پشتون تحفظ موومنٹ اور وزیرستان


نومبر میں جنوبی وزیرستان انتظامیہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کے تمام مطالبات احتجاج کے شروع ہونے سے پہلے ہی تسلیم کر لئے تھے۔ جنوری میں ایک خاتون اور بچے کو شمالی وزیرستان کے گاؤں خیسور میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کرنے کے مبینہ واقع کے بعد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جنہوں نے فوج کے اس بیانئے کو نقصان پہنچایا جس کے مطابق ایک بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔

جون 2014 میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان کے دس لاکھ رہائشیوں کو تین سال تک اپنے گھروں سے دور رہنا پڑا تھا۔ ان میں سے کئی ہزار افراد اب بھی اس کیمپ میں رہتے ہیں جو بکاخیل کے پتھریلے صحرائی علاقے میں قائم ہے۔ پشتین کا کہنا ہے کہ حالیہ ایکٹوزم نے طالبان اور انتظامیہ کو مقامی شہریوں پر ظلم ڈھانے سے پہلے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پشتین کے مطابق وزیرستان کے رہائشی اب باخبر ہیں اور فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان کسی بھی لڑائی پر مزاحمت کرتے ہیں بالخصوص حکومت کے حامی اور ہتھیار رکھنے والے طالبان۔ ”وزیرستان کی آبادی اب کسی عسکریت پسند یا طالبان کو برداشت نہیں کرے گی۔ اس کا کہنا ہے کہ“ وزیرستان کے لوگ اب ان لوگوں سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے ”۔

پشتین کہتے ہیں کہ وزیرستان کے لوگ اور سارا فاٹا کا علاقہ اب اس بات کو اچھی طرح جان چکے ییں کہ وہ اس لڑائی میں محض مہرے تھے جو دوسروں کے مفاد اور فوائد کے حصول کے لئے لڑی گئی۔ ”تقابلہ کیجئے کہ کس کا علاقہ خوشحال ہوا اور کس کا برباد ہوا“۔ منظور پشتین نے یہ بات جنگ سے متاثرہ علاقوں اور خوشحال جنوبی اکائیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کی۔

پشتین کہتے ہیں کہ ا ن کی ایکٹوزم نے اسٹبلشمنٹ اور طالبان دونوں کو ان سے متنفر کر دیا ہے۔ ”میرے سمیت ہماری پوری قیادت اور کارکنوں کو ہر جگہ ہراسانی اور سزاوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے“۔ جبکہ عسکریت پسندوں نے وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کئی کارکنوں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے بہت سے دیگر کٰارکنوں کو عدالتی مقدمات کا سامنا ہے۔ بہت سے کارکنوں کو سرکاری اور نجی ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے۔ منظور پشتین اور علی سمیت کئی رہنماؤں پر غیر ملک سفر کرنے اور پاکستان میں نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ییں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی میڈیا کوریج پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ اس کے کارکن سارا سال جیل جاتے یا نکلتے ہیں۔

پشتین کا کہنا ہے کہ ہماری وجہ سے فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے کاروبار کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ نائن الیون کے بعد سے واشنگٹن نے دفاعی اور معاشی امداد کی مد میں اسلام آباد کو تیس ارب ڈالر سے زائد رقم دی ہے۔ امریکہ کے ڈرون حملے دہشت گردوں کے خلاف سب سے موثر ثابت ہوئے ہیں۔ وزیرستان میں 379 سے زائد ڈرون حملوں میں القاعدہ، حرکت اسلامی ازبکستان اسلامی، سنکیانگ میں سرگرم ترکستان کی اسلامی تحریک، اور پاکستانی اور افغان طالبان کے کئی رہنما مارے گئے۔

 لیکن ڈرون حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کے باعث مظاہروں نے جنم لیا۔ پاکستانی دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ ڈرون حملوں کی خاموش تائید کرتی تھی لیکن ملک میں ایسٹیبلیشمنٹ کی تائید کے ساتھ ڈرون حملوں کے خلاف ایک مہم بھی چلائی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کو متاثر کرتے ہیں۔ پشتین نے مجھے بتایا کہ بین الاقوامی برادری کو ہماری جنگ کی قیمت چکانے کی تحقیقات کرنی چائیے جو ان کی جانب سے پاکستانی فوج کو دی جانے والے امداد کی وجہ سے ہم نے چکائی ہے۔

پاکستان کی طاقتور فوج کا البتہ تنقید برداشت کرنے کے برداشت کم ہے لیکن 1958 میں پہلا مارشل لا لگانے کے بعد چار فوجی ڈکٹیٹروں نے ملک کی ستر سالہ تاریخ میں سے آدھی تاریخ میں پاکستان پر حکمرانی کی۔ جرنیل اکثر خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے کرتے ہیں چاہے حکومت کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ فوج سمجھتی ہے کہ اس سے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی پاکستانی کو محب وطن قرار دیں یا اسے غدار۔

دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ فروری میں پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام سے نبٹنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اس کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے چند کم اہمیت کے حامل مطالبات تسلیم کر لئے جائیں جن میں کرفیو کے دورانیوں میں کمی، چیک پوسٹوں پر تلاشی کے عمل میں نرمی، اور وزیرستان میں بارودی سرنگوں کا خاتمہ۔ اپریل تک سینکڑوں گمشدہ پشتون بھی اپنے گھر لوٹ چکے تھے۔

ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر البتہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ راؤ انوار نامی پولیس آفیسر جو نقیب الہ محسود کے قتل میں ملوث تھے نے خود کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کر دیا بعد میں انہیں ضمانت مل گئی جس کے بارے میں پشتون تحفظ موومنٹ کا خیال تھا کہ انہیں اس معاملے میں ریاست کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس دوران پشتون تحفظ موومنٹ نے عام انتخابات کے سال میں اپنی مہم جاری رکھی۔ مقتدر قوتوں نے ان عام انتخابات میں نواز شریف کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے ہر ہتھکنڈا آزمایا۔ گو نواز شریف کا ووٹ بنک پنجاب میں ہے جو کہ مقتدر قوتوں کا حامی صوبہ کہلاتا ہے لیکن نواز شریف نے وہاں اپنے آپ کو اسٹیبلیشمنٹ مخالف رہنما کے طور پر تسلیم کروایا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاجوں نے نواز شریف کے سویلین بالادستی اور ووٹ کو عزت دو کے بیانیوں کو تقویت بخشی۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی مہم نے فوج کی اعلی قیادت کو سخت برہم کردیا اور پچھلے سال اپریل کے وسط میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بیان جاری کیا کہ ”کوئی بھی انجینئرڈ احتجاج جو خون کے نذرانوں اور قومی خزانے سے وسائل استعمال کر کے جیتی گئی کامیابی کو ناکامی میں بدلنا چاہتی ہے وہ کامیاب نہیں ہو گا“۔ جنرل باجوہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کا نام لیے بغیر اس سے ہائبرڈ جنگ کا حصہ قرار دے دیا جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنا تھا۔

 مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7