وطن کارڈ بھی ختم کر دیا ہے جو وزیرستان کے تمام باشندوں کو سفر کرنے کی غرض سے اپنے پاس رکھنا پڑتا تھا۔

 ”ہماری موثر مہم نے ان اداروں کو اپنے کام کے انداز کو بدلنے پر مجبور کیا“۔ وسیع تناظر میں علی کا ماننا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے مظاہروں نے وزیرستان کی بین الاقوامی دہشت گردی کے اڈے کی شناخت کو ختم کر ڈالا ہے۔ ”جب ہمارے نوجوان نسل نے امن کے لئے ایک غیر متشدد جدوجہد شروع کی تو پشتونوں نے اس تصور کو مٹا ڈالا کہ پشتون جنگجو قوم ہے۔ لیکن یہ سب وزیرستان کے بے شمار افراد نے خون کا نذرانہ دے کر حاصل کیا ہے۔

 جون میں جب مقامی طالبان نے علی وزیر پر حملہ کیا تو اس کے دوران پشتون تحفظ موومنٹ کے چار مظاہرین قتل اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں نے فیس بک اور ٹویٹر کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وڈیوز اپ لوڈ کیں جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ دہشت گرد ان کے ساتھیوں پر فائرنگ کر رہے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار عسکریت پسندوں کو روکنے کے لئے کچھ خاص اقدام نہیں کر رہے تھے۔ ان وڈیوز نے طالبان کے تسلط کو پوری دنیا پر آشکار کیا جس کے نتیجے میں حکومت کو وانا کے بازار کا کنٹرول طالبان سے واپس لینا پڑا۔

 حکام ان طالبان کو امن کمیٹی کا نام دیتے تھے۔ جولائی کے عام انتخابات میں علی وزیر نے جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ وانا کے رہائشیوں نے ان کے انتخابی مہم کے اخراحات اٹھائے اور انتخابی مہم اس کی رضاکاروں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ علی کہتے ہیں کہ وزیرستان تبدیل ہو چکا ہے کیونکہ لوگ اب جبر سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ “ اب ہر ظلم کے بعد ہمارے لوگ باہر نکلتے ییں اور پر امن احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں ”۔ علی کا کہنا ہے کہ وزیرستان سے فوج کا انخلا ہونا چائیے اور معاملات سول انتظامیہ کو سونپ دینے چاہیے۔ اگر ریاست اپنی غیر انسانی حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گی تو اسے مستقبل اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان مین قیام کے دوران علی کی ملاقات منظور احمد پشتین سے ہوئی جو ان دنوں ویٹرنری سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا تھے اور جو بعد میں پشتون تحفظ موومنٹ تحریک کے روح روان بن گئے۔ منظور پشتین جن کی عمر محض چوبیس برس ہے ان کے خاندان کو 2009 میں وزیرستان سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔ ان کا ابتدائی احتجاج اپنے محسود قبیلے کی مدد تک محدود تھا جو ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

 ان کے ہزاروں افراد مارے گئے جن میں سینکڑوں قبائلی بزرگ بھی شامل تھے اور جن میں سے زیادہ تر کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ محسود قبیلے کو لڑائی کے دوران ہزاروں گھر بھی کھونے پڑے جس کے باعث انہیں قریب آٹھ برس تک اپنے آبائی علاقے سے ہجرت اختیار کرنی پڑی۔ منظور نے مجھے بتایا کہ شدت پسندی کو یہاں زبردستی مسلط کیا گیا۔ جو لڑائی یہاں دہشت گردی کے نام پر لڑی گئی وہ جعلی تھی کیونکہ دونوں مقابل قوتوں نے شہریوں کو دہشت زدہ کیا۔

منظور پشتین کا ماننا ہے کہ اب تبدیلی یہ آئی ہے کہ تمام متاثرہ افراد اپنے وہ حقوق حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں جن کی ضمانت آئین پاکستان نے دی ہے اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا احتساب چاہتے ہیں۔ پشتین کہتے ہیں کہ جو مصائب وزیرستان کے باشندوں نے جھیلے ہیں وہ ان کی سوچ کو بدلنے کا سبب بنے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کی طالبان کے خلاف مزاحمت اور فوج کی زیادہ تعداد میں تعیناتی ماضی میں اس لئے ناکام ہوئی کیونکہ ان کے خلاف آواز اٹھانے والے خاموشی سے مار دیے گئے جس کہ وجہ سے لوگ خوفزدہ تھے۔

 ”اب ہم نے آبادی کو متحد کر لیا ہے اور وہ احتجاج میں بھی متحد ہیں۔ بلکہ گزشتہ سال جنوبی اور شمالی وزیرستان میں غیر روایتی احتجاج دیکھنے میں نظر آئے۔ بہت سے معاملات میں ان احتجاجوں نے حاکموں کو ان کے مطالبات ماننے پر مجبور کر دیا۔ قبائلی رہنما ملک عمر خان کہتے ہیں کہ“ ہم مختلف نوعیت کی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں لیکن اب ہمارے پاس ان کو حل کرنے کی کنجی موجود ہے ”۔ ملک عمر خان نے اگست میں ایک کامیاب دھرنا کیا تھا جس نے حکام کو اس بات کی تفتیش کرنے پر پر قائل کر لیا تھا کہ کب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میرانشاہ میں احتجاجی مظاہرین پر گولیاں چلائی تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7