پشتون تحفظ موومنٹ اور وزیرستان


 ان کے خاندان نے اگلے دو ہفتوں میں حکام سے جو درخواستیں کیں ان کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ طاہر محفوظ ہیں اور جلد ہی بازیاب کرالیا جائے گا۔ محسن نے یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا اور کہا کہ“ اگر ایک پولیس افسر کو بازیاب نہیں کرایا جا سکتا تو اس کی وجہ سے محکمہ پولیس کا حوصلہ پست ہو ہوجائے گا۔ ”۔ نومبر 11 کو شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنماؤں اور کارکنوں نے طاہر کی بازیابی کے لئے 14 نومبر کو اسلام آباد میں ایک احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا.

لیکن 13 نومبر کو طاہر کی مسخ شدہ لاش کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئیں۔ ان کی لاش کے ساتھ لکھے گئے ایک پیغام میں داعش یا اسلامک سٹیٹ نے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ شہریار آفریدی وزیر مملکت برائے داخلہ نے اس خبر کی تردید کرنے کی کوشش کی اور صحافیوں کو بتایا کہ ”یہ قومی سلامتی اور کسی کی جان کا معاملہ ہے اور اسے سرعام زیر بحث نہیں لایا جا سکتا“۔ اگلے دن طاہر کے قتل کی تصدیق کر دی گئی اور پاکستانی حکام نے کہا کہ اففانستان کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تا کہ طاہر کی لاش کو افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار سے واپس لایا جا سکے۔

 طاہر کے قتل کی وجہ سے پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت ایک پولیس افسر کی حفاظت کرنے میں کیوں ناکام رہی؟ تحریک کے قائدین نے اس واقعے کو اپنے لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا حصہ قرار دیا۔ جب طاہر کو دفنایا گیا تو اسی دن ان کے بیٹے امجد طاہر نے بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس واقعہ میں دو ممالک ملوث ہیں اس لئے اس کی تحقیق کے لئے ایک بین الاقوامی انکوائری کمیشن قائم ہونی چائیے۔

نومبر 15 کو وزیر اعظم۔ عمران خان نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا جبکہ فوجی ترجمان آصف غفور نے اس معاملے میں کابل کے ملوث ہونے کا ذکر کیا۔ لیکن پاکستانی صحافی اعزاز سید نے واقعہ کے کچھ نئے پہلووں کو آشکار کیا۔ اعزاز سید کے مطابق طاہر کے بھائی نے انہیں بتایا کہ طاہر نے غائب ہونے سے پہلے بھاری تعداد میں اسلحہ پکڑا تھا۔ لیکن طاہر کے اعلی افسران نے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسلحہ اور اس کے ساتھ پکڑے جانے والے افراد اور ان کے ٹرکوں کو چھوڑ دیں۔

 اعزاز کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر تفتیش سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ طاہر کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ طاہر کے چھوٹے بھائی احمد الدین داوڑ کا کہنا ہے کہ حکومتی تفتیش ابھی تک شروع نہیں ہوئی۔ 22 نومبر کو ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”ہم نے بین الاقوامی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب ہم پاکستانی دفاعی اداروں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم پر متفق ہو گئے ہیں اور جلد ہی اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

 لیکن پشتون تحفظ موومنٹ اس بارے میں پرامید نہیں تھی۔ منظور پشتین نے کہا کہ اسلام آباد مسلسل اس مقدمے کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے ایک صحافی کو بتایا کہ“ اگر یہ تحقیقات پاکستانی حکام کریں گے تو اس بات کے امکانات بیحد کم ہیں کہ حکومت کی جانب سے بنایا جانے والا کمیشن کسی انفرادی شخص یا ادارے کی طاہر کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرے وہ اس سمت کوئی اشارہ بھی نہیں کر سکتے ”۔

تین ماہ بعد طاہر کا خاندان حکومتی تفتیش سے بیحد مایوس ہو گیا۔ طاہر کے بیٹے امجد نے فروری میں ڈان ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”ہمیں حکومتی تفتیش پر اب کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ہم ایک آزاد ادارے سے اس معاملے کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں جو اصل چہروں کو بے نقاب کر سکے“۔

خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست پر اعتماد کے اس قدر فقدان کو حکومت کی جانب سے نرم اقدامات اٹھانے سے ہی کم کیا جا سکتا ہے۔ غلام قادر داوڑ جو ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مصنف ہیں اور وزیرستان اور فاٹا کے امور پر گہری نگاہ رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ گو کاغذوں پر فاٹا کی قانونی حیثیت تبدیل ہو چکی ہے لیکن حقیقت میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بننے سے جو ریلیف فاٹا کے رہائشیوں کو ملی تھی وہ اس سال کے شروع ہی میں ختم ہو چکی تھی۔

 انہوں نے اکتوبر میں اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ”یہ پاکستان کا غریب ترین علاقہ ہے اس کے سماجی انڈیکیٹرز ثابت کرتے ہیں کہ اسے ستر برس سے نظر انداز کیا گیا۔ عسکریت ہسندی نے اس علاقے کے انفراسٹرکچر کو تباہ اور آبادی کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ “ ان کا کہنا ہے کہ بے گھر پشتون اب اپنے تباہ شدہ مکانوں اور روزگار کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ حکومت کی ان کی دوبارہ بحالی کے لئے امداد کے وعدے کو تکمیل تک پہنچنے میں بیحد وقت لگ رہا ہے۔ ملٹی ڈونزز ٹرسٹ کی جانب سے منصوبوں کے لئے سرمایہ فراہم کیا گیا لیکن وہ شروع نہیں ہوئے ہیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ موجودہ یا نئے منصوبوں کے لئے مزید رقم آئے گی۔

غلام قادر کی کتاب انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے جس کا نام ہے کتاب ”پکار“ جس میں ان کے آبائی علاقے کے مصائب کی منظر کشی موجود ہے۔ ان کی اب حکومت کو یہ نصیحت ہے کہ وزیرستان اور باقی فاٹا میں جنگی بنیادوں پر اصلاحات اور ترقی لائی جائی۔ انہوں نے تحریر کیا تھا کہ ”یہ ناقابل فہم ہے کہ کیوں ان علاقوں کو پسماندہ اور زخم خوردہ چھوڑ دیا جائے

26 نومبر کو شمالی وزیرستان کے دورے کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اس خطے کے مسائل سے نبرد آزما ہونے میں سنجیدہ ہے۔ قبائلی رہنماؤں سے عمران خان نے کہا کہ ”ہمیں یاد رکھنا چائیے کہ قبائلی علاقوں میں ہم نے جو امن قائم کیا ہے اسے تباہ مت ہونے دیں۔ اس معاملے میں سارا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے ہم قبائلی علاقوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے برابر لانا چاہتے ہیں اور ہم کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے کے لئے تیار ہیں جس سے پاکستان کے لوگوں کا فائدہ ہو۔

 

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7