پشتون تحفظ موومنٹ اور وزیرستان


 جلد ہی ان کا یہ بیان یہ مقتدر قوتوں کا بیانیہ بن گیا۔ جنرل باجوہ نے 14 اپریل کو نئے تربیت یافتہ فوجی افسروں سے خطاب کے دوران کہا کہ ”ہمارے دشمنوں کو معلوم ہے کہ وہ ہمیں ایماندارانہ طریقے سے شکست نہیں دے سکتے اس لئے انہوں نے ہم پر ہائبرڈ جنگ مسلط کی ہے۔ وہ ہمارے حوصلے کو ہمیں اندر سے کمزور کر کے توڑنا چاہتے ہیں“۔

شاید یہی وجہ تھی کہ پشتونوں کے احتجاج پہلے روز سے ہی میڈیا پر پابندی کا شکار ہے۔ جب فروری 2018 میں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کے نتیجے میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جنم ہوا تو بہت کم صحافتی اداروں نے اسے رپورٹ کیا۔ بے شمار صحافیوں نے اس معاملے پر خود ساختہ سینسرشپ کو ترجیح دی کیونکہ پاکستان پہلے ہی صحافیوں کے حوالے سے دنیا بھر میں خطرناک ترین ملک گردانا جاتا ہے۔ لیکن جون میں طالبان کے ارکان جنہیں امن کمیٹی کہا جاتا ہے کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے غیر مسلح کارکن کے قتل نے نئے تنازعے کو جنم دے دیا اور مقتدر قوتوں کو ایک بار پھر اس معاملے پر اہنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت درپیش ہوئی۔

 4 جون کو ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے ان کے مسائل حل کر دیے۔ لیکن پھر بھی اب سوشل میڈیا پر ان کی مہم کیوں جاری ہے؟ کیسے افغانستان میں ایک ہی دن کے اند 5 ہزار سوشل میڈیا اکاونٹ بنائے گئے؟ اور کیسے وہ ٹوپی جو پاکستان سے باہر بنی اور پاکستان بھیجی گئی [وہ پشتون تحفظ موومنٹ کا نشان بن گئ]؟

آصف غفور نے طالبان امن کمیٹی کا بھی دفاع کیا ”امن کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کئی سالوں تک لڑی، اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کیا اور اب سٹبلایزیشن کے فیز میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے“۔ ان کی باتوں سے یہ عندیہ ملا کہ امن کمیٹی کے ارکان نے پی ٹی ایم کے ارکان کو فوج مخالف اور ریاست مخالف نعروں کی وجہ سے نشانہ بنایا۔ آصف غفور باجوہ کا کہنا تھا کہ ”اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک جرگہ بلایا گیا جب امن کمیٹی کے ارکان انتظار کر رہے تھے تو پشتون تحفظ موومنٹ کے کچھ ارکان آئے اور ان کے درمیان جھگڑا ہوا۔ جیسا کہ ان کے کلچر میں ہوتا ہے ان کے پاس ہتھیار تھے اور انہوں نے ایک دوسرے پر فائر کھول دی۔

جہاں مقتدر قوتوں کو ایک طرف پشتون تحفظ موومنٹ کے بیانئیے کو چیلنج کرنے کے لئے گلی محلوں اور آن لائن پر زیادہ وقت صرف کرنا پڑا تو دوسری طرف ان قوتوں نے سٹریٹیجک فیصلے بھی لئے۔ ڈیورنڈ لائن پر خاردار تار لگا دی گئی اس کے علاوہ فاٹا کا صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جانا ایک بڑا اقدام تھا۔

مئی میں اپنی آخری قانون سازی میں سابقہ پارلیمان نے فاٹا میں بسنے والے ساٹھ لاکھ پشتونوں کو مساوی حقوق فراہم کر دیے اور ان کے علاقے کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا البتہ اس عمل کو مکمل کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ مقتدر قوتوں کی ایما پر ضم کرنے کے اس عمل کو کئی دھچکے لگے۔ ضم کرنے کا منصوبے میں مختلف عدالتی، سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی اصلاحات کا ذکر کیا گیا جس کے باعث بیوروکریسی میں اثر و رسوخ کی جنگ شروع ہو گئی۔ اکتوبر میں پشاور ہائی کورٹ نے فاٹا کے حوالے سے انٹیرم ریگولیشن کے قانون کو آئین سے متصادم قرار دیا۔ فاٹا میں کوئی بھی مزید غلط قدم پشتون تحفظ موومنٹ کے تحفظات میں اضافے کا باعث بنے گا۔

گرم موسم کے مہینوں اور عام انتخابات کی مہم کے باعث پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاج میں کمی آئی۔ اکتوبر میں آصف غفور نے لندن دورے کے موقع پر اشارہ دیا کہ پاکستانی دفاعی اسٹیبلیشمنٹ پشتون تحفظ موومنٹ کو ضائع شدہ قوت سمجھتی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ”ہم سجھتے ہیں کہ منظور پشتین کے پاس باہر ملک اجتماع کرنے کی قوت موجود نہیں ہے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ان احتجاجوں کی پشت پر کون ہیں اور کون ان کے لئے سرمایہ فراہم کر رہا ہے“۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت اس وقت کہاں تھی جب قبائلی علاقے دہشت گردی کی زد میں تھے۔ اس وقت کوئی شور نہیں مچا تھا، لیکن اب جب ہم نے ان علاقوں کو محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے تو ہمارے دشمن پاکستانیوں میں نفرت کے بیج بونے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے اس کا جواب بنوں میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد کر کے دیا۔ 28 اکتوبر کو اس کے ہزاروں کارکنان نے خالی سپورٹس سٹیڈیم کو بھر دیا۔ شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ”آپ کی مدد سے ہم نے مقتدر قوتوں کو اس قدر پیچھے دھکیل دیا ہے کہ جلد ہی وہ عوام کی مرضی کے آگے ہتھیار ڈال دیں گی اگر انہوں نے عوام کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا تو یہ پشتون، پختونخواہ کے باسی انہیں سر جھکانے پر مجبور کر دیں گے“۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے بنوں میں اجتماع کے دو روز بعد ایک پولیس افسر جس نے اس شہر میں نیک نامی کمائی تھی لاپتہ ہو گیا۔ پولیس سپرٹنڈنٹ طاہر داوڑ کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا۔ ان کے خاندان اس اچانک گمشدگی پر سکتے میں آگئے۔ طاہر جو وزیرستان سے تعلق رکھتا تھا اپنی بہادری کے لئے کئی تمغات جیت چکے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے بھی حیران تھے۔ وہ انہیں قابل اور پیشہ ور افسر کے طور پر جانتے تھے جو دہشت گردوں کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہوئے تھے اور ایک خود کش حملے سے بھی زندہ نکل آئے۔

 بنوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک کارکن نور اسلام داوڑ نے اس گمشدگی پر احتجاج کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ”کیا بہادری، ایمانداری اور پیشہ وارانہ خدمات کا یہ صلہ ہے کہ اٹھا لئے جاو؟ پشتون تحفظ موومنٹ کے اس اجتماع نے یہ مطالبہ کیا کہ طاہر کو فورا بازیاب کروایا جائے۔ لیکن اسی دن وزیر اعظم کے میڈیا کے مشیر افتخار درانی نے طاہر داوڑ کے اغوا کی تردید کر ڈالی۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے افتخار درانی نے کہا کہ“ طاہر اسلام آباد میں چھٹی پر آئے تھے، اور ان کا موبائل فون کچھ دیر کے لئے بند ہو گیا جس کے باعث ان کا خاندان پریشان ہو گیا اور انہیں یہ تاثر ملا کہ شاید طاہر کو اغوا کر لیا گیا ہے ”۔

 

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7