رمضان المبارک کے آداب


2۔ نماز تہجد کا قیام

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل میں نماز تہجد کے بارے میں یوں بیان فرمایا ہے :

اور رات کو بھی تو اس قرآن کے ذریعہ سے کچھ سو لینے کے بعد شب بیداری کیا کر جو تجھ پر ایک زائد انعام ہے۔ ( 17 : 80 )

اس آیت کریمہ میں نماز تہجد کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ کہ دن کے وقت آنحضرت ﷺ کے کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے مگر پھر بھی نماز تہجد کا اس قدر التزام تھا کہ خدا کے حضور کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے اس لئے ضروری ہے کہ رمضان کی راتوں میں سحری کے کے وقت نوافل ادا کرنے کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔ خواہ دو یا چار نوافل ہی کیوں نہ پڑھیں۔ اگر آپ نے نماز تراویح بھی پڑھی ہے پھر بھی اصل قیام اللیل یعنی نماز تہجد کی سنت کا ضرور التزام کریں کہ یہ قبولیت دعا کا خاص وقت بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی راتوں میں عبادت کرنے کے لئے خاص تحریک و ترغیب فرمایا کرتے تھے۔

بخاری کتاب الصوم میں یہ حدیث بھی آتی ہے آپؐ نے فرمایا:

جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

ترمذی کتاب الدعوات میں یہ حدیث بھی آتی ہے جو حضرت ابوہریرہؓ سے ہی مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے جس رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کا جواب دوں! کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اس کو دوں! کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں!

3۔ نماز تراویح

رمضان المبارک میں نماز تراویح بھی ادا کی جاتی ہے۔ اصل تو نماز تہجد ہی ہے۔ لیکن نماز تراویح بھی ادا کرنی چاہیے۔ حصول ثواب کا ایک موقع ہے جس میں قرآن سنا جاتا ہے اور قرآن سننے کا الگ ثواب ہے۔ جو دوست نماز تراویح پڑھتے ہیں انہیں نماز تہجد کی بھی ادائیگی کرنی چاہیے۔ اگر نماز تراویح ادا نہ ہو سکی ہو تو روزہ پھر بھی رکھا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں ایک اور بات نوجوان طبقہ کے لئے عرض کروں گا کہ بعض اوقات نوجوان طبقہ نماز تراویح نہیں پڑھتا۔

حالانکہ جب آپ مسجد کے احاطہ میں ہیں تو آپ کو اس میں ضرور شامل ہونا چاہیے ورنہ گھر جا کر جلدی سوئیں تاکہ صبح نماز تہجد کے لئے بیداری ہو سکے۔ اس وقت کو باتوں میں یا کھیل کود میں ضائع نہ کرنا چاہیے۔ بعض اوقات بچے نماز تراویح میں بھی شامل نہیں ہوتے اور والدین کے انتظار میں مسجد کے احاطہ یا ماحول میں باتیں کرتے رہتے یا شور ڈالتے پھرتے ہیں۔ اس سے اجتناب ضروری ہے۔ اول تو یہی ہے کہ رمضان میں جتنی بھی نیکیوں کی توفیق ملے کر لینی چاہئیں۔ اگر نماز تراویح نہیں پڑھنی اور آپ کی کوشش یہ ہو کہ نماز تہجد ادا کرنی ہے تو وہ تو بہت بہتر ہے لیکن ماحول میں شور نہ ہو جس سے نماز پڑھنے والوں کی نماز میں خلل واقع ہو جائے۔

4۔ ذکر الٰہی

رمضان المبارک میں خصوصاً لیکن عام دنوں میں بھی انسان اپنے آپ کو فضول باتوں سے بچائے اور اپنی زبان کو ذکر الٰہی سے تر رکھے۔ احادیث میں ذکر الٰہی کی بھی بہت فضیلت آتی ہے۔

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو! ”جنت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو۔ “ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! جنت کے باغ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں۔ (حدیقۃ الصالحین صفحہ 127 )

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو جماعت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو، فرشتے اس جماعت کو گھیر لیتے ہیں، اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اللہ کی سکینت ان پر نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ فرشتوں کی مجلس میں فرماتے ہیں۔ ”

(مسلم باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن)

حضرت ابوسعید خدریؓ ہی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج قیامت کے میدان میں جمع ہونے والوں کو معلوم ہو جائے گاکہ عزت و احترام والے کون لوگ ہیں۔ عرض کیا گیا: یہ عزت و احترام والے کون لوگ ہیں؟ ارشاد فرمایا: ”مجالس الذکر فی المساجد“ مساجد میں ذکر کی مجالس والے۔ (مسند احمد، مجمع الزوائد)

یہاں پر یہ بات لکھنی فائدہ مند ہو گی کہ ذکر الٰہی میں جہاں انسان درود شریف، تسبیح و تہلیل، حمد و ثناء اللہ تعالیٰ کی بیان کرتا ہے، وہاں نماز بھی ذکر الٰہی میں آتی ہے۔ تلاوت قرآن کریم بھی ذکر الٰہی میں شامل ہے۔ اور نوافل کی کثرت بھی ذکرِ الٰہی میں شامل ہے۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ وقت خصوصاً رمضان المبارک میں انسان ذکر الٰہی کرتا رہے۔

رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اللہ کے خوف سے اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دیں گے۔ (مستدرک حاکم)

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4