پشتون تحفظ موومنٹ اور وزیرستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ایک سال کے دوارن پشتون تحفظ موومنٹ نے جنگ زدہ وزیرستان کو دہشت گردوں کی آماجگاہ کے بجائے انسانی حقوق کے میدان جنگ میں بدل کے رکھ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحریک اصل تبدیلی لا بھی پائے گی۔ ؟

انور وزیر نے اس جنگ کو بہت قریب سے دیکھا ہے جس نے اس کے آبائی علاقے کو نیست و نابود کردیا ہے۔

نائن الیون سے پہلے وزیرستان پاکستان کا ایک پسماندہ ترین اور فراموش کردہ علاقہ تھا۔ اگرچہ یہاں پر بسنے والے پشتون کو تمام تر قانونی حقوق سے محروم کردیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وزیرستان دھیرے دھیرے ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ تعلیم تک محدود رسائی کے باوجود مڈل کلاس پروفیشنلز کی ایک اچھی خاصی تعداد پیدا ہو چکی تھی۔ خلیجی ریاستوں میں وسیع پیمانے پر نوکریاں، زرعی انقلاب اور افغانستان سے ملحقہ سرحد کے راستے غیر رسمی تجارت جیسے عوامل نے وزیرستان کے معاشی ڈھانچے کو بدل ڈالا تھا۔

جب 11 ستمبر کے بعد ہمسایہ ملک افغانستان میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی جس کے دوران افغان طالبان، القاعدہ، ازبکستان کی اسلامی تحریک جیسے دہشت گرد گروہوں نے امریکی بمباری سے بچنے کے لئے وزیرستان کا رخ کیا۔ انہوں نے جنوبی اور شمالى وزیرستان میں پناہ لی جہاں پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد انہوں نے مقامی لوگوں کو ہراساں کرنا شروع کیا اور یہاں تک کہ ان پر تشدد کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

مقامی لوگ اتنے طاقتور نہیں تھے کہ ان گروہوں کی مزاحمت کریں۔ خود پاکستانی حکام نے بھی ان گروہوں کو وہاں پر جمع ہونے سے نہیں روکا۔ اس تمام صورتحال سب سے کا تکلیف دہ پہلو یہ سامنے آیا کہ وزیرستان کی شبہہ دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والوں کے طور پر پیش کی گئی۔ جبکہ دوسری طرف حکام تواتر کے ساتھ وہاں پر دہشت گردوں کی موجودگی کے دعوے جھٹلاتے رہے۔ مگر انور نے اس کے برعکس اپنی آنکھوں سے زمینی حقایق دیکھے۔

2005 میں انور کو جب پولیٹیکل انتظامیہ میں نوکری ملی تو اس وقت تک تشدد اپنی عروج تک پہنچ چکی تھی۔ ان قبائلی بزرگ اور عمائدین جنہوں نے وزیرستان کے وزیر، محسود، بیٹنی داوڑ اور سلیمان خیل قبیلوں کو آپس میں جوڑ رکھا تھا ان میں سے بیشتر کو قتل کر دیا گیا۔ مقامی جرائم پیشہ افراد عسکریت پسندوں کا روپ دھار چکے تھے اور وہ غیر ملکی جہادیوں کے محافظوں کے طور پر منظرعام پرآگئے۔ اس کے علاوہ بیروزگار نوجوان کی ایک پوری نسل کو نئی جہادی نسل میں بدل دیا گیا۔

انور وزیر نے مجھے بتایا ”یہ سب سے تاریک اور کٹھن دور تھا کیونکہ کوئی بھی شخص عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے بھائی کی موت پر ماتم تک کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ ماتم کرنے سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنے مقتول بھائی کی گناہ میں برابر کا شریک ہے۔

انور کی عمر تقریبا 25 تھی اور ابتدائی ایام میں انہیں تعجب ہوا کہ آخر حکومت اس خونریزی کو روکنے میں ناکام کیوں ہے؟ لیکن دھیرے دھیرے انہیں احساس ہوا کہ اسلام آباد خودساختہ بدامنی کو اپنے قومی مفاد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ حکومت نے افغان سرحد سے منسلک وزیرستان، خیبر پختونخوا (سابقہ صوبہ سرحد)، فاٹا اور بلوچستان کو ایک حکمت عملی کے تحت طالبان کی آماجگاہ کے طور پر استعمال کیا۔

اسلام آباد نے 90 کی دہائی میں جنوبی افغانستان میں ابھرنے والی سخت گیر تحریک طالبان کی پشت پناہی کی تھی تاکہ اس ملک کی داخلی سیاست کو اپنی مرضی کا رخ دے سکے۔

پاکستان نے 1980 کی دہائی میں روس کے قبضے کے دوران جن مجاہدین دھڑوں کی پشت پناہی کی تھی وہ سوویت فوج کی انخلا او 1992 میں روس نواز افغان حکومت کے خاتمے کے بعد آپس میں ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی میں مصروف ہوگئے تھے۔ اسلام آباد کی خواہش تھی کہ طالبان کابل کی تخت پر براجمان ہوں تاکہ وہاں پر اسلام آباد کی حمایت یافتہ حکومت ہو۔

پاکستان کی ہر حکومت اور فوج نے دہشت گردوں کو پناہ دینے یا ان کی مدد کے متعلق لگائے گئے الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ مگر وزیرستان کے باشندوں نے پاکستان کی تردید کو کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ انور چشم دید گواہ تھا کہ کیسے پاکستان کی مقتدر قوتوں نے 2007 میں بغاوت کے نتیجے میں حرکت اسلامی ازبکستان کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کے بعد طالبان دھڑوں کی اس لئے مدد کی تا کہ وہ وزیرستان کے مختلف علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ 2007 سے 2018 تک طالبان کے کچھ دھڑوں جنہیں حکام امن کمیٹیاں کہا کرتے تھے نے مقامی لوگوں پر بدترین مظالم ڈھائے۔ ان کے بقول ”وہ لوگوں پر ٹیکس عائد کرتے، نجی عقوبت خانے چلاتے، گشت کرتے اور اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے علاقے آپس میں بانٹ لیتے تھے۔ انور کے مطابق“ میں نے دیکھا کہ عسکریت پسند فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود ایک ریاست کے طور پر کام کرتے رہے ”۔

وزیرستان کے لوگوں کو ایسا کوئی فورم یا ادارہ دستیاب نہیں تھا کہ ان تک اپنی شکایات پہنچا سکے۔ انور کہتے ہیں کہ حکومتی اہلکار ہونے کے باوجود وہ خود بھی اس وقت کچھ نہ کر پایا جب 2010 میں سیکیورٹی اداروں نے ان کے والد کی بس کو آگ لگا دی جو ان کے خاندان کی کفالت کا اہم ذریعہ تھے۔ انور کا دعوی ہے کہ بس کو سزا کے طور پر جلایا گیا تھا کیونکہ سپاہیوں کو بس میں فرٹیلائرز (کھاد) کی ایک بوری ملی تھی۔ فوج نے وزیرستان میں کیمیائی کھاد پر پابندی عائد کر رکھی تھی کیونکہ اس سے دھماکہ خیز مواد کے لئے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ان کے بقول ”حکومت نے کبھی بھی معاوضے کے لئے دی جانے والی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا“۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •